361
موجود جو نہیں وہی دیکھا بنا ہوا
آنکھوں میں اک سراب ہے دریا بنا ہوا
اک اور شخص بھی ہے مرے نام کا یہاں
اک اور شخص ہے مرے جیسا بنا ہوا
سمجھا رہے ہو مجھ کو مرا ارتقا مگر
دیکھا نہیں ہے آدمی پہلا بنا ہوا
اے انہماک چشم ذرا یہ مجھے بتا
چاروں طرف زمین پہ ہے کیا بنا ہوا
کرنے لگا ہے طنز مرے نصف عکس پر
مجھ میں جو ایک شخص ہے پورا بنا ہوا
پہلے کسی کی آنکھ نے پاگل کیا مجھے
اب ہوں کسی نظر کا تماشا بنا ہوا
کھلتی نہیں ہیں تجھ پہ ہی عریانیاں تری
عاصمؔ ترا لباس ہے اچھا بنا ہوا
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
