340
ہے نیند ابھی آنکھ میں پل بھر میں نہیں ہے
کروٹ کوئی آرام کی بستر میں نہیں ہے
ساحل پہ جلا دے جو پلٹنے کا وسیلہ
اب ایسا جیالا مرے لشکر میں نہیں ہے
پھیلاؤ ہوا ہے مرے ادراک سے پیدا
وسعت مرے اندر ہے سمندر میں نہیں ہے
سیکھا نہ دعاؤں میں قناعت کا سلیقہ
وہ مانگ رہا ہوں جو مقدر میں نہیں ہے
رکھ اس پہ نظر جو کہیں ظاہر میں ہے پنہاں
وہ بھی تو کبھی دیکھ جو منظر میں نہیں ہے
یوں دھوپ نے اب زاویہ بدلا ہے کہ عاصمؔ
سایہ بھی مرا میرے برابر میں نہیں ہے
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
