خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامعاصر اُردو غزل کا نمایندہ شاعر- ارشاد نیازی
آپکا اردو بابااردو تحاریرارشاد نیازیتحقیق و تنقیدساحل سلہریمقالات و مضامین

معاصر اُردو غزل کا نمایندہ شاعر- ارشاد نیازی

از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2021
از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2021 0 تبصرے 53 مناظر
54

معاصر اُردو غزل کا نمایندہ شاعر- ارشاد نیازی

جدید اُردو غزل عہد بہ عہد کروٹیں بدلتے ہوئے جب اکیسویں صدی کے دوسرے دہے میں داخل ہوئی تو متنوع موضوعات واسالیب کے اعتبار سے نصف صدی آگے سفرکرتی محسوس ہوتی ہے۔معاصر غزل نگاروں نے اِ س صنف کوا س طرح برتا ہے کہ اس کے خدوخال واضح طور پر نئے نویلے لگنے لگے ہیں۔ اپنی اس رائے کو صادق بنانے کے لیے مجھے ”دلاسا“ کا حوالہ دینا پڑ رہا ہے۔ ”دلاسا“ معاصر اُردو غزل کے نمایندہ شاعر ارشاد نیازی کی غزلوں کا اولین مجموعہ ہے جو گذشتہ دنوں میرے ہاتھ لگا۔سیال کوٹ کے تاریخی قصبہ چوبارہ میں مقیم اس کہنہ مشق شاعر نے اپنے کمال فن اور پختہ گوئی سے معاصر شعرا میں اپنا منفرد مقام بنا لیا ہے۔ ارشاد نیازی کی شاعری میں شہر اور گاؤں کی علامتیں ملتی ہیں۔شہر دراصل ان کے یہاں جدید اور ترقی یافتہ تہذیب کا استعارہ ہیں اور گاؤں پرانی تہذیب اور روایت کی طرف اشارہ ہیں۔ ان کی شاعری چلتے چلتے کچھ وقت کے لیے ماضی کی طرف بھی مراجعت کر جاتی ہے۔یہ شعر دیکھیے:
شہر سے دور ایک گاؤں کا
پیڑ گریہ کریں گے چھاؤں کا
_________
شہرِ تعبیر کی جھلک دیکھوں
خواب ادھڑتے میں کب تلک دیکھوں

گرد اوڑھے بدن پہ خستہ حال
سبز گاؤں تری سڑک دیکھوں
ارشاد نیازی کی غزل میں صبح، شام،رات،دن،تیرگی، روشنی، چراغ،ہوا،چاند، تارے، شب، پیڑ پرندے،فاختہ،دشت،دریا اور ہجرووصال جیسے الفاظ کا استعمال نئے مفاہیم،تلازموں اور موضوعات سے متشکل ہوا ہے۔اس کے یہاں بدن کے پنجرے،صبح بدن کی شاخ،خوشبو کے شب کدوں، حروف اوندھے پڑے ہیں، روشنی اونگھ رہی ہے، چراغوں کی پشیمانی،پرندگی کی سہولت، دن کی منڈیروں پہ، خامشی پھانکتے،خامشی کی چمڑی ادھیڑنا،چہک سینچ رہے ہیں،آنکھ کے کوزے،سسکتا وصل اورپپڑی کا گریہ کا استعمال انتہائی نیا ہے۔ ارشاد نیازی کی غزل کا آہنگ،اسلوب اور موضوعاتی رنگا رنگی ملاحظہ کیجیے:
سکڑتے ہاتھ کی دستک میں گر اثر ہوتا
پرائے ہجر کی دیوار تجھ میں در ہوتا

یہ میری آنکھ یہ عجلت میں نیند مرتی ہوئی
یہ میرے خواب یہ حیرت زدہ سفر ہوتا
صدائیں دیتی مجھے سبز منزلِ مژگاں
خموش، سرخ گلی، شور کرتا گھر ہوتا
__________
نیند تو میں کما کے لاتا ہوں
خواب لیکن چرا کے لاتا ہوں

تم شجر کو ذرا دلاسا دو
میں پرندے بُلا کے لاتا ہوں
ارشاد نیازی کی غزل سماجی رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔وہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اس طرح اپنی شاعری کا موضوع بناتا ہے کہ شعریت بھی شعر سے خارج نہیں ہوتی۔ وہ اپنے تجربات،مشاہدات اور احساس کو شاعری کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ تیرگی،چراغ،دشت،سفر،پرندے،درخت ارشاد کی شاعری کے استعارے ہیں۔ وہ ان میں کھو کر ایک الگ دنیا کا خواب دیکھتا ہے۔فرزاد علی زیرک،ارشاد نیاز ی کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ارشاد نیازی کا واحد مقصد شعر کو محض زبان کا چٹخارہ بنا دینا نہیں ہے۔ وہ گھمبیر موضوع لاتا ہے اور اسے اپنی مرضی کی کرافٹ سے اپنی پسند کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ انفراد کا خمیر لہجے کے تیور سے نہیں بل کہ موضوع کے تنوع اور معنی کی تکثیریت سے اٹھتا ہے اور ارشاد نیازی اس میں مکمل کامرانی کے ساتھ محوِ سفر ہے۔“ (۱)
ارشاد نیازی نے اپنے لہجے کی جدیدیت سے روایتی موضوعات کو بھی نیا بنا دیا ہے۔ ان کے شعروں کاموضوعاتی تنوع، مصرعوں کی بنت،نشست وبرخاست،سلاست،روانی،شائستگی اورغنائیت بہت خوشگوار لگتے ہیں۔ یہ اشعار دیکھیے:
روشنی کے سراغ تک پہنچی
جب ہوا اس چراغ تک پہنچی

پیاس آنکھوں کی پتلیوں پہ مری
زندگی جب ایاغ تک پہنچی

اک صدا صبر کی پہاڑی سے
لڑکھڑائی تو راغ تک پہنچی

سوچتا ہوں کہ ادھ مری تتلی
کس طرح کیسے باغ تک پہنچی
ارشادنیازی معاصر اردو غزل کامعتبر اورصاحب ا سلوب شاعر ہے اس کی غزل تخلیقی سچائی کی آئینہ دار ہے۔ اس کی غزلوں میں نہ صرف روح عصر رواں ہے بل کہ کئی جذبا ت اوراحساسات سانسیں لے رہے ہیں۔یہ اشعار دیکھیے:
شکستگی کا فسوں آنکھ میں اُتر جائے
قفس کا رنج سہے اور خواب مر جائے

کوئی تو سمجھے محبت کی بے زبانی کو
کوئی تو ہاتھ پہ چپکے سے پھول دھر جائے

یہ بین کرتی ہوئی لو چراغِ ہجرت کی
بدن کو چیر دے اور آئنے سے ڈر جائے

بس ایک بار وہ اپنا مجھے کہے تو سہی
وہ اپنی بات سے چاہے تو پھر مکر جائے
ارشاد نیازی کی شاعری میں سیونک کی طرح چاٹنے اور اندر ہی اندر مسلسل چلنے والا درد ہے۔ارشاد نیازی کی شاعری تخلیقی وفور کی حامل ہے۔ اس لیے اس کی مقبولیت کے امکانات بڑھتے چلے گئے۔ اس نے غزل کو ایک نئے تناظر میں تخلیق کیا ہے اوروہ اپنے رنگ میں غزل کہہ کر سب کو متوجہ کر رہا ہے۔ارشاد نے غزل کے رواں منظر نامے میں اپنا مقام مستحکم کر لیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کام یاب سعی کی ہے کہ غزل کا سفر ابھی رکا نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ نئی غزلوں کا یہ مجموعہ بھر پور توجہ حاصل کر ئے گا۔
حوالہ جات:
۱۔ علی زیرک،فرزاد،فلیب، دلاسا از ارشاد نیازی،(لاہور: طلوع اشک پبلی کیشنز،2019)

ڈاکٹر ساحل سلہری

ٍٍٍ (28مئی،2019،سیالکوٹ)

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں بھی ہوتی
  • اپنی الگ ہی سمت میں راہیں نکال کر
  • اپنی وحشت پہ رو رہا ہوں میں
  • دھول اُڑاتی تیز ہوا کے وار سے بچیے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
”ترا خیال اور میں“ ۔ ایک تجزیاتی مطالعہ
پچھلی پوسٹ
آہ

متعلقہ پوسٹس

احمد عطا اللہ کی غزل گوئی

فروری 5, 2023

چھ بادشاہوں کی گوناگوں داستان!

مئی 30, 2021

عکسِ خاموشی

فروری 8, 2025

خوابوں کی تدفین میں آنا

جولائی 27, 2024

زندگی میں اک موڑ

جنوری 3, 2026

جب سہولت نہیں ہے جینے کی

جنوری 2, 2022

کھلا خط

دسمبر 31, 2025

اپنے کندھوں پہ مری لاش اٹھائی میں نے

نومبر 17, 2021

خود سے شرمندہ ہیں

اگست 5, 2025

پاکستان سے محبت

جنوری 5, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

انار کلی

اپریل 2, 2018

چچا چھکن نے ایک خط لکھا

اگست 22, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں