خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرکبڑا داؤد
اردو تحاریراردو تراجم

کبڑا داؤد

کبڈا داؤد از ایرانی مصنف صادق ہدایت

از سائیٹ ایڈمن نومبر 23, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 23, 2019 0 تبصرے 665 مناظر
666

کبڑا داؤد

نہیں ، نہیں میں یہ کام ہر گز نہیں کروں گا ، اس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں ۔ دوسروں کے لئے خوشی کا باعث ہے جبکہ میرے لئے دکھ اور پریشانی ۔ ہرگز ہرگز ۔۔۔ داؤد اپنے آپ سے کہتا ہوا اپنے چھوٹے سے زرد رنگ کے عصا کو جو اس کے ہاتھ میں تھا ، زمین پر مارتا ہوا مُشکل سے چل رہا تھا ، ایسا لگ رہا تھا کہ اس نے اپنے آپ کو مشکل سے سنبھالا ہوا ہے ۔ اس کا بڑا سا منہ اس کی باہر نکلی ہوئی چھاتی اور ہڈیوں بھرے کاندھوں میں دھنسا ہوا تھا ۔ سامنے سے کرخت ، اسمارٹ اور کریہہ لگتا تھا ۔ باہر کی طرف اُٹھے ہوئے باریک ہونٹ ، لمبی بھنویں اور نیچے کی طرف جُھکی ہوئی پلکیں ، پیلی رنگت ، گالوں کی ہڈیاں نمایاں ، دور سے دیکھنے میں اس کی نازک قمیض ، اس کی اُوپر اُٹھی ہوئی پیٹھ ، لمبے بازو ، بڑی سی ٹوپی پہنے ہوئے ، سنجیدہ سی شکل بنائے ہوئے جب وہ اپنی لاٹھی کو زمین پر زور زور سے مارتا تو وہ اور بھی مضحکہ خیز لگتا تھا ۔

وہ خیابانِ پہلوی کے موڑ سے شہر سے باہر جانے والی سڑک ، دروازۂ دولت کی طرف جا رہا تھا ۔ مغرب کا وقت تھا اور موسم معمولی گرم ، بائیں ہاتھ کی طرف ڈھلتی ہوئی سورج کی روشنی میں مٹی کی دیواریں جن کی اینٹوں سے بنی ہوئی بنیادیں خاموشی سے آسمان کی طرف منہ کیے ہوئے کھڑی تھیں ۔

دائیں ہاتھ پر وہ گڑھا تھا جسے آج ہی بھرا گیا تھا ۔ اس کے نزدیک تھوڑے تھوڑے فاصلے سے اینٹوں کے نامکمل گھر دکھائی دے رہے تھے ۔ یہاں نسبتاً سکون تھا ، البتہ اِکا دُکا گاڑی یا تانگا گذرتے وقت چھڑکاؤ کے باوجود ہوا کو گرد آلود کر دیتا ۔ سڑک کے دونوں طرف بہتے ہوئے صاف پانی کی نہر کے کنارے درخت اور نہال لگائے ہوئے تھے ۔

وہ سوچ رہا تھا کہ بچپن سے اب تک لوگوں نے طنز و تمسخر یا پھر رحم کی نظروں سے اسے دیکھا ہے ۔اسے یاد آیا کہ پہلی مرتبہ جب اُستاد نے تاریخ کے بارے میں لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ (اسپارٹ) کے لوگ اپنے معذور بچوں کو قتل کرتے تھے تو سب شاگردوں نے مُڑ کر اس کی طرف دیکھنا شروع کیا تو اس کی عجیب سی حالت ہوگئی ۔ لیکن اب وہ شدید خواہش رکھتا تھا کہ تمام دنیا میں اس قانون پر عمل ہو یا کم از کم بعض ممالک کی طرح پابندی ہو کہ کوئی معذور شخص شادی نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ اسے پتا تھا کہ یہ سب اس کے والد کا قصور ہے ۔ بے رنگ سا چہرہ ، گالوں کی ہڈیاں نمایاں ، اندر دھنسی ہوئی آنکھیں اور ان کے گرد نیلے حلقے ، ادھ کھلا منہ ، اپنے باپ کو مرتے وقت دیکھا تھا ۔ وہ سارا منظر آنکھوں کے سامنے گھوم گیا ۔ بوڑھا اور ضعیف شخص جس نے نوجوان عورت سے شادی کی تھی ۔ نتیجتاً اس کے سب بچے اندھے یا معذور پیدا ہوئے ۔ اس کا ایک بھائی جو زندہ رہ گیا تھا وہ بھی گونگا اور نیم دیوانہ تھا جو دو سال پہلے مر گیا ۔

لیکن وہ زندہ تھا اپنے آپ اور دوسروں سے بیزار اور دوسرے بھی اس سے گریزاں ، لیکن اُسے تنہا زندگی گذارنے کی عادت ہو چکی تھی ۔
بچپن سے اسکول میں ورزش ، کھیل کود ، دوڑنا ، فٹ بال کھیلنا غرض وہ سب چیزیں جو اس کے ہم عمر ساتھیوں کے لئے دلچسپی کا باعث تھیں ، یہ ان سب سے دور تھا ۔ کھیل کود کے وقت اسکول کے ایک کونے میں کتاب کو اپنے منہ کے سامنے پکڑ کر چوری چھپے دوسرے لڑکوں کا تماشہ دیکھتا ۔ لیکن اس نے بھی ٹھان لی کہ علم کے ذریعے سے دوسروں پر برتری حاصل کرے گا ۔ دن رات پڑھتا ، اسی وجہ سے دو نالائق شاگردوں نے اس سے دوستی گانٹھ لی ۔ وہ بھی اس لئے کہ وہ ریاضی اور دیگر مضامین کے جوابات اس کی مدد سے حل کریں ۔ اسے بھی پتا تھا کہ ان کی دوستی بے غرض نہیں ہے کیوں کہ حسن خان خوب صورت ، اسمارٹ اور اچھے اچھے کپڑے پہنتا اور بیشتر لڑکے کوشش کرتے کہ اس سے دوستی کریں ۔ صرف دو تین استاد اس پر توجہ دیتے ، وہ بھی ترس کھا کر ۔ چنانچہ بہت کوششوں کے بعد بھی وہ اپنے مقصد تک نہ پہنچ سکا ۔

اب وہ خالی ہاتھ تھا ۔ سب اس سے گریزاں ، دوست اس کے ساتھ چلنے میں شرم محسوس کرتے ، عورتیں اسے کہتیں ” کبڑے کو دیکھو ۔“ ایسی باتیں اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیتیں ۔
چند سال پہلے دو مرتبہ رشتہ مانگا تھا مگر عورتوں نے اس کا مذاق اڑایا تھا ، اتفاق سے انہی میں سے ایک زبیدہ اسی علاقے فیشر آباد میں رہتی تھی ۔

ایک دوسرے کو کئی مرتبہ دیکھا تھا ، باتیں کی تھیں ، دوپہر کو جب وہ اسکول سے آتی تو یہاں آ جاتا تاکہ اسے دیکھ سکے ۔ اب صرف اتنا یاد ہے کہ اس کے رخسار پر تِل تھا

۔ لیکن جب اپنی خالہ کو رشتے کے لئے بھیجا تو اسی لڑکی نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا ،

” کیا دنیا میں سارے مرد مر چکے ہیں جو میں کُبڑے کی بیوی بنوں؟”
ہر چند کی اس کے ماں باپ نے اس کی اچھی خاصی پٹائی کی تھی لیکن وہ راضی نہ ہوئی اور ایک ہی رٹ لگائی تھی کہ ” کیا سارے مرد مر چکے ہیں؟” لیکن داؤد اب بھی اس سے محبت کرتا تھا اور یہ اس کی جوانی کا ایک یاد گار وقت تھا ۔ اب بھی دانستہ یا نادانستہ اس علاقے میں نکلتا اور پھر ماضی کی باتیں اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتیں ، وہ شدید عدم خوداعتمادی کا شکار ہوچکا تھا ۔ اس لئے اکیلا گھومنے نکلتا اور لوگوں سے دوری اختیار کرتا کیوں کہ جو کوئی بھی ہنستا یا اپنے دوست سے آہستہ گفتگو کرنے لگتا ، اس طرح محسوس ہوتا کہ اس کے متعلق گفتگو ہو رہی ہے یا اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے ۔ اپنی گردن کو بمشکل گھماتا ، تحقیر آمیز نگاہ ڈالتا اور چلا جاتا ۔ راستے میں اس کی تمام توجہ لوگوں کی طرف ہوتی اور اس کا منہ بھنچ جاتا تاکہ دوسروں کے خیالات اپنے متعلق جان سکے ۔
نہر کے کنارے آہستہ آہستہ گذرتا اور کبھی کبھی اپنے عصا کی نوک سے پانی میں شگاف کرتا چلا جارہا تھا ۔ اس کی سوچ و فکر پریشان اور درہم برہم تھی ۔ اس نے دیکھا کہ ایک کتے نے جس کے لمبے سفید بال تھے ، اس کے عصا کی آواز سے جو ایک پتھر سے ٹکرایا تھا ، سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ، ایسا لگ رہا تھا کہ وہ موت کی دہلیز پر ہے اس لئے اپنی جگہ سے نہ ہلا اور دوبارہ سر کو زمین پر رکھ دیا ۔

وہ بمشکل جھکا اور چاند کی روشنی میں ان کی نگاہیں چار ہوئیں ، ایک عجیب و غریب احساس نے جنم لیا ، ایسا لگ رہا تھا کہ یہ پہلی نظر ہے جو سادہ اور مہربان تھی ۔ دونوں بدبخت اور فالتو چیز کی مانند انسانی معاشرے سے دُور پڑے ہیں ۔

اس کا دل چاہا کہ اس بدنصیب کتے کے پاس جو اپنی بد بختیوں کو شہر سے باہر لا کر لوگوں کی نظروں سے چھپا رہا ہے ، بیٹھے اور اسے اپنی آغوش میں لے کر اس کے سر کو اپنی باہر نکلی ہوئی چھاتی سے بھینچے ۔ لیکن اسے خیال آیا کہ اگر کسی نے یہاں گزرتے ہوئے دیکھ لیا تو اس کا اور زیادہ مذاق اڑائیں گے ۔ سورج غروب ہونے والا تھا ۔ وہ یوسف آباد کے دروازے سے نکل گیا ۔ چودھویں کا چاند جو اپنی چاندنی دلچسپ مگر الم ناک رات کے اس پر سکون ابتدائی حصے میں پھیلا رہا تھا ، کی طرف نگاہ کی ۔ نامکمل گھر ، اینٹوں کے ڈھیر ، خواب آلود شہر ، درخت ، گھروں کی چھتیں ، نیلے پہاڑ کو دیکھ رہا تھا جو اس کی آنکھوں کے سامنے تاریک پردے کی مانند نظر آتا تھا ۔ دُور و نزدیک تک کوئی نظر نہیں آرہا تھا ۔ دُور سے ابوعطا * کی مدھم آواز آرہی تھی ۔ سر کو مشکل سے اُٹھایا ، وہ تھکا ہوا تھا، غم و اندوہ سے نڈھال اور اس کی لال آنکھوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ اس کا سر ، تن پر بوجھ بن رہا ہو ۔ داؤد اپنے عصا کو نہر کے کنارے رکھ کر اس کے دوسری طرف بغیر سوچے سمجھے ، سڑک کے کنارے ایک پتھر پر بیٹھ گیا ۔ اچانک اس نے دیکھا کہ ایک عورت اس کے نزدیک نہر کنارے بیٹھی ہوئی ہے ۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ، اس عورت نے بغیر کچھ کہے ، منہ اس کی طرف کر کے مسکراتے ہوئے کہا ،

” ہوشنگ ! اب تک کہاں تھے؟”
داؤد عورت کے اس اندازِ گفتگو سے بہت حیران ہوا کہ اسے دیکھ کر اس عورت نے اب تک اظہارِ نفرت کیوں نہیں کیا؟ ایسا لگ رہا تھا کہ دنیا کی ساری خوشیاں اس کی جھولی میں ڈال دی گئی ہوں ، اس کے پوچھنے کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ باتیں کرنا چاہ رہی تھی لیکن اس وقت وہ یہاں کیا کر رہی ہے ؟ کیا شریف زادی ہے ؟ شاید کسی سے دل لگایا ہو ۔ بہر حال جرات کر کے اپنے آپ سے کہا جو ہوتا ہے وہ ہو جائے ۔ اوّلاً بات چیت کرنے والا مل گیا ہے شاید مجھے کچھ حوصلہ مل جائے ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس کی زبان بے قابو ہو گئی ہے ، کہنے لگا ،

” خانم ! آپ تنہا ہیں؟ میں بھی تنہا ہوں ، ہمیشہ سے اکیلا ہوں ! ساری عمر اکیلا رہا ہوں ۔۔۔ ” ابھی اس نے بات ختم نہیں کی تھی کہ اس عورت نے منہ گھما کر عینک جو اس نے آنکھوں پر لگا رکھی تھی ، سے اسے دیکھا اور پھر کہا ،

” آپ کون ہیں ؟ میں سمجھی ہوشنگ ہے ، وہ ہر وقت آتا ہے اور میرے ساتھ ہنستا کھیلتا ہے ۔ "

داؤد اس آخری جملے کو نہ سمجھ سکا ، لیکن اسے اس بات کا انتظار بھی نہ تھا ۔ مدت ہوئی کہ کسی عورت نے اس کے ساتھ بات کی ہو ۔ ٹھنڈے پسینے کے قطرے جسم پر رینگنے لگے اور مشکل سے کہا ،

” خانم ! میں ہوشنگ نہیں ہوں ، میرا نام داؤد ہے ۔”

عورت نے ہنستے ہوئے جواب دیا،

” میں آپ کو دیکھ نہیں سکتی ، میری آنکھوں میں درد ہو رہا ہے۔ اچھا داؤد ۔۔۔ کُبڑا داؤد ” (ہونٹوں کو کاٹنے لگ گئی) لگ رہا تھا کہ کوئی جانی پہچانی آواز کانوں سے ٹکرا رہی ہے ،

” میں زبیدہ ہوں مجھے جانتے ہو؟ "

اس کے بالوں کی لٹ جس نے اس کا آدھا چہرہ چھپا دیا تھا ، کو جھٹکا لگا اور داؤد نے اس کے رخسار پر تِل کو دیکھا ۔ فرطِ غم سے اس کا سانس لینا مشکل ہو رہا تھا اور بدن میں آگ سی لگ گئی ۔ پسینے کے قطرے اس کی پیشانی سے گرنے لگے ۔ اپنے ارد گرد دیکھا کوئی نہیں تھا ۔ ابو عطا کی آواز کافی قریب سے آرہی تھی ۔ دل کی دھڑکن اتنی تیز ہو چکی تھی کہ سانس لینا مشکل ہو رہا تھا ۔ کچھ کہے بغیر لرزتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ، بغض نے اس کے گلے کو جکڑا ہوا تھا ۔ اپنے عصا کو اُٹھایا اور گرتے پڑتے جس راستے سے آیا تھا اسی پر واپس ہو لیا اور رندھی ہوئی آواز میں اپنے آپ سے کہنے لگا ،

” یہ زبیدہ تھی ! مجھے نہیں دیکھ سکتی تھی ۔ ۔ ۔ ہوشنگ شاید اس کا منگیتر یا شوہر ہے ۔ ۔ ۔ کیا پتا ؟” نہیں ۔ ۔ ۔ ہرگز نہیں۔ ۔ ۔ مجھے کچھ نہیں سوچنا چاہیے ! ۔۔۔ نہیں نہیں میں کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔ وہ اپنے آپ کو گھسیٹتا ہوا اسی کتے تک لے گیا جس کو راستے میں دیکھا تھا ، قریب بیٹھا اور اس کا سر اپنی باہر نکلی ہوئی چھاتی سے بھینچا لیکن کتا مر چکا تھا ۔

مترجم : ح ر مہر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چراغ حسن حسرت
  • ایک ایسی سوچ
  • جج کرنا مناسب نہیں
  • کالی کلی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
راج نگرا کا قصاب
پچھلی پوسٹ
بابوگوپي ناتھ

متعلقہ پوسٹس

رازوں کی شام

دسمبر 15, 2024

عبد العلیم صدیقی اور تیسری بساط

ستمبر 7, 2023

کوکن کا نسائی ادب

مئی 23, 2019

خمار بارہ بنکوی کی دسویں برسی پر

دسمبر 4, 2019

حاملہ خواتین اور غذائی مشکلات

جولائی 13, 2025

میر صاحب کا زندہ عجائب گھر

مئی 27, 2024

اوپر نیچے درمیان

مارچ 11, 2019

پاکستان بھارت میچ: کھیل یا سیاسی کشمکش

ستمبر 21, 2025

چھوٹے گھر بڑے لوگ

جون 13, 2020

تانتیا

جنوری 8, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سفید کبوتری از زکریا تامر​

مئی 17, 2024

ساحر لدھیانوی ۔ ایک نیا مطالعہ

جولائی 5, 2024

پاکستان نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان

نومبر 24, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں