خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباملتان سر جڑی دلیرانہ محبت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزمجید احمد جائی

ملتان سر جڑی دلیرانہ محبت

تحریر:مجیداحمدجائی ۔ ملتان شریف

از مجید احمد فروری 14, 2020
از مجید احمد فروری 14, 2020 0 تبصرے 406 مناظر
407

ملتان سر جڑی دلیرانہ محبت

دربار سج چکا تھا اور دربار میں راجاءوں اور راجکماروں کا ہجوم سا لگا تھا ۔ سب کی نظریں ،اُس کی منتظر تھیں ،جس کے لیے آج یہ دربار سجایا گیا تھا ۔ اُس نے اس دربار میں آئے ہوئے راجکماروں میں سے کسی ایک راج کمار کا انتخاب کر نا تھا ۔

جی ہاں انتخاب ۔ ۔ ۔ وہ راجہ دریودھن کی لڑکی تھی ۔ باپ نے اُسے بڑے ناز و نعم سے پالا تھا ۔ اب وہ جوان ہو چکی تھی ۔ جب اولاد جوان ہو جائے تو والدین کو، ان کے فرض سے سبکدوش ہونے کی فکر ستانے لگتی ہے ۔

راجہ دریودھن نے بھی اپنی بیٹی کی شادی کرنی تھی ۔ یہ شادی آج کی شادیوں سے بالکل مختلف تھی ۔ راجہ دریودھن نے فیصلہ کیا کہ میری بیٹی اپنے خاوند کا انتخاب خود کرے گی ۔ اس لئے اُس نے یعنی راجہ دریودھن نے اپنی بیٹی کی شادی کرنے کے لئے ،شوہر کا انتخاب کرنے کے لئے دربار میں سوئمبر قائم کیا تھا ۔

سوئمبر میں شرکت کے لئے دُور دُور کے راجاءوں اور راجکماروں کو دعوت دی گئی ۔ اب دربار میں رونق تھی ،سوئمبر قائم ہو چکا تھا اورنظریں راجکماری کی متلاشی تھیں ۔ دریودھن کا دربار راجاءوں اور راج کماروں سے جگمگا اُٹھا تھا ۔ سب کے دِل مچل رہے تھے ۔ آنکھیں ،اُس کا دیدار کرنے کو بے تاب تھیں ۔ ہر راجکمار کے دِل میں حسرت تھی ۔ ۔ ۔ کہ راجکماری میرا انتخاب کرے ۔ ۔ ۔ لب خاموش تھے ۔ نظریں اُس مہ جبیں کی منتظر تھیں اور دل میں بے شمار خواہشات،آنکھوں میں سہانے خواب سجے تھے ۔ چند لمحوں بعد اُس نے آکر ،اپنے لیے شوہر کا انتخاب کرنا تھا ۔ وہ جس کا انتخاب کرتی ،اُس کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈال دیتی اور یوں وہ اس کا خاوند قرار دیا جاتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پورے دربار میں اُس کا انتظار کیا جا رہا تھا ۔ وہ ابھی نہیں آئی تھی ۔ کہنے والے تو کہتے ہیں انتظار بہت بُرا ہوتا ہے ۔ انتظار ۔ ۔ ۔ چاہے کسی محبوب کاہو یا کسی کے آنے کا ۔ انتظار اگر محبوب کا ہو اور حسرت ہو کہ محبوب میرے گلے میں ہارڈال کر ،مجھے اپنا لے ۔ ۔ ۔ مجھے اپنا محبوب بنا لے ۔ ۔ ۔ کیا کیفیت ہو ں گی ۔ دل کیسے مچلتا ہوگا ۔ آنکھیں کیسے خواب سجاتی ہوں گی ۔ ;

ایک امتحان تھا اور سب کے دل مچل رہے تھے ۔ سبھی خود کو قسمت کا شہنشاہ تصور کر رہے تھے ۔ کچھ ہی دیر میں فیصلہ ہو جانا تھا ۔ ۔ ۔ اور یہی کچھ لمحے ،بڑے مشکل سے گزر رہے تھے ۔ یہ اذیت بھرے لمحے سب پہ بھاری تھے ۔ محبوب ایک تھا اور چاہنے والوں کا ہجوم لگا تھا ۔ اُس نے تو صرف کسی ایک کا ہونا تھا ۔ جس کی وہ ہو جاتی وہ خوش قسمت ہو تا ۔ ۔ ۔ ۔ اُس کا دل آسمان کو چھو ئے گا اور باقی کی آنکھیں سمندر بن جائیں گی ۔ ایسا ہی کچھ اُس وقت ہو نے والا تھا ۔

وہ بھی اس سوئمبر میں شریک تھا ۔ اُس کا نام شامب تھا ۔ وہ کرشن کا بیٹا تھا اور دُور سے چل کر آیا تھا ۔ اُس کے دل میں خواہش تھی کہ راجکماری میری ہی ہو ۔ قد کاٹھ کا اچھا تھا اور بڑا بہادر نوجوان تھا ۔ اُس کی بہادری کے چرچے تھے ۔

وہ خیالوں کی وادی میں گم تھا کہ راجکماری سوئمبر میں جلوہ گِرہوئی ۔ سب کے چہرے دمکنے لگے ۔

راجکماری بڑی خوبصورت تھی ۔ وہ مسکراتی ہوئی آ رہی تھی اور اُس کے ہاتھوں میں پھولوں کا ہار تھا ۔ سب کی نظریں اُس کی طرف اُٹھ گئیں تھیں ۔ سبھی نے اپنے اپنے دل تھام لیے تھے ۔ دربار میں سبھی دیدے پھاڑے کھڑے تھے ۔ وہ تھی بھی اتنی خوبصورت،حسین وجمیل ۔ دیکھنے والے دیکھتے ہی رہیں ۔ وہ چلی آرہی تھی اور چند لمحوں بعد ،اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے والی تھی ۔ وہ اپنا ہم سفر چُننے والی تھی ۔ کیسا منظر تھا ۔ کیسا انتظار تھا ۔

شامب بھی لائن میں لگا تھا اور پہلی ہی نظر میں اُس کا دیوانہ ہوا جا رہا تھا ۔ وُہ اُسے کھونا نہیں چاہتا تھا ۔ اُسے ہر حال میں حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ راج کماری کسی اور کی ہو ۔ اُس کے ذہن میں جنگ جاری تھی ۔ پہلی نظر کیا پڑی ،اس کے بعد وہ اپنا دِل ہار گیا

شامب خیالوں میں غوطہ زن تھا کہ اگر راجکماری نے مجھے پسند نہ کیا اور پھولوں کا ہار کسی اور کے گلے میں ڈال دیا تو مجھے بڑی خفت کا سامنا کر نا ہو گا ۔ اِس طرح میں اتنی حسین و جمیل راجکماری سے محروم ہو جاءوں گا ۔ میں وہ لمحے کیسے برداشت کروں گا ۔ میری آنکھیں ایسے لمحے کیسے دیکھ سکتی ہیں ۔

راج کماری چلتے چلتے راجکماروں کی لگی لائن کے قریب آ گئی تھی ۔ اُس کی نظریں ادھر اُدھر کا جائزہ لے رہی تھیں ۔ قریب تھا کہ وہ پھولوں کا ہار کسی راجکمار کے گلے میں ڈال کر تجسس ختم کردیتی اور اپنا فیصلہ سنا دیتی ۔ شامب بڑی پُھرتی اور تیزی سے آگے بڑھا ۔ پل بھر میں اُس نے راجکماری کو بھرے دربار میں سے اُٹھا لیا اور سب دیکھتے ہی رہ گئے ۔ شامب ،راجکماری کو اُٹھاتے ہی چار گھوڑوں کی رتھ میں ڈال کر دربارسے بھاگ نکلا ۔

دریودھن کی بڑی بدنامی تھی کہ اُس کے دربار سے ،اُس کی ہی بیٹی کو ایک شخص اُٹھا کر بھاگ گیا تھا ۔ دربار میں سبھی راجے اور راجکمار حیران اور ششدر کھڑے تھے ۔

راجکماری کورءوں کے خاندان سے تھی ۔ بھرے دربار میں سے اس طرح راجکماری کا اُٹھ جانا بڑی ندامت تھی ۔ کورءوں کو غیرت آئی اور وہ اپنی اپنی رتھوں پر سوار ہو کر شامب کو گرفتار کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ۔ شامب آگے آگے تھا اور کورءوں کا قافلہ اُس کے پیچھے پیچھے تھا ۔ بڑی تگ ود کے بعد آخر کورءوں نے شامب کو راستے ہی میں جا گھیرا ۔ وہ بھی کہاں ہار ماننے والا تھا ۔

کورءوں کے اس قافلہ میں کرن نامی نوجوان بڑا بہادر تھا ۔ اُس نے شامب کو للکارا ۔ شامب بھی دلیر تھا اور دلیری کا مظاہر ہ کرکے ہی تو آیا تھا ۔ اُس نے بھی مقابلہ کے لئے کرن کو آواز دی ۔ پھر کیا ،مقابلہ شروع ہوا اور کرن نے چار تیر چلائے ۔ شامب تیر اندازی میں کمال رکھتا تھا اورمقابلے کرنے کے تمام گُر جانتا تھا ۔ شامب نے بہادری سے کِرن کے چاروں تیروں کو ،اپنے تیروں سے کاٹ ڈالا ۔ اب تیر چلانے کی باری شامب کی تھی ۔ شامب نے تیر چلائے اور کرن کی رتھ کے چاروں گھوڑے زخمی کر دئیے اور وہ زمین پر تڑپنے لگے ۔

کرِن بھی کہاں ہار ماننے والا تھا ۔ اُس نے بھی بھر پور مقابلہ کرتے ہوئے ہمت نہ ہاری اور برابر تیر چلاتا رہا ۔ اُس نے بھی اپنے تیروں سے شامب کے چاروں گھوڑوں کو زخمی کر دیا ۔ مقابلہ جاری تھا کہ کورءوں کے باقی لوگوں نے گھیرا مزید تنگ کر دیا اور یوں بالآخر شامب کو گرفتار کر لیا گیا ۔

شامب کا باپ کرشن قبیلہ جادو بنسی خاندان سے تھا اور کورءوسورج بنسی خاندان سے تھے ۔ ان دونوں خاندانوں میں اکثر عداوت رہتی تھی ۔ کورءو اکثر غالب رہتے تھے اور غرور و تکبّر میں بھرے رہتے تھے ۔

دریودھن نے بھرے دربار میں متکبرانہ انداز میں کہا کہ ہم نے ہمیشہ جادو بنسی خاندان کی لڑکیاں لی ہیں ۔ اُن کی اتنی جرات کہ ہماری لڑکی لے جائیں ۔ ان میں اتنی طاقت آگئی کہ ہمارے مقابلے میں آئیں ۔ دریودھن کا غصہ آسمان کو چُھو رہا تھا ۔ اُدھر اُس کے خاندان والوں نے شامب کو رسیوں میں جکڑ کر اپنے ساتھ ہستناپور(دلی )لے آئے اور قلعہ میں قید کر دیا ۔

نارومنی!جو ہر طرف کی خبریں ایک دوسروں کو پہنچایا کرتا تھا ،کرشن کے شہر دوارکاپہنچا ۔ اُس نے شامب کے باپ کرشن کو ،شامب کی گرفتاری کی ساری کہانی ایف سے لے کر ی تک سنائی ۔ یہ سب سنتے ہی کرشن غصے سے بُلبلا اُٹھا ۔ دل میں بجھتی آگ پھر سے بھمبر کی صورت اختیار کر گئی ۔ کرشن بھی اپنے علاقے کا راجا تھا ،اُس نے فوراًبہت بڑا اجتماع جمع کیا اور جادوبنسیوں کو غیرت دلائی ۔ وہ سورج بنسیوں سے بدلہ لینا چاہتا تھا ۔ اُسے ایک لمحہ بھی قرار نہیں آ رہا تھا ۔ کرشن نے دریودھن کی اِس حرکت پر سزا دینے کے لیے حملہ کرنے کی تجویز پیش کی ۔

شری بلدیوجی جو بہت بڑے رشی تھے ۔ وہ بھی اس اجتماع میں آگئے ۔ پورا اجتماع غصے اور جلا ل میں تھا ۔ شری بلد یوجی نے جب سارا ماجرا سنا تو جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ اُس نے بڑے معتبرانہ انداز میں اجتماع کو سمجھایا ۔ شری بلدیوجی نے کہا ہمارے کورءوں سے تعلقات اچھے رہے ہیں ۔ ہ میں ذرا سنبھل کر قدم اُٹھانا چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آخر اُس نے مجمع کا غصہ ٹھنڈا کر دیا اور سمجھا بُوجھا کر اِس بات پر آمادہ کر لیا کہ میں خود جاتا ہوں اور صلح کی بات چیت کرکے شامب کو چھڑا لاتا ہوں ۔ اگر بفرض اُنہوں نے نہ مانا اور انکار کر دیا تو مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ میں اکیلا ہی کافی ہوں ۔ ۔

سارے اجتماع میں سے شری بلد یوجی نے جادو بنسیوں کی ایک جماعت اپنے ساتھ لی اور سیدھا ہستنا پورا(دہلی )کا رُخ کیا ۔ ۔ ۔

کررءوں کو جب معلوم ہوا کہ شری بلد یوجی بھاری جمعیت کے ساتھ آ رہے ہیں تو کورءوبھی جمع ہوئے اور آپس میں مشورہ کرکے بلد یوجی کا استقبال کے لئے آگے بڑھے ۔ ۔ ۔

اُدھر وہ آرہے تھے اور اِدھر کورءو جا رہے تھے ۔ دونوں سیت نگر میں جہاں بہت بڑا مندرتھا وہاں ملے ۔ کورءوں نے جادو بنسیوں کے ساتھ ساتھ شری بلدیوجی کا خیر مقدم کیا اور ان کے قیام کا انتظام کیا ۔

شری بلد یوجی چونکہ بہت بڑا رشی تھا ۔ لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ شری بلد یوجی آئے ہیں تو لوگ جوق در جوق اُن سے ملنے کے لیے آنے لگے ۔

مجمع جمع تھا ۔ بلد یوجی نے ان سے کہا ۔ کرشن کو معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے کو شامب کو ،کورءوں نے گرفتار کر لیا ۔ وہ جادو بنسیوں کی بہت بڑی تعداد لے کر ہستنا پور(دہلی)کا رُخ کرنے لگا تھا ۔ میں نے کرشن کو روک دیا ۔ میں نے کرشن اور اجتماع کو کہا کہ کورءوں سے ہمارے تعلقات نہایت اچھے ہیں ۔ ایک عرصہ سے دوستی چلی آ رہی ہے ۔ پچھلی دُشمنی ختم ہو چکی ہے اورپھر رشتہ داری بھی ہے ۔ اس لئے پھر سے دُشمنی بڑھانی اچھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ کرشن بھی کوئی معمولی راجہ نہیں اور شامب اُس کا لڑکا ہے اور جامونتی کے بطن سے ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شری بلدیوجی اُن کو سمجھا رہا تھا اوردریودھن کو ناگوار گزرہا تھا اور اُس نے منہ پھیر لیا ،جیسے وہ کچھ سن ہی نہیں رہا ۔ ۔ جب شری بلد یوجی نے اپنی تقریر ختم کی تو دریودھن نے کہا ۔ ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ بلد یوجی کیسی باتیں کر رہے ہیں ۔ اگر کرشن سلطنت کے مالک ہو گئے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھرئے سوئمبر میں سے ہماری لڑکی اٹھا کر لے جائیں ۔ ۔ ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ہم سے معافی مانگتے ۔ ۔ ۔ اچھی شرافت ہے کہ جس کو جتنا زیادہ منہ لگائیں ،وہی سر چڑھنے لگ جاتا ہے ۔

یہ تمھارا قصور نہیں ہے بلکہ ہمارے بڑوں کا قصور ہے جنہوں نے جادو بنسیوں کو زیادہ منہ لگایا تھا جو آج یہ نوبت آئی ہے ۔ ۔ دریودھن غصے میں لال پیلا ہو کر یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا ۔

شری بلد یوجی پہلے تو دم سادھے بٹھا رہا اور دل ہی دل میں کہنے لگا کہ بات بڑھ چکی ہے ،اگر اس وقت ہمت سے کام نہ لیا گیا تو نتیجہ توقع کے خلاف برآمد ہو گا ۔

کچھ لمحے خاموش گزر گئے پھر شری بلد یوجی نے بھیکم اور دھرت راشڑسے کہا دریودھن غصے میں تھا لیکن یہاں سے اُٹھ کر کیوں چلا گیا ۔ ۔ اُس نے جو کچھ کیا ہے اُس کا جواب بھی کم از کم سن لیتا ۔ ۔ میرا خیال ہے اُسے بُلایا جائے ۔ ۔ بھیکم اور دھرت راشٹر ،دریودھن کو بلا لائے ۔ بات پھر سے شروع ہوئی ۔ سب دم سادھے بیٹھے تھے ۔ شری بلد یوجی نے دریودھن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔

دریودھن عقل مند انسان ہمیشہ معقول طریقہ سے بات کرتے ہیں ۔ تم تو نہایت سمجھدار تھے پھر کیا ہوا ۔ ذرا تحمل اور سوچ و بچار سے کام لیتے لیکن تم نے تو بڑے غصے کا اظہارکیا لیکن میں نے تمھارے غصے کے باوجود ،بڑی نرمی سے بات کی تھی ۔

تمھارا غروراور تکبرانہ لہجہ مجھے اچھا نہیں لگا ۔ میں نے تو جادوبنسیوں کو ٹھنڈا کرکے خود اس جھگڑے کو مٹانے کی کوشش کی ورنہ کرشن تو جنگ کرنے کے لئے تمام جادو بنسیوں کو اکٹھا کر چکا تھا ۔ میں نے کرشن کو بڑی مشکل سے سمجھایا کہ ،کورءوایسے نہیں ہیں لیکن تم نے ہماری کوئی عزت نہیں کی ۔

تمھیں معلوم ہے کہ کرشن مہاراج کون ہیں – ان کی ذات ایسی پاک ہے کہ چار وید اُس کی تعریف کرتے ہیں ۔ برما ،وشنو،شیوان کے قدموں کی طرف نظر رکھتے ہیں ،لکشمی ان کے چرن چھوتی ہے ۔ ۔ ۔ تم بتاءو ! تمھارے کو رءوں میں کون ایسی شخصیت کا مالک ہے جو تمھیں شامب کے اس فعل نے عقیدت پر اُبھارا ہے ۔

دریودھن ،شری بلد یوجی کی باتیں غور سے سن رہا تھا ۔ سارا مجمع خاموش بیٹھا تھا اچانک شری بلد یوجی غصے میں آگئے اور نیزے کی نوک پر سارے ہستنا پور (دہلی)کو اُٹھا لیا ۔ عنقریب تھا کہ اُسے گنگا میں غرق کر دیتے ۔ ۔ ۔ ۔ ہر طرف شور برپا ہوا ۔ پناہ ۔ ۔ پناہ ۔ پناہ ۔ ہائے ،ہائے کا شوربرپا ہونے لگا ۔ بھیکم اور دھرت راشٹراورپانڈووغیرہ شری بلد یوجی کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے اور معافی مانگنے لگے ۔ ہم معافی چاہتے ہیں ۔ دریودھن کی سزا سارے ہستنا پور کو نہ دیجئے ۔ لوگوں کی آہ بکار پر شری بلد یوجی کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور آخر اُس نے معاف کر دیا ۔

دریودھن اور پانڈوں نے مل کر شامب کو بمعہ لکشمی کے شری بلد یوجی کی خدمت میں حاضر کیا ۔ یوں دریودھن نے اپنی لڑکی کی شادی ،وہیں پر شامب کے ساتھ کر دی اور بڑے اہتمام کے ساتھ رُخصت کیا ۔ شامب بڑی شان و شوکت کے ساتھ دوارکا میں ،اپنے باپ کرشن کے پاس پہنچا ۔ یوں یہ معاملہ ختم ہوگیا لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ اصل کہانی تو یہاں سے شروع ہو تی ہے ۔ یہاں سے جانے کے بعد شامب ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگا ۔ ایک عرصہ بعد کسی رشی کی بددعا سے کوڑھ کی بیماری میں مبتلا ہو گیا ۔ کئی علاج کرائے مگر آرام نہ آیا ۔ شامب بے چینی اور بے قراری میں اپنا علاقہ چھوڑ کر مترون (ملتان)کے درختوں کے سائے میں آکر ایک زمانہ لیٹا رہا ۔ یہاں سے شامب کو صحت حاصل ہوئی ۔ یہ علاقہ ایک عرصہ سے غیر آباد چلا آ رہا تھا ۔ شامب نے صحت یاب ہونے کے بعدمترون موجودہ ملتان کو آباد کرنا شروع کیا ۔ اُس کے آباد کرنے کی وجہ سے اِس علاقہ کا نام ،اُس کی نسبت سے ہی شامب پور مشہور ہو گیا ۔ شامب پور ملتان کے قدیم ناموں میں سے ایک نام ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اس ساری کہانی کے پیچھے یہی ایک کہانی تھی ۔ شامب کی محبت دلیرانہ تھی ،یا یہ کہانی جھوٹ پر مبنی ہے ۔ کچھ بھی ہو لیکن ہندوءوں کی قدیم اور مشہور کتاب وریدک میں یہ کہانی موجود ہے ۔ ملتان کی تاریخ پر نظر رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ ہر تاریخی کتب میں اس کا ذکر موجود ہے ۔ ۔ ۔

تحریر:مجیداحمدجائی ۔ ملتان شریف

حوالہ جات

نقش ملتان جلد اوّل ۔ علامہ عیتق فکری

تاریخ ملتان:اکرام الحق

دیکھ لیا ملتان ۔ ڈاکٹر زاہد علی واسطی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہو تیری رضا جو, وہ چاہت میری
  • موم کی طرح پگھلتے مرے ساتھ
  • وقار محل کا سایہ
  • مجھے نہ چھوڑنا سے مجھے نہ چھونا تک
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
مجید احمد

اگلی پوسٹ
جہلم ادبی میلہ
پچھلی پوسٹ
یومِ محبت

متعلقہ پوسٹس

کرفیو کا ایک سال

اگست 11, 2020

‎مجھے انتظار تھا شام سے

مئی 28, 2020

چاچا ناشکرا

نومبر 29, 2020

جنگل میں مور

جنوری 13, 2024

سونورل

مارچ 20, 2020

مسلمانوں کی حالت زار

اکتوبر 24, 2024

اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو

مئی 8, 2022

ایسا بھی کہیں دیکھا ہے

مئی 18, 2025

مری رہنما تری آنکھ ہے

مارچ 9, 2020

یہی تو بھول ہو گئی قطار میں نہیں رہے

دسمبر 9, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دیوالی کے دِیے

فروری 3, 2020

ایک سوال (رقیب سے)

دسمبر 17, 2021

بول پڑتے ہیں ہم جو آگے...

مئی 13, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں