3
دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں
وہ بھی ایسی ہیں کہ پھر دیکھی نہیں چمگادڑیں
زیست کچھ ایسی گزاری جس طرح ویراں محل
جا بجا جالے دکھیں گے یا کہیں چمگادڑیں
سانجھ ہوتے ہی نمایاں ہو گئیں بہتات میں
دل گرفتہ ہو گۓ رو کر سہیں چمگادڑیں
پھوٹ کر ہم رو رہے تھے اپنے تیرہ بخت پر
اشک آنکھوں سے مگر بن کر بہیں چمگادڑیں
دوستو چمگادڑوں کا کچھ تدارک بھی تو ہو
ورنہ جم کر بیٹھ جائیں گی یہیں چمگادڑیں
دیکھنے میں جس قدر اچھی لگیِں اے دوستو
اُس قدر اندر سے میلی ہیں حسیں چمگادڑیں
جو جگہ ان کو ملے گی بیٹھ جانے کو رشیدؔ
حد سے بڑھ کر کھیل کھیلیں گی وہیں چمگادڑیں
رشید حسرتؔ
۰۵، اگست، ۲۰۲۶
