خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباالزامات کا سیاست سے گہرا تعلق!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

الزامات کا سیاست سے گہرا تعلق!

از سائیٹ ایڈمن نومبر 17, 2020
از سائیٹ ایڈمن نومبر 17, 2020 0 تبصرے 29 مناظر
30

الزامات کا سیاست سے گہرا تعلق!

جوبائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کوامریکہ کے چھیالیسویں صدر کے لئے ہونے والے انتخابات میں شکست دیدی اور اب وہ آمریکہ کے بطور چھیالیسویں صدر کا حلف بیس جنوری دو ہزار اکیس کو اٹھائینگے۔ جو بائیڈن کا تعلق امریکہ کی ڈیموکریٹک جماعت سے ہے جس کا انتخابی نشان گدھا ہے، انکی ایک اور اہم شناخت سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کے نائب صدر بھی رہے ہیں۔ سیاہ فام صدر کیساتھ سفید فام نائب صدر تھے تو اپنے ساتھ سیاہ فارم نائب صدر چن لیا ہے(بہت ممکن ہے کہ ایسا اتفاقیہ ہوا ہوگا)دوسری طرف صدر ٹرمپ کیخلاف ایک بہترین ہتھیار کے طور پر بھی یہ عمل کارگر ثابت ہوتا دیکھا گیا۔یوں تو عنوان آمریکہ میں گدھوں کی حکومت بھی ہوسکتا تھا لیکن ہم خود کو اشتہار سے باز رکھنے کے عادی ہونے کیساتھ ساتھ آداب قلم کوبھی ملحوظ خاطر رکھتے ہیں، اسلئے ایسا کرنے کی اجازت ہماری عزت نفس نے نہیں دی۔ پاکستان کو امریکہ سے ہر وقت ہی کسی نا کسی قسم کی معاونت درکار رہی ہے وقت اور حالات نے اس کلئیے کو تقریباًتبدیل بلکہ پلٹ کر رکھ دیا ہے، جس کی ایک وجہ پاکستان کی باگ ڈور ایک ایسے مخلص شخص کے ہاتھ میں چلی گئی ہے جو انگریزی انگریزوں کے جیسے ہی بولنا اور سمجھنا جانتا ہے اورجو فنڈ کی منتقلی کیلئے اپنے مرضی کے اکاؤنٹ بھی نہیں بتاتا، جو نا تو کھاتا ہے اور نا ہی کھانے دیتا ہے(عمران خان صاحب کو حالات و واقعات نے مل کر شخصیت کا بھرپور تاثر قائم کرنے میں بھرپور مدد فراہم کی ہے)۔دوسری اہم وجہ جودیکھائی دیتی ہے وہ یہ کہ اب امریکہ بقاعدہ طور پر افغانستان میں ہار ماننے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہوچکا ہے کیونکہ اسے داخلی طور پر بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔خارجی طور پر اکثریت دوستوں کی ہے جو بزور بندوق دوست بنے بیٹھے ہیں اب جبکہ وقت کروٹ لیتا محسوس کیا جارہا ہے اور امریکہ کی حکمت عملیوں کے نتیجے میں اپنی ساکھ کو خود ہی بہت نقصان پہنچا چکے ہیں خصوصی طور پر جانے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو امریکہ کی سالمیت کو امریکیوں کیلئے ہی مسلۂ بنا دیا۔صدارتی انتخابات سے قبل امریکہ میں منعقد ہونے والے مباحثوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن ایک دوسرے پر بھرپور انداز میں حقیقت پر مبنی الزامات لگاتے دیکھائی دیتے رہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی وہ تمام حدود عبور کر چکے ہیں جو وائٹ ہاؤس کے تقدس کر برقرار رکھنے کیلئے بنائی گئی تھیں۔صدر ٹرمپ کیلئے خواجہ میر درد کا یہ شعر لکھنا مناسب دیکھائی دیتا ہے کہ

تہمت چند اپنے ذمہ دھر چلے

جس لئے آئے تھے سو ہم کر چلے

جیسا کہ اللہ رب العزت نے انسان کو پہلے ہی آگاہ کر رکھا ہے کہ وہ خسارے میں ہے اور انسان اخذ بھی کر چکا کہ وہ خسارے میں ہے تو مذکورہ میر درد کا یہ شعر اس بات کی گواہی بھی دے رہا ہے کہ جس لئے اس دنیا میں آئے تھے وہ کام کر کے جارہے ہیں۔اب اسکو سیاسی میدان میں لے آئیں تو پتہ چلتا ہے کہ بدنام ہونگے تو کیا نام نا ہوگا، یعنی اگر کسی کو غیر معمولی شہرت کی خواہش ہے اور بہت کچھ کر گزرنے کے باوجود بھی کچھ نہیں ہوسکا ہے تو کوئی ایسا غلط کام کہ جس کی سنوائی خوب ہوسکے کر لیا جائے۔ دنیا کا تو ہم وثوق سے نہیں کہہ سکتے لیکن پاکستان میں سیاست کی داغ بیل جھوٹ سے ڈالی جاتی ہے اور جیساکہ خوب کہا گیا ہے کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے آپکو مزید سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں لیکن یہاں تو سو کی بجائے ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ جھوٹ کا شروع ہوجاتا ہے یہاں تک کہ کہانی اپنے عنوان سے ہی انحراف کر دی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں ایک طرف تو انتخابات کرانے کا مطالبہ انتخابات کے نتائج آتے ہی دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ زور شور سے شروع کردیا جاتا ہے، یہاں تک کہ پانچ پانچ سال تک اسی مطالبے کا طبلہ بجایا جاتا ہے۔ یعنی حکومت مخالف جماعتیں پہلے دن سے انتخابات کے غیر منصفانہ اوردھاندلی ہونے کا ڈھول پیٹنا شروع کردیتی ہیں۔ پھر پاکستان میں سیاسی جماعتوں میں ماحول کیمطابق ردوبدل ہوتی رہتی ہیں، افراد وہی رہتے ہیں لیکن جماعتوں کے نام بدل جاتے ہیں اور کچھ کچھ منشور بھی بدل جاتے ہیں اور کہیں نظرئیے بدل جاتے ہیں۔بنیادی عنصر فرد ہے تو وہ تقریباً وہی رہتے ہیں یا پھر انکی اگلی نسل گلی سڑی سیاست کے مزے لوٹنے کیلئے تیار ہوجاتی ہے۔

پاکستان کو تاحال کوئی ایسانظام نہیں ملا جو سیاست کی بجائے ملک کو بچانے کیلئے ہواور جو ملک میں رہتے ہوئے ملک کیخلاف کام کرے اسے فوری طور پر سر عام تختہ دار پر لٹکانے کا مجاز ہو۔ بات کر رہے ہیں الزامات کی جس کا سیاست کیساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مفادات کی خاطر ایک ساتھ بیٹھی ہوئی حکومت مخالف جماعتوں کو ہی لے لیجئے ماضی میں کس کس طرح سے ایک دوسرے کو للکارتے رہے ہیں اور جہاں لگا کہ ذاتی مفادات سے ٹکراؤ ہوسکتا ہے تو فورا ہی رویہ تبدیل کرلیا گیا ایسے ہم آہنگ ہوگئے کہ جیسے یہ گیارہ بارہ نہیں بلکہ ملک کی ایک ہی سیاسی جماعت ہے۔ بات تو ایسی ہی ہے جن کا نظریہ بھی ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ کھاؤ، کھاؤ اور کھاؤ ہے۔ جس کو کھانے کو نہیں ملے گا وہ شکائیئیتوں کا کٹورا لے کر ذرائع ابلاغ کو بلا کر جھوٹ کو سچ سچ بتا دیتے ہیں۔ہماری سیاست کا خاصہ ہے کہ ایک دوسرے پر جب تک کیچڑ نا اچھالی جائے ایک دوسرے کی کردار کشی نا کی جائے تو سیاست کر مزہ ہی نہیں آتا۔

دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ امریکہ میں ہونے والے انتخابات بھی کچھ پاکستان سے مختلف نہیں دیکھائی دے رہے ہیں کیونکہ ہارنے والے امیدوار اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی شکست تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں اسکے ساتھ ساتھ دھاندلی اور غیر منصفانہ انتخابات کا راگ بھی آلاپا جا رہا ہے جوکہ کسی حال میں بھی امریکہ کے حکمت عملی سازوں کیلئے خوش آئند نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں بھی سیاسی گہما گہمی لگی ہوئی ہے کوئی اپنی دولت بچانے کیلئے نکلا ہوا ہے، کوئی اپنی سیاسی بقاء کیلئے نکلا ہوا ہے اور کوئی اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے نکلا ہوا ہے۔ یہ وہ تمام لوگ ہیں جنکا عوام کی فلاح سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، یہ لوگ عوام کو صرف اپنی سیاسی انا کی تسکین کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں کراچی کی ایک نومولود سیاسی جماعت جسکے روح رواں بھی اپنی سیاسی انا کی تسکین کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں اور گاہے بگاہے ابلاغ کے لوگوں کو جمع کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور ان رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں جن رازروں میں وہ خود بھی شریک رہے۔ یہ ایک تسلسل ہے جو چلے ہی جا رہاہے اور ملک کے مفادات جو ایسی ابلاغ عامہ کو آگہی فراہم کر کے دنیا میں پاکستانیوں کیلئے شرمندگی کا باعث بننے کا سبب بنتا ہے۔ ماضی کو گھسیٹ کر کوئی حال یا مستقبل میں نہیں لاسکتا۔ ایسے تمام سیاسی مجاہدین جو فقط اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے ابلاغ عامہ میں موجود رہنے کیلئے ایک دوسرے پر نفرتوں کے تیر چلاتے ہیں۔

ہم بہت حد تک اپنی الزامات والی عادت برآمد کر چکے ہیں (امریکہ میں جیسا بیان کیا ہے) کبھی سب مل کر عوام کا بھی سوچ لیں کہ عوام کیا چاہتی ہے اور عوام کی بنیادی ضروریات زندگی کس طرح سے پوری کی جاسکتی ہیں، قوم کی بحالی کیلئے بھی ایک ساتھ ہوکر کھڑے ہوجائیں۔۔ کوئی ایک سال ایسا مختص کردیں کہ جس میں صرف اور صرف عوام الناس کی فلاح و بہبود کیلئے کام کیا جائے گا۔ ایک دوسرے کی اچھائیاں بیان کرنے کا سال منا لیں۔ اپنی اپنی تنخواہوں میں سے جو زیادہ بچتا ہے وہ بھی ایک عوامی فنڈ میں جمع کرائیں اور اسکا استعمال بہترین سہولیات مہیہ کرنے کیلئے استعمال کریں۔ کوئی ایک سال تو ایسا ہو کہ جس میں عوام سیاستدانوں سے ذرائع ابلاغ کے ذرائع سے اپنی بہبود کے منصوبوں نہیں بلکہ سہولیات کی فراہمی کیلئے آگاہ کریں، انصاف کی بحالی کیلئے آگاہ کریں۔ شائد ایک سال کی مشقت سے کم از کم ہمارے سیاست دانوں کی الزام تراشی کی سیاست ختم ہوجائے اور ملک میں حقیقی تبدیلی آجائے۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میں جس کو بھی سہارا کر رہا تھا
  • مولوی عبدالحق اور اُردو زبان
  • سنتا ہوں میں صدائیں یہ اشکوں کی جھیل سے
  • ایک نظرِ محبت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
موسم بدل رہا ہے
پچھلی پوسٹ
نانا پلازہ کی نوکری

متعلقہ پوسٹس

کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے ؟

اپریل 23, 2020

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا

مئی 28, 2024

جس کے ہاتھ میں تانا بانا ہوتا ہے

اکتوبر 16, 2025

والد – جنت کا دروازہ

جون 29, 2020

میں نے کائنات کو تشکیل پاتے دیکھا

دسمبر 27, 2020

جو سر پہ میرے دوپٹہ دکھائی دیتا ہے

اگست 23, 2020

عجیب احساس ہے محبت

نومبر 4, 2021

علامہ اقبال اور ایران

نومبر 1, 2024

خبر ہونے تک

مئی 21, 2020

حسینیت کا پیغام – انسانیت کے نام!

ستمبر 7, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جنرل (ر) فیض حمید کی سزا

دسمبر 14, 2025

ساحر لدھیانوی ۔ ایک نیا مطالعہ

جولائی 5, 2024

کبوتروں کو اڑاتا ھوں

جنوری 5, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں