739
بس اسی بات سے گھبرایا ہوا لگتا ہوں
خود کو اندر سے کہیں ڈھایا ہوا لگتا ہوں
تم نہیں جانتے ہجرت کے تقاضے کیا ہیں
گھر کا مالک ہوں مگر آیا ہوا لگتا ہوں
اس نے اک بار ہی تحریر کیا ہے مجھ کو
دیکھنے والوں کو دہرایا ہوا لگتا ہوں
تیرے قدموں کی طرف سیدھی جبیں ہوتی ہے
جھک کے چلتے ہوئے اترایا ہوا لگتا ہوں
ہاں تو پھر مان کوئی ہاتھ میرے سر پر ہے
یا بتا اب تجھے گھبرایا ہوا لگتا ہوں
اثر ہوتا ہی نہیں اس سے زیادہ مجھ پر
چار چھ روز ہی سمجھایا ہوا لگتا ہوں
دانش نقوی
