خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامحترمہ زیب النساء زیبی، نام ہے ایک عہد کا!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

محترمہ زیب النساء زیبی، نام ہے ایک عہد کا!

از سائیٹ ایڈمن اگست 11, 2020
از سائیٹ ایڈمن اگست 11, 2020 0 تبصرے 36 مناظر
37

محترمہ زیب النساء زیبی، نام ہے ایک عہد کا!

کچھ لوگ اپنے شوق یا اپنے کام سے جنونیت کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں، وہ اس امر سے بھی ماورا ء ہوتے ہیں کہ دنیا انکے کام سے یا ان سے کتنی فیضیاب ہورہی ہے یا ہوسکتی۔ ہم نمو د و نمائش کے دور میں ہیں اور یہ دکھاوا بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور اسکا سہرا سماجی ابلاغ کے ماتھے پر سجا ہوا ہے۔ سماجی ابلاغ کی بدولت تقریباً دنیا کا ہر فرد ہی شہرت سے لطف اندوز ہونے کیلئے کوشاں ہے۔کوئی شعر کہہ کر کوئی کچھ بنا کر تو کوئی کچھ بنا کر اپنی تشہیر اپنے ہی ہاتھ سے کرتا دیکھا جا سکتا ہے۔لیکن آج بھی کچھ ایسے سادہ لوح لوگ اپنے کام سے کام رکھتے ہوئے اپنے کام میں ہی مگن ہیں۔ہمارے ملک میں عزت افزائی کیلئے سڑکیں، گلیاں، پارک، عمارتیں وغیرہ نمایاں کارگردگی دیکھانے والوں کے نام سے منسوب کردی جاتی ہیں۔اسطرح سے کسی حد تک تو ان افراد کی پذیرائی ہوجاتی ہے اورعوام الناس کو کو شخصیت کے بارے میں جاننے کا بھی موقع ملتا ہے، ایسا ہی ایک بورڈہمارے علاقے میں لگا ہے جس پر زیب النساء زیبی روڈ (سڑک) لکھا ہوا ہے۔ حسب عادت ہم نے قابل احترام شخصیت زیب النساء زیبی صاحبہ کے کار ہائے نمایاں کے بارے میں جاننے کی کوششوں میں سرگرداں ہوگئے اور یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ہمارے ہی شہر میں ایک ایسا گوہر نایاب پوشیدہ ہے کہ جن کی ترویج و تشہیر ابلاغ نے شایہ شان نہیں کی یا پھر یہ محترمہ کی سادگی اور اپنے کام میں مگن رہنے کا بھی نتیجہ ہوسکتا ہے۔ آج اس مضمون کہ توسط سے کوشش کرینگے کہ زیبی صاحبہ سے بھرپور عام فہم جان پہچان کرائیں اور اپنی ادب اور ادبی لوگوں سے محبت کا کچھ حق ادا کر چلیں۔

ہمارا مشاہدہ ہے کہ ایسے لوگ بہت مشکل ہوتے ہیں اپنی شخصیت تک کسی کو رسائی دینے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے اگر آپ کسی ایک پہلو تک پہنچنے کی کوشش کرینگے تو یہ لوگ فوراً پہلو بدل لینگے اور آپ کے تسلسل کو بھٹکا دینگے۔جبکہ عملی طور پر یہ لکھنے لکھانے والے لوگ بہت سادہ ہوتے ہیں جیسا کہ دکھتے بھی ہیں۔ زیب النساء زیبی صاحبہ کی سب سے نمایاں خصوصیت کہ آپ نے روائیتی طرز کے ادب میں جدیدیت کی آمیزش بذریعہ اپنی فہم و فراست کی، اور یہ عمل اس وقت عمل میں آیا جب ادب سسک رہا تھا اور اس میں سوالنے نے ایک نئی روح پھونک دی۔

زیب النساء صاحبہ کے والدین دہلی (انڈیا) سے تعلق رکھتے تھے اور تقسیم ہند کے بعد کراچی میں مقیم ہوئے۔ آپ کی پیدائش بھی کراچی میں ہوئی سرکاری اسکول نشتر روڈ سے میٹرک کیا،محمد اقبال صاحب سے آپکا عقد سن ۷۷۹۱ میں ہو ا جوکہ خود بھی ایک سرکاری افسر تھے۔ گریجویشن شادی کے بعد مکمل کیا، جامعہ کراچی سے سیاسیات اور صحافت میں ماسٹرزکی ڈگریاں حاصل کیں، اس کے علاوہ دیگر علوم پر مختلف تعلمی درسگاہوں سے طالب علمی کا سلسلہ جاری رہا جو اس بات کی نمایاں عکاسی کرتا ہے کہ آپکوحصول علم سے کتنا لگاؤ رہا۔ آپ نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سرکاری سطح بھی نبھائیں جس میں حکومت سندھشعبہ اطلاعات قابل ذکر ہے اور آپ بطور افسر ِ اطلاعات کے عہدے ے سے ریٹائر ہوئیں۔ لیکن اعزازی مصروفیات تاحال جاری و ساری ہیں جن میں درس و تدریس سے وابستگی قابل ذکر ہے، اورآپ علم کا سمندر ہیں بھلا سمندر بھی کوئی تھمتا ہے۔

جیسا کہ مذکورہ سطور میں زیب النساء زیبی صاحبہ کی ادب کی اصناف میں سوالنے نامی اختراع کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ کیسے ممکن ہوا تو انہوں نے پہلے تو انتہائی سادگی سے اللہ کی نعمت قرار دیا اور پھر بتایا کہ شاعری کی ستر اصناف پر لکھنے اور پڑھنے کے بعد اللہ نے یہ سوالنا ہمارے دل میں ڈال دیا کہ شاعری میں کوئی ایسی اختراع موجود نہیں تھی کہ جس میں تین سطور میں سوال کیا جائے اور جواب بھی بین السطور دیا جائے یعنی سوال میں ہی جواب کا موجود ہونا، یقینا یہ شاعری پر زیبی صاحبہ کا ایک احسان ِ عظیم تسلیم کرنا چاہئے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ قلم اور کتاب میں مگن رہنی والی زیب النساء زیبی صاحبہ زمانے کی ہم رقاب بھی ہیں۔

علم سے محبت کرنے والے گھر میں پیدا ہوئیں تو آس پاس کتابوں کی خوشبو سانسوں میں تو بس گئی اور یہ خوشبو گویا رگوں میں خون بن کر بھی بہنے لگی یہی وجہ تھی کہ ابتدائی تعلیمی دور سے ہی شعر کہنا شروع کردئیے تھے۔ اپنے دور کے نامور شاعر ساحر لدھیانوی سے متاثرتھیں۔ ادب میں پیش رفت پر والد صاحب کی ہمت افزائی نے خوب حوصلہ بڑھایارہی سہی کثر والدہ کا شاعری سے شغف بھی خوب کارگر ثابت ہوا، گویا کندن بنانے کا سارا سامان قدرت نے گھر پر ہی مہیہ کر رکھا تھا۔ مقرب حسین دہلوی، رئیس امروہی جیسے شعرا ء کرام کی سنگت میسر رہی ساتھ ہی راغب مرادآبادی، آفاق صدیقی،اور ذکی عثمانی صاحب بھی استادوں میں شامل ہیں۔ محسن اعظم محسن ملیح آبادی نے ان کی دونو ں کلیات کا بغور تکنیکی جائزہ لیا پھر وہ شایع کی گئیں۔اہل علم خوب سمجھ سکتے ہیں کہ ادب کے اتنے بڑے بڑے ستونوں سے نسبت ہو تو پھر منسوب کیساہوگا۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں زیبی صاحبہ کے کام پر تین ایم فل مکمل ہوچکے ہیں اور مزید پانچ تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ دنیا جہان کی ادبی تقریبات میں میں آپ بطورخصوصی مہمانِ اعزازی بھی شریک ہوتی رہی ہیں۔آپ کی شخصیت اور آپ کے کام پر مختلف جریدے اور خصوصی نمبر شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو ادب کی دنیا کی ہمہ جہت شخصیت کہا جانا چاہیے۔ آپ نے ادب کی تقریباً ہر صنف پر طبع آزمائی کی بلکہ مزید اصناف کی ایجادات بھی کیں جوادب پر آپ کا خصوصی احسان ہے۔

زیبی صاحبہ نے طنز و مزاح پر بھی طبع آزمائی کی اور انکے دو مجموعے اس شاعری کی اس صنف پر بھی شائع ہوچکے ہیں۔زیب النساء زیبی صاحبہ ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں ان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے قلم کو کسی خاص ادبی صنف کا پابند نہیں کیا بلکہ اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا ہر صنف میں منوایا۔

زیب النساء زیبی جیسے لوگ ہمارے ملک کے درخشاں ستارے ہیں یہ ملک کو قوم کیلئے باعث فخر ہیں، یہ لوگ اپنے اپنے شعبے میں خدائی فوجدار ہیں لیکن کیا انکی گراں قدر خدمات کے اعتراف کیلئے صرف ایک روڈ پر انکے ناموں کی تختیاں لگادینا کافی ہے؟ ارباب اختیار اس جانب توجہ دیں یہ لوگ اپنی اپنی زندگیاں ملک و قوم کی خدمت کیلئے وقف کر چکے ہیں یہ اس سے کہیں زیادہ پذیرائی کے مستحق ہیں، ہم حکومت وقت سے اپنے اس مضمون کے توسط سے درخواست کرتے ہیں کہ زیب النساء زیبی صاحبہ کی خدمات کا اعتراف اعلی سطح کے سرکاری اعزاز سے کیا جائے اور ادبیات کے ادارے کی ذمہ داری لگائی جائے کہ وطن ایسے نامور ستاروں کو تلاش کریں اور انہیں منظر عام پر لائیں۔

شیخ خالد زاہد

زیب النساء زیبی کی تخلیقات کی ایک طویل فہرست ہے۔ زیب النساء زیبی کی پچیاسی سے زائد ادبی اورپچیس کے قریب نصابی کتب، تخلیقات، اور تصنیفات ہیں۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اِقرار
  • بوگس شناختی کارڈ
  • کروناوائرس: سوالات سے ٹکراتے سوالات
  • کیا کوٹہ سسٹم پر بات ہونی چاہئے؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کرفیو کا ایک سال
پچھلی پوسٹ
یوم عہد وفا – 14 اگست

متعلقہ پوسٹس

ایک نظم جو لکھی نہیں جاسکتی

دسمبر 8, 2019

پھیلے ہوئے غبار کا پھر معجزہ بھی دیکھ

مئی 2, 2020

غازی علم دین: شہید رسالتﷺ

دسمبر 4, 2025

ماں کی خاموشی اور بیٹی کی عزت

نومبر 27, 2024

پسینہ

جنوری 24, 2020

سماجی فاصلہ

جون 14, 2020

کہانی ایک رات کی

جولائی 7, 2020

جو لوگ رہنماؤں کے ہتھے چڑھے رہے

اپریل 24, 2022

فنکار تو فن پارہ و شہکار میں گم ہے

اکتوبر 27, 2025

امید کی شمع

جنوری 19, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کچھ ایسی کوزہ گری آگئی اُداسی...

نومبر 2, 2025

پندرہ سوسالہ جشنِ عید میلاد النبی...

ستمبر 26, 2025

جنوں کو رخت کیا خاک کو...

مئی 23, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں