360
اگر چبھتی ہوئی باتوں سے ڈرنا پڑ گیا تو
محبت سے کبھی تم کو مکرنا پڑ گیا تو
تری بکھری ہوئی دنیا سمیٹے جا رہا ہوں
اگر مجھ کو کسی دن خود بکھرنا پڑ گیا تو
ذخیرہ پشت پر باندھا نہیں تم نے ہوا کا
کہیں گہرے سمندر میں اترنا پڑ گیا تو
وہ مجھ سے دور ہوتا جا رہا ہے رفتہ رفتہ
اگر اس کو کبھی محسوس کرنا پڑ گیا تو
تم اس رستے میں کیوں بارود بوئے جا رہے ہو
کسی دن اس طرف سے خود گزرنا پڑ گیا تو
بنا رکھا ہے منصوبہ کئی برسوں کا تو نے
اگر اک دن اچانک تجھ کو مرنا پڑ گیا تو
تمہاری ضد ہے عاصمؔ وہ نکھارے حسن اپنا
اگر اس کے لیے تم کو سنورنا پڑ گیا تو
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
