خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےسہیلی
اردو افسانےاردو تحاریرعشرت ناہید

سہیلی

ایک افسانہ از ڈاکٹر عشرت ناہید

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 1, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 1, 2019 0 تبصرے 393 مناظر
394

سہیلی

وہ پچھلے پانچ دن سے بہت پریشان تھی وہ کیا بستی کے سب ہی لوگ پریشان تھے ۔ پچھلے سال کی طرح اس بار بھی بارش منہ دھونے کی حد تک کا پانی دے گئی تھی جس کی وجہ سے میونسپلٹی والے بہت کم وقت کے لیے پانی کی سپلائی کرتے تھے اور وہ جس وقت پانی دیتے تھے بجلی بند کر دیتے تھے تاکہ لوگ پانی کی موٹر نہ چلا سکیں جس کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو پانی بالکل ہی نہیں مل پاتا تھا لیکن اس سب کے باوجود بھی نلوں میں بس گزارے لائق ہی پانی مل پاتا تھا وہ تو بھلا ہو حاجی جی کا جن کے یہاں بورنگ کے ساتھ خوف خدا بھی تھا وہ غریبوں کے لیے ایک گھنٹہ نل کھول دیا کرتے تھے اور وہ لائن میں لگ کر اپنی ضرورت کا پانی بھر لیا کرتی تھی مگر ایک ہفتہ سے ان کے بورنگ بھی جواب دے گیا تھا آخر زمین بھی کب تک اپنا دوہن سہن کرتی رہتی اس کابھی تو سچ یہی ہے کہ جب تک بارش کے قطرے اس کے دامن کو بگھوتے رہیں گے وہ اپنی نمی قائم رکھ پائے گی لیکن کب کوئی اس بات کو سوچتا ہے ۔ زمین نمی کھو دے تو بھی الزام اسی کو کہ بنجر ہو گئی ہے ۔
بنجر یہ لفظ اسے ایک ایسی دنیا میں لے جاتا جہاں دور دور تک کوئی نہ ہوتا بس لق و دق صحرا جہاں وہ بھٹکتی رہتی اور سوچتی کہ اپنے بنجر ہونے کی کیا وہ تنہا ذمہ دار ہے ؟
جواب اسے تو نہیں میں ہی ملتا مگر دنیا اس کا جواب سننے کو تیار ہی نہیں ہوتی اور سب سے بڑھ کر اس کا شوہر جس کے پیار کی پھوار ہی اس کے درد کا مداوا تھی اس سے سدا بے نیاز رہتا ۔
نام تو اس کا سکینہ تھا اور سکینہ ہی کی طرح پیاس اس کی زندگی کی علامت بن گئی تھی
اس کے سامنے اس کا دریا بہتا لیکن اس کی استطاعت سے دور بہت دور
وہ اکثر دوڑتی ہوئی دریا کے قریب پہنچ بھی جاتی مگر وہ دریا ساکت اسے دیکھتا رہتا اسکی پیاس بجھا نہ پاتا
اور وہ لب پر کوئی فریاد لائے بنا چپ چاپ لوٹ آتی۔
کہ دریا کے کنارے پہنچ کر بھی صبر کے سوا کوئی چارہ نہ تھا
مگر دریا عجیب تھا اپنی پیاس نہ بجھا پانے کی کمی کو اسے ہی بنجر کہہ کر پوری کرتا
اور وہ حیران اس کی شکل دیکھتی رہتی
اب تو وہ اس نام کی ایسی عادی ہوگئی تھی کہ اپنا اصل نام ہی بھولتی جارہی تھی
آج بھی زرا سا سالن میں نمک کم ہو گیا تھا جس پر فیضو نے کھانا پھینک دیا تھا اور غصہ سے چلاتا ہوا چلا گیا تھا کہ
” بنجر اگر گھر کے کا م ٹھیک سے نہ کریگی توایک دن تجھے بنجارن بنا دونگا ”
اور وہ سوچتی رہ گئی تھی بنجارن !!!!!!!
بنجارن عورت تو پیدائشی بنجارن ہے فیضو اب اسے کیسے بنجارن بنائے گا بھلا عورت کا تو مقدر ہی ایک گھر سے دوسرے گھر جانا ہے وہاں بھی سائبان نہ ملے تو کبھی در در بھٹکنا یا پھر نئے سائبان کی تلاش ۔وہ جانے کیوں مسکرا دی ۔اور سر جھٹک کر برتن رگڑنے لگی ۔ لیکن ایک فکر مسلسل اس کے سر پر سوار تھی جس کے آگے فیضو کی چیخ پکار کوئی معنی ہی نہ رکھتی تھی اور وہ تھی پانی کی۔ وہ دعا کر رہی تھی کہ اللہ لا لا جی کو جلد اچھا کردو کیونکہ ایک لالا جی ہی تھے جن کے یہاں کنواں تھا مگر دل نہ تھا کسی کسی دن مہربان ہوتے تو پانی دے دیتے وگرنہ پھٹکار کر بھگا دیتے مگر ان کی بیوی آشا دیدی بڑی خدا ترس تھی ۔لا لا جی جیسے ہی مندر جاتے وہ جلدی سے لوگوں کو پانی بھرنے کو نہ صرف کہتیں بلکہ خود گلی کے اس سرے پر کھڑی ہو جاتیں جس طرف سے لالا جی واپس آتے تھے جیسے ہی وہ آتے دکھائی دیتے سب کو بھگا دیتیں سب دیدی کو تو خوب دعائیں دیتے مگر لالہ جی کو برا بھلا بھی ضرور کہتے ۔ابھی کچھ دنوں سے لالہ جی بیمار تھے اور گھر پر ہی رہتے تھے مندر بھی نہیں جا پا رہے تھے اس لیے آشا دیدی بھی نیکی کرنے سے مجبور تھیں ،دوسرے کنویں کا پانی بھی نیچے بیٹھتا جا رہا تھا اور سکینہ اس تمام صورت حال کو لے کر بہت پریشان تھی کیونکہ اس کا شوہر فیضو جس کا باطن تو حد درجہ میلا تھا اور جس کی طرف اس نے کبھی توجہ ہی نہ کی تھی کہ کبھی اسکی بھی آلودگی دور کی جا نا چاہیے بس با ہر کے اجلے پن کا ہر دم خیال رکھتا اور خود کیا خیال رکھتا بس سکینہ پر حکم چلاتا رہتا سکینہ کو درد کے بے شمار داغ دینے والا لباس پر زرا سا داغ برداشت نہ کرتا ۔ شرٹ پر ایک بھی سلوٹ اس کے ماتھے پر بے شمار سلوٹیں ڈال دیتیں لیکن سکینہ کی سلوٹوں سے بھری زندگی اسے کبھی نظر نہ آتی ۔ وہ ارشد صاحب کا ڈرائیور تھا اور رہتا ایسا تھا جیسے خود ہی صاحب ہو اور صاحب کی طرح اپنی کمائی بھی باہر خرچ کر آتا تھااور وہ ان کے گھر میں کام کر اور بیگم صاحبہ آفس جا کر گھر کا خرچ چلاتی تھیں
آج تو وہ سخت پریشان تھی کہ آخر پانی لائے تو کہاں سے ؟ بستی کے کئی لوگ دور دور جا کر کہیں نہ کہیں کسی کے بورنگ یا کنویں سے تھوڑا پانی لے آتے تھے مگر وہ نہ جا پاتی تھی ایک تو کئی گھروں میں برتن ، جھاڑو پونچھے کا کام کر نے کے بعد وہ اتنا تھک جاتی تھی کہ کہیں جانے کی ہمت ہی نہ ہوتی تھی اس نے کئی بار فیضو سے کہا بھی تھا کہ کہیں سے پانی لائے تو الٹا اسے ہی کہتا
” دن بھر نوکری کروں اور تیرے لیے پانی بھی بھر کر لاﺅں بنجر مجھے اپنا گلام سمجھتی ہے کیا ؟ ‘ ‘
اور آج تو وہ اسے دھمکی ہی دے گیا تھا ” چاہے کیسے بھی ہو مجھے پرسوں تک صاف ستھرے کپڑے چاہئیں صاحب کے ساتھ باہر جانا ہے ورنہ بنجر تیری کھیر نہیں ‘ ‘ سکینہ کا دل اس کے غصے سے لرزنے لگا
کام پر سے واپس آتے ہوئے سکینہ اور شکیلہ یہی باتیں کرتی ہوئی آرہی تھیں کہ کیا کریں بڑے لوگ تو کیسی آسانی سے گھر میں پانی کا ٹینکر ڈلوا لیتے ہیں مگر ہم گریب کیا کریں ؟۔‘ ‘
راستے میں صغرٰی بھی مل گئی شکیلہ نے پوچھا ” اری صگرٰی تو اس دن اپنے میاں کے ساتھ کہاں سے آرہی تھی سائیکل پر؟ ‘ ‘
” ارے میں تو ندی پر کپڑے دھونے گئی تھی ‘ ‘۔
سکینہ اور شکیلہ نے ایک دوسرے کی طرف یوں دیکھا مانو انہیں اپنی پریشانی کا حل مل گیا ہو
” سکو سن ایسا کرتے ہیں کل سارے گھروں کا کام نپٹا کر ہم بھی ندی پر چلتے ہیں اور سارے کپڑے دھو لاتے ہیں ‘ ‘۔
” لیکن ندی تو بہت دور ہے یہ تو سائیکل پر گئی تھی ہم کیسے جائینگے ؟‘ ‘
” اری ناجک پری ہم تو پیدل ہی جائینگے باتیں کرتے کرتے ‘ ‘
اسے ایکدم اپنا وہ زمانہ یاد آگیا جب وہ ماں اور محلے والیوں کے ساتھ ندی پر جایا کرتی تھی اس کے گاﺅں کی ندی کا راستہ کچی پگڈنڈی والا تھا راستے میں خوب املی اور بیری کے جھاڑ بھی تھے جنہیں وہ اور اس کی سہیلیا ں توڑتی تھیں ۔املی کی کھٹائی اسے اتنی اچھی لگتی تھی کہ وہ سوتیلی ماں کے رشتے کی کھٹائی بھی بھول جایا کرتی تھی ۔
” کہاں کھو گئی سکو ؟ ‘ ‘ شکیلہ اس سے پوچھ رہی تھی
” ہاں ۔۔ ‘ ‘وہ ایکدم چونکی ” ہاں کل چلتے ہیں میں فیضو کو بھی بتا دوں گی ‘ ‘
لیکن شام کو شکیلہ نے اسے زور سے چلاتی ہوئی بولی
” اری سکو جلدی باہر آ د یکھ تو کل جمعہ میں مسجد میں دعا ہوئی تھی نا
دیکھ اللہ نے ہم سب کی سن لی اللہ کی رحمت آگئی ‘ ‘
وہ باہر آئی تو اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا آسمان پر بادل گھر آئے تھے ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں بستی کے سارے لوگ مارے خوشی کے دیوانے ہو رہے تھے کہ آج بارش ہو نے والی ہے اسی دم اندھیرا سا چھا گیا سب کے چہرے خوشی سے کھلے پڑ رہے تھے کہ آسمان صاف ہونے لگا بادل تیز ہواﺅں کے ساتھ آگے بڑھنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ دور چلے گئے اسی کے ساتھ بستی والوں کے منہ اتر سے گئے اورسب قدرت کے اس رویہ پر اداس ہو گئے وہ سوچنے لگی کہ اللہ رحمت بھیج کر برسانا کیوں بھول گیا ہمارا اللہ بھی کتنا سخت دل ہوتا جا رہا نہیں نہیں ایسا تو سوچنا بھی گناہ ہے اس نے جلدی جلدی دونوں ہاتھ گالوں پر مار کر توبہ کی اور مایوس سی اندر چلی آئی
دوسرے دن سکینہ ، شکیلہ کے سا تھ بستی کی دو چار اور عورتیں بھی جانے کو اکٹھا ہو گئیں ۔ راستے بھران سب کے ساتھ ان کے دکھ سکھ بھی چلتے رہے ۔ سکینہ کبھی ان کی باتوں میں شریک ہوتی کبھی کچی پگڈنڈی پر نکل جاتی جہاں راستے کے پیڑوں پر چڑیا اور مینا کو دیکھ کر وہ بھی ان کے ساتھ پیڑوں پر رہنے کی تمنا کیا کرتی تھی وہ تمنا اس کے دل میں آج بھی بس رہی تھی لیکن آج راستے میں اسے کوئی نہ ملا نہ چڑیا نہ طوطا نہ ہی مینا جانے کہاں کھو گئے اسکے بچپن کے وہ سارے ساتھی لیکن سچ تو یہ تھا پیڑ ہی نہ ملے تو اس پر بسیرا کرنے والے کہاں سے ملتے
ندی پہنچنے کی سکینہ کو بہت جلدی تھی وہ بار بار سب کو ٹوکتی ،اور پیر تیز بڑھانے کو کہتی ۔جانے اسے جلدی کیوں تھی شاید اس کے اندر بنجارن بننے کا ڈر گھر کرتا ہی جا رہا تھا فیضو کی دھمکیوں میں اب اسے سچ سا نظر آرہا تھا ۔ایک تلوار اس کے سر پر ٹنگی تھی جانے کب فیضو اسے خانہ بدوش بنا دیگا اور وہ بنجاروں کی طرح بھٹکنے پر مجبور ہو جائیگی ساتھ ہی اس کے اندر کی زرخیزی کی تمنا بھی اسے بیچین کیے رہتی تھی بستی میں جب بھی کسی کی گود بھرائی ہوتی وہ دور کھڑی ساری رسمیں حسرت کے ساتھ دیکھا کرتی اس کا تو سایہ بھی ایسی رسموں میں منحوس مانا جاتا وہ ہرے پان کے پتے، چھوٹی چھوٹی ہری گھانس ، پانچ طرح کے پھل اور میوے مشٹھان جب سہاگن کی گود میں رکھ کر اسے ہری چوڑیاں پہنائی جاتیں تو اس کا دل خون کے آنسو روتا کہ کاش وہ بھی زرخیز ہوتی اس کی کلائیوں میں بھی ہری ہری چوڑیاں کھنکتیں جن کے لیے وہ ترس گئی ہے بس ہرا رنگ ہی زندگی باقی سارے رنگ اس کے سامنے پھیکے ۔ کیسی سوکھی خشک بے رنگ سی اس کی زندگی ہے کاش ہرا رنگ اس کا بھی نصیب بنتا ۔ نصیب بدلنے کے لیے وہ کتنے باباﺅں کے یہاں گئی کتنے مزاروں پر سجدے کر بیٹھی تھی کتنے تعویذ گنڈے اس نے گلے اور کمر میں باندھے تھے مگر ان سب سے کیا ہونا تھا اس کی دھرتی تو پیاسی تھی ہری کونپل کہاں سے پھوٹتی؟۔
” اری سکو زرا رک تو تو اتنی تیز تیج کہاں چلی جارہی ؟ہم بھی تو ساتھ ہی ہیں لیکن تیری طرح دوڑ دوڑ کے نہیں چل سکتے آج تو لگتا ہے ساری ندی کا پانی سکو ہی لے لیگی ‘ ‘
سب ایک ساتھ ہنس پڑیں تب اس نے دیکھا کہ اپنے خیالوں میں گم وہ سب سے آگے نکل آئی تھی وہ رک گئی اور سب کے ساتھ ہو گئی پڑوس والی چاچی اس کے ساتھ ہو گئیں اور بڑی رازداری سے کہنے لگیں
” سن سکو میری بیٹی کے محلے میں ایک بہت پہنچی ہوئی اماں آئی ہوئی ہیں تو میرے ساتھ چل اللہ کرے گا تو وہ تیرا سارا بندو بست کر دینگی اور یہ فیجو بھی سدھر جائیگا ۔‘ ‘
” ارے چاچی بگڑے نصیب کبھی سدھرتے ہیں بھلا ‘ ‘ وہ مایوسی سے بولی
” ایک تو تو ہٹ دھرم بہت ہے کوئی تیرا بھلا بھی بھلا کیسے کرے ؟‘ ‘
” ٹھیک ہے چاچی چلی چلونگی مگر پیسیے بھی تو ہوں پچھلے بابا جی نے بھی دو ہجار لے لیے تھے اتارے کے اور عرجی لگانے کے وہی قر ضا ابھی تک ہے ‘ ‘
” ہاں بیٹا یہ تو ہے کہ پیسا بہت مانگتے یہ لوگ تو سوچ لے ‘ ‘
وہ کیا سوچتی وہ تو آج ماضی حال اور مستقبل کے بھنور میں ایسا پھنسی تھی کہ کوئی راستہ ہی نہیں دکھائی دے رہا تھا پچھلی یادیں، پگڈنڈی ،چڑیا، طوطا، مینا، املی، بیری اور ندی جس کی لہروں میں اسے اپنی ماں کا عکس دکھائی دیتا تو کبھی اپنی پکی سہیلی سی لگتی تھی اور وہ اس کی گود میں سر رکھ کر اپنے سارے دکھ درد آنسو کی شکل میں بہا دیتی تھی اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا تھا کہ واپسی میں اتنی پر سکون کیوں ہو جاتی ہے آج بھی وہ سوچ رہی تھی کہ فیضو کی غلاظت تو دھوئے گی ہی اپنی پرانی سکھی کو سارا درد بھی پہلے کی طرح سنا کر پر سکون ہو جائے گی ۔اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ندی پر نہیں بلکہ اپنی برسوں کی بچھڑی سہیلی سے ملنے جا رہی ہے اس کے قدم پھر خود بخود تیز ہو گئے تھے لیکن جیسے ہی وہ ندی پر پہنچی اس کا دل بیٹھ گیا کیونکہ اس کی سہیلی بھی اسی کی طرح بنجر سی ہو چکی تھی ۔

ڈاکٹر عشرت ناہید

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تہجد عشق ہے
  • آزادی کے نعروں میں چھپی قانون شکنی
  • پچیس سال کی لیز
  • آخر کورونا چاہتا کیا ہے؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دھنک رنگ زندگی
پچھلی پوسٹ
دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا

متعلقہ پوسٹس

ایک بیوقوف عورت

جنوری 24, 2020

ادبی تخلیق اور ادبی تنقید

مئی 27, 2024

بےنظیر

دسمبر 29, 2019

عِشق حقیقی

جنوری 21, 2020

عمر خیام

جون 1, 2025

ہماری تہذیب اور مرحوم عامر

جولائی 13, 2022

ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر

اگست 17, 2025

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

شو پیس

مئی 21, 2020

ہم کہیں کے نہ رہے!

فروری 21, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

باباجی!

اکتوبر 14, 2020

ایک بار الکشن میں

دسمبر 15, 2019

سرنگ

جون 9, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں