خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامجنرل (ر) فیض حمید کی سزا
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

جنرل (ر) فیض حمید کی سزا

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 14, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 14, 2025 0 تبصرے 65 مناظر
66

جنرل (ر) فیض حمید کی سزا اور ریاستی احتساب کا سوال

پاکستان کی تاریخ میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو وقتی خبروں سے آگے بڑھ کر قومی شعور کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو فوجی عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزا بھی اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ یہ محض ایک سابق اعلیٰ فوجی افسر کے خلاف عدالتی کارروائی نہیں بلکہ طاقت، سیاست، ریاستی اداروں اور احتساب کے اس پیچیدہ رشتے کی عکاس ہے جس پر برسوں سے سوال اٹھتے رہے ہیں مگر جواب کم ہی ملے۔

جنرل فیض حمید کا نام پاکستانی سیاست میں کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا۔ بطور ڈی جی آئی ایس آئی ان کا کردار ایک ایسے دور سے جڑا ہوا ہے جب ریاستی طاقت کے مراکز، سیاسیgen faiz hameed فیصلوں اور حکومت سازی کے معاملات پر مسلسل بحث جاری رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کو محض ایک انفرادی مقدمہ سمجھنا سادہ لوحی ہوگی۔ یہ معاملہ اس پورے نظام سے جڑا ہوا ہے جس میں طاقت کبھی پس پردہ اور کبھی اعلانیہ سیاست پر اثر انداز ہوتی رہی۔

مقدمے کا آغاز فوجی قوانین کے تحت ہوا اور فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے کارروائی مکمل کی گئی۔ ریاستی اداروں کا مؤقف یہ ہے کہ یہ ایک داخلی احتسابی عمل ہے اور اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ بظاہر یہ دلیل درست معلوم ہوتی ہے مگر پاکستان جیسے ملک میں جہاں ماضی میں طاقت اور سیاست ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے رہے ہوں وہاں ہر فیصلہ اپنے ساتھ کئی سوالات بھی لے کر آتا ہے۔

الزامات کی نوعیت خود اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسئلہ محض نظم و ضبط کا نہیں بلکہ ریاستی حدود کا ہے۔ سیاسی معاملات میں مداخلت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور حساس معلومات سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ایسے الزامات ہیں جو فرد سے زیادہ پورے نظام کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔ یہ الزامات دراصل اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ جب ریاستی طاقت بے لگام ہو جائے تو قانون اور سیاست دونوں کمزور پڑ جاتے ہیں۔

عدالتی کارروائی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور ملزم کو صفائی کا مکمل حق دیا گیا۔ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی جڑا ہوا ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر عوامی اعتماد کیسے بحال کیا جائے۔ شفافیت صرف انصاف کے لیے نہیں بلکہ انصاف پر یقین پیدا کرنے کے لیے بھی ضروری ہوتی ہے۔

سزا کا اعلان اس پورے معاملے کا فیصلہ کن لمحہ تھا۔ ایک ایسے افسر کو طویل قید کی سزا دینا جو ماضی میں طاقت کے مرکز کے قریب سمجھا جاتا رہا ہو، ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ کچھ حلقے اسے قانون کی بالادستی کا آغاز قرار دے رہے ہیں اور کچھ اسے طاقت کے اندرونی توازن میں تبدیلی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔

حکومتی اور عسکری بیانیہ اس فیصلے کو ادارہ جاتی احتساب کی مثال کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اگر واقعی احتساب کا یہ عمل خلوص نیت پر مبنی ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر یہاں ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ احتساب مستقل ہوگا یا یہ محض ایک مخصوص دور اور مخصوص کردار تک محدود رہے گا۔

فوج اور سیاست کا تعلق پاکستان کی تاریخ کا سب سے حساس موضوع رہا ہے۔ ہر بحران کے بعد یہ بات کی جاتی رہی کہ اب ادارے اپنی حدود میں رہیں گے مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی پرانے سوال دوبارہ سر اٹھا لیتے ہیں۔ جنرل فیض حمید کا مقدمہ اس بحث کو ایک نئی زندگی دے رہا ہے اور یہ پوچھنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا واقعی اب ایک نیا باب کھل رہا ہے یا یہ بھی ماضی کی طرح ایک وقتی مرحلہ ثابت ہوگا۔

سیاسی تناظر میں یہ فیصلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ چونکہ جنرل فیض حمید کو ایک سابق سیاسی دور سے جوڑا جاتا رہا ہے اس لیے بہت سے لوگ اس فیصلے کو سیاست سے الگ ہو کر دیکھنے پر تیار نہیں۔ اگر یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا تو احتساب کا تصور کمزور پڑ سکتا ہے کیونکہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

میڈیا اور عوامی ردعمل اس بات کی واضح علامت ہے کہ معاشرہ اب طاقتور طبقات کے احتساب کے معاملے پر سنجیدہ ہو چکا ہے۔ کچھ لوگ اسے امید کی کرن سمجھتے ہیں اور کچھ اسے دیر سے لیا گیا مگر ضروری قدم قرار دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب محض نعروں سے مطمئن نہیں بلکہ عملی مثالیں چاہتے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر بھی اس فیصلے کو غور سے دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی میڈیا نے اسے پاکستان میں سول ملٹری تعلقات اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے تناظر میں رپورٹ کیا ہے۔ یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ دنیا اب ریاستوں کا جائزہ محض معیشت یا خارجہ پالیسی سے نہیں بلکہ داخلی شفافیت اور قانون کی عمل داری سے بھی لیتی ہے۔

قانونی طور پر یہ معاملہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔ اپیل کا حق موجود ہے اور آئندہ مراحل اس مقدمے کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ فیصلہ کس سمت میں جاتا ہے اور ریاست اس سے کیا سیکھتی ہے۔

آخر میں اصل سوال یہی ہے کہ کیا جنرل فیض حمید کی سزا ایک فرد کے احتساب تک محدود رہے گی یا یہ ریاستی رویے میں مستقل تبدیلی کا آغاز ثابت ہوگی۔ اگر طاقت کے ہر مرکز کو جواب دہ بنایا گیا تو یہ فیصلہ تاریخ میں مثبت موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ بھی ماضی کے کئی فیصلوں کی طرح ایک مثال بن کر رہ جائے گا جس سے امید تو بندھی مگر انجام تک نہ پہنچی۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اختلاف رائے جرم نہیں
  • مشرقی عشق اور شاطر شرفا
  • فائو جی کیمرا
  • گرہن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سورة الفاتحة
پچھلی پوسٹ
نثار جاؤں ترے، پیار کر کے دیکھ تو لوں

متعلقہ پوسٹس

جس طرح لوگ خدا کی ہیں عبادت کرتے

مئی 25, 2026

دو سیاح

جنوری 11, 2020

مذہب کا مسئلہ

جنوری 4, 2022

ایک تصویر

جنوری 13, 2020

مندمل کردو ہر اک گھاؤ، پیام عید ہے

مئی 23, 2020

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

منٹو پر فحاشی کا الزام

اکتوبر 21, 2019

سہیلی

دسمبر 1, 2019

میری زندگی، میری کہانی

جنوری 31, 2025

حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ

اگست 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

فلسفہ ماہ رمضان

اپریل 23, 2020

جسمانی طاقت کی بنیاد

اپریل 1, 2023

چالاک عورت

اکتوبر 9, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں