411
تجھے گنوا کے میں تجھ سا تلاش کرتا ہوں
نشاں مٹا کے یہ رستہ تلاش کرتا ہوں
عجیب آدمی ہوں ہر نئے تعلق میں
وفا کا رنگ پُرانا تلاش کرتا ہوں
میں دشتِ ہجر میں پھرتا ہوں اپنی پیاس کے ساتھ
ترے وصال کا چشمہ تلاش کرتا ہوں
کہ تیری رہ تو نہیں ایک ایک رستے سے
میں تیرا نقشِ کفِ پا تلاش کرتا ہوں
قدم قدم پہ یہاں بے بہار برگد ہیں
میں راہِ دشت میں سایہ تلاش کرتا ہوں
میں یاد کر کے زمانہ ابھی بھی کیمپس کا
ترے وصال کا لمحہ تلاش کرتا ہوں
وہ دکھ ملے ہیں مجھے گلستان سے ساحل
میں اپنے واسطے صحرا تلاش کرتا ہوں
ساحل سلہری
