خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباوہ ایک مونگ پھلی
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریر

وہ ایک مونگ پھلی

از سائیٹ ایڈمن مئی 24, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 24, 2024 0 تبصرے 101 مناظر
102

سیٹھ ارشاد اپنے بنگلے کی اندرونی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ انھیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ انھوں نے دوبارہ اپنی آنکھیں ملیں، لیکن منظر پھر بھی وہی رہا۔ پانچ روز پہلے ہی وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک قریبی عزیز کی شادی میں شرکت کے لیے یہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ شادی ایک دوسرے شہر احمد نگر میں تھی۔ تقریب میں سب کی شرکت ضروری تھی، اس لیے وہ اپنے گھریلو چوکیدار اور خانساماں کو گھر کا امین بنا کر چلے گئے۔

سیٹھ ارشاد کے عزیز انھیں آج بھی جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے، لیکن انھوں نے دفتری مصروفیات کا بہانہ کر کے ان سے اجازت لے لی، البتہ انھوں نے اپنی بیگم اور بچوں کو مزید دو دن رہنے کی اجازت دے دی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اتوار کے روز وہ گھر والوں کو واپس لے جائیں گے۔ اکیلے سفر کرنا اور گھر میں رہنا ان کے بس کی بات نہیں تھی، اس لیے وہ اپنے بڑے بیٹے غفران کو اپنے ساتھ گاڑی میں لے کر روانہ ہو گئے، گھر پہنچے تو وہاں کا نقشہ ہی بدلا ہوا دیکھا۔

وہ ڈرائنگ روم سے کچن اور کچن سے ٹی وی لاؤنج اور دوسرے کمروں کی طرف دوڑے۔ جوں جوں وہ آگے بڑھتے رہے، ان کی حیرانی اور پریشانی بڑھتی گئی۔ سردی کے موسم میں ان کے ماتھے پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کچھ کیسے ہو گیا۔

خانساماں تو انھوں نے ایک سال پہلے ہی رکھا تھا، لیکن چوکیدار تو گزشتہ آٹھ برسوں سے ان کے ہاں ملازمت کر رہا تھا۔ اگر کوئی اس کے بارے میں رائے لیتا تو وہ اس کی ایمانداری کی قسم کھانے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔ آج وہ دونوں غائب تھے اور ان کے بنگلے کا سامان بھی۔ ان کی حیرانی اس بات پر تھی کہ چوروں کے گھر کا بڑا سامان تک نہیں چھوڑا تھا۔

اچانک سیٹھ ارشاد کو گھر میں رکھی ہوئی دس لاکھ کی نقدی، بیگم کے زیورات اور ہیرے کے قیمتی سیٹ یاد آئے۔ انھیں یقین تھا کہ وہ محفوظ ہوں گے۔ وہ اپنے بیڈروم کی طرف دوڑے۔ دیوار پر تصویر ٹنگی دیکھ کر انھیں کچھ اطمینان ہوا کہ خفیہ لاکر کھولنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ تصویر ہٹا کر انھوں نے لاکر کا ہینڈل گھمایا تو انھیں اپنے پاؤ ں تلے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس لیے کہ ہینڈل آسانی سے گھوم گیا اور لاکر کھل گیا تھا۔ اندر نظر پڑتے ہی ان کا سر چکرانے لگا۔ وہ اپنے حواس پر قابو نہ رکھ سکے اور دھڑام سے گر پڑے۔ غفران نے اندر نظر ڈالی تو دیکھا کہ لاکر بالکل خالی تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ سامان نکالنے کے بعد اسے کپڑے سے رگڑ کر صاف بھی کر دیا گیا ہو۔

اپنے والد کی اچانک طبیعت خراب ہونے پر غفران پریشان تو ہوا، لیکن اس نے اپنے حواس قابو میں رکھے اور اپنے والد کو ہوش میں لانے کی کوشش کی، لیکن اسے کامیابی نہ ہو سکی۔ کسی نہ کسی طرح وہ انھیں گاڑی تک لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ وقت پر اسپتال پہنچ جانے سے ارشاد صاحب کی جان بچا لی گئی۔

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ انھیں شدید صدمے کی وجہ سے "برین ہیمرج” ہوا ہے اور دماغ کی رگ پھٹنے سے ان پر فالج ہو چکا تھا۔ اب ان کا جسم حرکت کرنے کے قابل نہ رہا تھا۔ سیٹھ ارشاد بیڈ پر پڑے کمرے کی چھت کو گھور رہے تھے۔ غفران اپنے والد کی یہ حالت دیکھ کر رو دیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ کچھ دیر پہلے ہنستے بولتے اس کے والد اس طرح بے جان لاش بن جائیں گے۔ غفران کمرے کے کونے میں کھڑا اپنے والد کی صحت یابی کے لیے دعا کر رہا تھا۔

اسپتال میں آنے والے ان کے پڑوسیوں نے بتایا کہ ان کے ملازمین دو دنوں میں سارا سامان گاڑیوں میں ڈال کر لے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارشاد صاحب نے دوسرے شہر میں بنگلا لے لیا ہے۔ چوکیدار امام بخش اس پورے کام کی نگرانی کر رہا تھا۔

ارشاد صاحب جو اسپتال میں لیٹے لیٹے وہ تمام مناظر یاد آ رہے تھے، جن میں ان کا معتبر چوکیدار پیش پیش تھا۔ انھیں خیال آیا کہ لاکر کھولتے وقت بھی دو تین بار انھوں نے اسے اپنے کمرے سے باہر نہیں نکالا تھا، اس لیے کہ انھیں اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ اس کی موجودگی میں گھر کی معمولی سے معمولی اور قیمتی سے قیمتی چیز ادھر سے ادھر نہیں ہوتی تھی۔ دو چار بار تو چوکیدار سے انھیں گری ہوئی قیمتی چیزیں بھی لا کر پیش کر دی تھیں۔ پھر وہ کیسے اس پر شک کر سکتے تھے۔ اپنے قابل اعتماد نوکر کی ایک بڑی کاروائی کی وجہ سے وہ اسپتال میں پڑے ہوئے تھے۔ انھیں اپنا ماضی یاد آ رہا تھا، جب وہ بہت کم عمر تھے۔

دلشاد صاحب نے اپنے کم عمر بیٹے عاشی کی تلاش میں مڑ کر دیکھا تو وہ ان سے چند قدم کی دوری پر تھا۔ ایک دکاندار ان کے بیٹے کو ڈانٹ رہا تھا۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا، لیکن عاشی کے قریب آنے پر انھوں نے سوال کیا: "کیا ہوا عاشی! وہ دکاندار کیا کہہ رہا تھا؟”

"کک۔۔۔۔۔ کچھ۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔” عاشی نے اپنے حواس بحال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ کچھ دیر بعد عاشی نے ایک ٹافی خریدنے کے لیے اپنی جیب خرچی نکالی تو دلشاد صاحب چونک گئے۔ اس کے سکوں کے درمیان ایک مونگ پھلی بھی تھی۔ اچانک انھیں وہ دکاندار یاد آ گیا، جو عاشی پر غصہ ہو رہا تھا۔

انھوں نے پوچھا: "عاشی! تم نے مونگ پھلی چرائی تھی؟”

"نن۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ ابو۔۔۔ "وہ گڑبڑا گیا۔

"صرف ایک مونگ پھلی کی خاطر تم نے اپنا ایمان خراب کر لیا۔”

عاشی بولا: "ایک مونگ پھلی اٹھانے سے بھلا کیسے ایمان خراب ہو گیا؟” عاشی کا انداز ایسا تھا جیسے اس کے ابو اسے خوامخواہ ڈانٹ رہے ہوں۔

"بیٹا! چوری ایک روپے کی ہو یا ایک لاکھ کی۔ چوری، چوری ہوتی ہے۔ ہمارا مذہب اسلام سختی کے ساتھ اس عمل سے منع کرتا ہے۔” دلشاد صاحب اسے مختلف انداز سے سمجھا رہے تھے، لیکن عاشی کو یہ سب کچھ عجیب لگ رہا تھا۔ ایسا سب کچھ تو وہ اکثر کیا کرتا تھا۔ کہیں سے چنے، کہیں سے انار، کہیں سے کچھ اور کہیں سے کچھ۔ بھلا یہ چوری کیسے ہوئی؟

"اب تم یہ مونگ پھلی دکان دار کو واپس کرو گے اور اس سے معذرت بھی کرو گے۔” اس کے ابو نے گویا فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔ یہ فیصلہ عاشی کے لیے ناپسندیدہ تھا۔ بھلا ایک مونگ پھلی کی کیا اوقات تھی کہ اس کے لیے وہ ایک معمولی دکاندار کی بوری میں وہ مونگ پھلی واپس ڈال دی۔

اس کے والد اسے سمجھا رہے تھے: "بیٹا! چھوٹی چھوٹی چوریاں انسان کا حوصلہ بلند کر دیتی ہیں۔ اس کے دل کا خوف ختم ہو جائے تو وہ پھر بڑی بڑی چوریاں کرتا ہے۔”

اس نے اپنے والد کے "دقیانوسی” خیالات سن کر اپنا سر جھٹکا۔ وہ ہر وقت، ہر بات میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی باتیں لے آتے تھے۔ بھلا چھوٹی چھوٹی باتوں میں مذہب کا کیا کام۔ وقت گزرتا گیا۔ عاشی جسے معمولی بات سمجھتا تھا وہی بات بڑی ثابت ہوئی۔ چھوٹی چیزوں کے بعد عاشی نے بڑی چیزوں پر بھی ہاتھ ڈالنا شروع کر دیا۔ کبھی کسی کا قلم، کبھی کتاب اور پھر گھر سے بھی اپنی ضرورت کے مطابق چیزیں اڑانے لگا۔

بڑا ہو کر جب عاشی ایک سرکاری محکمے میں اعلیٰ افسر بن گیا تو وہاں بھی اس کی چوری کی عادت کسی نہ کسی طرح برقرار رہی۔ کبھی وہ بلوں میں چوری کرتا اور کبھی آدھا سامان ادارے میں منگواتا اور آدھا گھر بھجواتا۔ مختلف انداز سے کمیشن کے ذریعے سے رقم کی چوری اس کی عادت میں شامل ہو گئی تھی۔ اسے کسی بھی انداز کی چوری، چوری نہیں لگتی تھی۔ اس کام میں اسے ایک طرح کا سکون میسر آتا تھا۔ اس کے دن رات اسی طرح گزر رہے تھے۔

وہ چوریاں اور بے ایمانی کرتے کرتے عاشی سے سیٹھ ارشاد بن چکا تھا۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے اسے ہزاروں بار چور بننا پرا تھا۔ وہ ہزاروں بار اللہ تعالی کا مجرم بنا تھا اور آج صرف ایک چوری نے اسے اتنا غریب کر دیا تھا کہ شاید وہ سیٹھ ارشاد سے مونگ پھلی چرانے والا عاشی بن چکا تھا۔ آج تک وہ دوسروں کی محنت کی کمائی میں سے چوریاں کرتا رہا تھا اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ اس طرح ان لوگوں کے دلوں پر کیا گزرتی ہو گی، لیکن آج اسے اس بات کا علم ہو گیا تھا۔

 

فاروق دانش

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تیرے دل میں اگر نہیں رہتے
  • اُترن
  • مسٹر چیری
  • چوری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نیاز سواتی کی مزاحیہ قطعے
پچھلی پوسٹ
یہ ہفتہ کیسے گزرے گا

متعلقہ پوسٹس

ہمنوا، محرمِ جاں

جولائی 6, 2025

شی مین

مئی 10, 2020

نالہِ ہجر نہیں وصل بھی درکار نہیں

اکتوبر 25, 2025

چلو پھر آج کھو جائیں

نومبر 7, 2021

سید علی شاہ گیلانی کا ورثہ

ستمبر 19, 2025

اقبالِ جرم

فروری 15, 2023

ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے

اپریل 15, 2020

باباجی!

اکتوبر 14, 2020

نہ ہونے کا گماں رکھّا ہُوا ہے

جون 12, 2020

کیوں اُسی شخص سے ملنے کا بہانہ چاہوں

نومبر 5, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ملکی سلامتی اور دہشت گردی کا...

ستمبر 4, 2025

حیات ایسے گزاری جارہی ہے

اکتوبر 24, 2025

آخری ہدایت

جنوری 4, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں