خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرکہنو مجنوں کے مرنے کی
اردو تحاریراردو کالمزشہزاد نیّرؔ

کہنو مجنوں کے مرنے کی

از سائیٹ ایڈمن جولائی 5, 2024
از سائیٹ ایڈمن جولائی 5, 2024 0 تبصرے 58 مناظر
59

فرد اور ریاست کے مابین کشمکش ایک جاری و ساری عمل ہے۔یہ بحث بھی لا مختتم ہے کہ ریاست کو کہاں تک فرد کے معاملات میں مداخلت کا حق حاصل ہے یا یہ کہ فرد کہاں تک ریاستی امور میں مداخلت کا حقدارہے۔وہ لکیر کس جگہ کھینچی جائے جو فرد اور ریاست کے مابین حقوق و فرائض کا ٹھیک ٹھیک تعین کرے۔کہیں پڑھا تھا کہ زندہ معاشروں میں اس لکیر کا محل تبدل پذیر رہتا ہے اور یہ بحث ہمہ وقت جاری رہتی ہے کہ لکیر کہاں لگائی جانی چاہیئے!تاہم ایک بات طے ہے کہ مطلق العنان بادشاہوں کے دور سے لے کر جمہوری ریاستوں تک‘فردکے حقوق کے ادراک اور حصول میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ظاہر ہے کہ جدید دور کی فوجی و غیر فوجی آمرانہ حکومتیں یہاں استثنائی درجہ حاصل کریں گی جہاں فرد کے حقوق نہایت محدود کردیئے جاتے ہیں گویا فرد کی فردیّت کے باہرریاستی اجتماعیت کا دائرہ لگا دیا جاتا ہے بہرحال تاریخی طور پرانسان ریاست کی آن بان اور تحفظ کے نام پر قربان ہوتا آیا ہے۔ایک سچا تخلیق کار عوام کے حق میں جانبدار ہوتا ہے۔وہ نظریے اور ریاست سے بڑھ کر انسان کی نمائندگی کرتا ہے اور یہی کچھ کیا ہے سلمیٰ اعوان نے اپنے ناولٹ ”وہ اک تارا“ میں۔یہ ناولٹ نوے کی دہائی کے روس کے پس منظر میں لکھا گیاہے۔اس اعتبار سے اسکی فضا اجنبی سی ہونی چاہیئے تھی لیکن آفرین ہے کہ سلمیٰ اعوان کی فنی دسترس نے اسے ہر دل سے مانوس کردیا ہے۔ناولٹ پڑھتے ہوئے قاری ڈوب سا جاتا ہے اور قدم قدم پر نئی حیرتوں سے دوچار ہوتا ہے۔سلمیٰ اعوان نے عظیم روسی شاعرپشکن کی چند نظموں کے اردو ترجمے متن کا حصہ بنائے ہیں۔ایک حصہ دیکھئے (ترجمہ ظ۔انصاری)
اک اداس سے شمع جلتی ہے
میرے اجڑے ہوئے گھرمیں
بجھی بجھی سی اس کی کرنیں
اندھیرا اور بھی بڑھاتی ہیں
سلمیٰ اعوان کے اس نہایت معیاری ناولٹ پر مزید بات کرنے سے پہلے اسکے پس منظر پر ایک نظر ڈالنا مناسب ہوگا۔
بیسویں صدی کے اواخر میں عظیم اشتراکی ملک سوویت یونین کا بکھر جانا نہایت اہم واقعہ تھا۔دیوارِبرلن کا گرنا‘روسی جمہوریاؤں کا بتدریج آزاد ہونا اور مشرقی یورپ کے ممالک کا سرمایہ دارانہ نظام کی طرف بڑھنا ایسے واقعات تھے جن پر سرمایہ دوست دانشوروں نے خوب بغلیں بجائیں۔خاصی عجلت میں مارکسی نظریے کی موت کا اعلان کردیا گیا۔اختتام تاریخ کا نعرہ بلند کرکے دنیا کو یک قطبی قراردے دیا گیا۔اتنے بڑے واقعے کے جملہ پہلوؤں کو گرفت میں لینے کیلئے جس زمانی فاصلے سے دیکھنے کی ضرورت تھی اس کا نہ کسی کے پاس وقت تھا نہ پروا۔
جس طرح ہمارے ہاں دائیں بازو کے اردو پریس نے ایک تجاہلِ مجرمانہ سے کام لے کر افغانستان میں روس کی پسپائی میں امریکہ کے کردار کو نظرانداز کرنا مناسب سمجھا‘بالکل اسی طرح سوویت یونین کی شکست و ریخت میں عالمی سطح پر سامراجی اور سرمایہ داری گماشتوں کی چیرہ دستیوں سے عمدا ًصرفِ نظر کیا گیا۔مقصود یہ تھا کہ اشتراکی نظام معیشت کو بلا شرکت غیرے مطعون کیا جاسکے۔پھر دنیا نے دیکھ لیا کہ کس بے حسی کے ساتھ استحصالی سرمایہ داریت‘نو آزاد شدہ ریاستوں پر پل پڑی اور عوام الناس سے وہ حقوق اور سہولیات بھی چھیننے لگی جو اشتراکی نظام کے تحت ہر کس و ناکس کو حاصل تھیں۔چونکہ استحصال‘ سرمایہ دارانہ نظام کا جزوِ لازم ہے سو ان جمہوریاؤں سے عوامی سرمایہ باہر منتقل ہونے لگا۔ نتیجتاًعوام کا معیارِ

زندگی گہری کھائی میں گرنے لگا۔پھر ایسی سروے رپورٹیں بھی سامنے آئیں جن میں وسطی ایشیائی اور بالٹک ریاستوں کے ساتھ ساتھ مشرقی یورپی ممالک کے عوام کی اکثریت نے اشتراکی نظام کے تحت زندگی کو بہتر قراردیا۔
ان حالات میں سلمیٰ اعوان کا اردو ناولٹ”وہ اک تارہ“ سامنے آتا ہے جو ایک طرف سوویت یونین کے بکھرنے اور بعد کے سالوں کی تخلیقی و ادبی منظر کشی کرتا ہے اور دوسری طرف عوام کی تشویش اور دگر گوں حالاتِ زندگی کا بیانیہ ترتیب دیتا ہے۔سوویت یونین کے انہدام کے بعد آمرانہ روسی نظام میں اختلاف کرنے والوں کو فسطائی حربوں سے خاموش کرنے کا معاملہ ہو یا جمہوریہ چیچنیا پر روسی یلغار‘یہ ناولٹ روس کے سیاسی‘معاشی اور عمرانی پہلوؤں پر بھرپور روشنی ڈالتا ہے۔
ناولٹ کی ہیروئن”اینا“ ایک بے باک صحافی خاتون ہے جو محب الوطن مارکسی ہے اور روس کی عظمت کا پرچم بلند دیکھنا چاہتی ہے۔وہ اپنے ملک پر سرمایہ داریت کی یلغار‘لیڈروں کی کوتاہ بینی کا تو پردہ چاک کرتی ہی ہے لیکن ساتھ ہی جمہوریہ چیچنیا پر روسی یلغار کے خلاف بھی کھل کر لکھتی ہے یعنی اسکے صحافتی ادراک کا واضح جھکاؤ عوام کی طرف ہے۔جب‘جہاں اور جس کے ہاتھوں بھی عوام کا استحصال ہوا‘اینا نے تیز و تند مخالفانہ مضمون باندھے۔عوام جب بھی کسی کے جبر کے مجبور اور قہر کے مقہورہوئے‘اینا عوام کے ساتھ ساتھ جا کھڑی ہوئی۔سچ کی تلاش اور اس کے بے باکانہ اظہار میں وہ کسی کو نہیں بخشتی۔اینا کا قلم ہر حکومتی زیادستی کے خلاف اور عوام کے حق میں لڑتا رہا۔بالآخروہی ہوا جو ہوتا ہے۔روسی صدر پیوٹن کے دور میں پہلے اس کے محبوب خاوند ہیثم کو ماورائے عدالت حراست میں ڈال دیا جاتا ہے (جہاں سے بعدازاں بھاگ کر وہ برطانیہ میں جلا وطنی اختیار کرلیتا ہے) اور پھر اینا کو اسکے گھر میں گولی مار کر ہلا ک کردیا جاتا ہے۔
سلمیٰ اعوان نے یہ ناولٹ لکھنے کیلئے بہت ریسرچ ورک کیا۔
سٹالن کے عہد سے لے کر گورباچوف کے پریسٹرائیکا اور گلو سنوٹ تک اور پھر پیوٹن کی تاریخ حصہ متن کی ہے۔حقیقی واقعات کو فنکارانہ ہنرمندی سے ناولٹ کا حصہ بنایا۔جہاں جس قدر ضرورت تھی‘تاریخی تفصیل دی۔جس علاقے کی بات کی اس کو نگاہوں کے سامنے کھڑا کردیا۔کردار نگار ی میں مہارت اور چابکدستی کا ثبوت دیا۔کرداروں کی قدرتی Developmentمیں نفسیات کا خیال رکھا‘ناولٹ کا پلاٹ اتنا چست اور کسا ہوا ہے کہ مجموعی ساخت میں کوئی واقعہ یا تفصیل کہانی کی ضرورت سے زائد یا کم نہیں۔ناولٹ کے جملہ اجزا باہم دگر مضبوط اور کوئی جملہ بے جواز نہیں۔تخلیقی فقرہ سازی اور رواں دواں ادبی زبان نے اس ناولٹ کو اردو ادب کا نہایت اعلیٰ ناولٹ بنادیا ہے۔اس کی بہت بڑی خوبی دلچسپی ے پڑھا جاتا ہے۔کہیں اکتاہٹ نہیں ہوتی۔یہ قاری کو اپنے اندر جذب کرکے کہانی کے ساتھ چلاتا ہے اور یہ خوبی بہت اہم ہے۔اس میں فکشن کا وہ اسلوب سامنے آیا ہے جو لطف قرات کے ساتھ ساتھ نکتہ ہائے دانش بھی دیتا چلا جاتا ہے۔دھندلے مناظر واضح کرتا ہے۔
مثال کے طور دیکھنے میں آیا ہے کہ جو خواتین اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات میں بہت زیادہ ڈوب جاتی ہیں ان میں جذبات ِ لطیف کی کمی ہونے لگتی ہے حتی کہ بعض اوقات وہ فرض کی لگن میں اپنے ملبوس سے بھی بے نیاز ہی ہو جاتی ہیں۔جب یہی کچھ اینا کے ساتھ ہوتا ہے تو ہیثم کہتا ہے
”اینا‘پتھر مت بنتی جاؤ۔۔۔۔ کہیں تو چند لمحوں کیلئے زندگی کی خوبصورتیوں اور رعنائیوں پر تمہاری آنکھ کو جمنا چاہیئے“
سچ تو یہ کہ شاعری‘موسیقی‘ادب‘آرٹ سب اسی وقت ممکن ہیں جب زندگی دو پل رک کر سانس لے۔جہاں ہر روز کوئی نیا ظلم‘نیا جبر انسانوں پر مسلط ہورہا ہو۔آئے دن خونریزی کی نئی خبر سننے کو ملے وہاں خوش رہنے کیلئے بے حس ہونا ضروری ہوجاتاہے لیکن یہاں تو اینا پولٹکو سکایا ہے جو ذہین‘دلیر

اور انسان دوست صحافی ہے جو خفیہ پولیس کے سربراہ کے سامنے خوفزدہ ہوئے بغیرکہہ سکتی ہے”آزادی چیچنیا کے لوگوں کا حق ہے۔تیل کے ذخائرانکی ملکیت ہیں۔روس تو بڑے اوچھے ہتھکنڈوں پر اترا ہوا ہے۔کسی بھی لڑائی کوجیتنے کیلئے کوئی اخلاقی جواز ہوتا ہے۔یہاں سرے سے ہی کچھ نہیں۔مظلوم اور محکوم کمیونٹی وہ خواہ کوئی بھی ہو اسکی سپورٹ اخلاقی فریضہ ہے“۔
اینا کا قتل ہوجانا اندھے ریاستی مفاد پر فرد کے خون خون ہوجانے کی محض ایک اور کہانی ہے۔اس بار یہ کہانی سلمیٰ اعوان کے قلم پر اتری ہے اور وہاں سے دلِ درد مندمیں کسی تیر کی طرح اترتی چلی گئی ہے۔
سلمیٰ اعوان ہمارے عہد کی ایک بہت اہم لکھاری ہیں۔انہوں نے اپنے افسانوں‘سفرناموں اور ناولٹوں میں قابلِ رشک تخلیقات پیش کی ہیں۔ان کا زاویہ سماجی حقیقت نگاری کا ہے۔افسانویت کا تانا بانا بنتے ہوئے انہوں نے کبھی بھی دور از کار تخیل کو آواز نہیں دی نہ ہی سفرنامے میں اپنی تشنہ تمناؤں کا رنگ بھرا ہے۔جودیکھا‘محسوس کیا اسے عمدہ ادبی تکنیک کے ساتھ معیاری ادبی زبان میں بیان کیا۔یہاں یہ بات کہنا ضروری ہے کہ سلمیٰ اعوان نے افسانوی تحریر میں اپنا ایک اسلوب دریافت اور اختیار کیا ہے جو کفایتِ لفظی‘بر محل مکالموں‘تشبیہات‘ حقیقی منظر نگاری اور روانیِ تحریر سے عبارت ہے۔
سلمیٰ اعوان نے خود روس کا سفر کیا۔سرزمین روس کو اپنی فکری ذات کا حصہ بنایا‘پھر بھرپور لگن اور مہارت سے ناولٹ قلم بند کیا۔اس میں کہیں واقعاتی جھول نہیں آنے دیا۔پوری کہانی کو ایک لہر میں چلایا کہ پورا ناولٹ ایک نشست میں پڑھے بغیر چین نہیں آتا۔اردو ادب میں اس نوع کے ”ذہین فکشن“ کی بہت ضرورت ہے جو اپنا ایک ورلڈ ویو رکھتا ہو۔ناولٹ میں سلمیٰ اعوان کی تخلیقی صلاحیت حیران کردینے والی ہے۔ایک دوسرے ملک کے پس منظر کو اس اپنے پن کے ساتھ بیان کیا ہے کہ کہانی اجنبی دیس کی ہوتے ہوئے بھی اپنی اپنی لگتی ہے۔ناولٹ میں چھوٹے واقعات کا بھی مضبوط جواز پیدا کیا گیا ہے۔تھوڑے سے کرداروں کی مدد سے اتنی بڑی اور پھیلی ہوئی کہانی کہہ دینا سلمیٰ اعوان کا کارنامہ ہے۔وہ کہانی لکھتے ہوئے قطعاًجانبدار نہیں ہوئی۔متوازن‘معتدل اور واقعاتی انداز میں اس کہانی کو منطقی اور غیر جذباتی طریق پر بیان کردیا اور بہت کچھ سوچنے کیلئے قاری پر چھوڑ دیا۔حتمی فیصلے نہیں دیئے۔اپنے کردار وں کے ذریعے قاری کی سوچ کو بھی بتدریج بالغ کیا۔بڑے تخلیق کار کی طرح واقعات کوخود بولنے دیا اور آمرانہ نتیجے نکالنے سے گریز کیا۔
اردو فکشن کی روایت میں بیرونی ممالک کے Back Drop میں بہت کم کہانیاں اور ناول لکھے گئے۔یہ وہ میدان ہے جہاں رہوار ِ قلم سنے سنائے راستے پر دور تک نہیں چل سکتا۔اندازے ٹھوکر کھا کر گر پڑتے ہیں۔اسی لیے میں نے کہا کہ سلمیٰ اعوان نے یہ ناول لکھنے کیلئے بہت تحقیق کی۔کمال یہ کہ اپنی تحقیق کو تخلیق میں حل کرکے پیش کیا۔واقعہ صحافتی رپورٹنگ سے بلند ہوکر ادبی تخلیق کے طور پر ناولٹ کا نامیاتی جزو بنا۔یہ سلمیٰ اعوان کے فن کی کامیابی ہے۔مجھے اصرار ہے کہ ”وہ اک تارا‘اردو ناولٹ کی تاریخ میں ایک یادگار اور شاندار اضافہ ہے جو بے شمار فنی خوبیوں اور جان دار کہانیوں کے باعث یاد رکھا جائیگا۔

شہزاد نیرّ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات
  • لہروں پر ڈولتی زندگی
  • وہی منزل، وہی ساتھی
  • جرمانے کی پالیسی یا عوام کی بھلائی؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پھوار کا موسم
پچھلی پوسٹ
سوچتی ہوئی بے باک شاعری

متعلقہ پوسٹس

خود فریب

فروری 2, 2020

میں تتی دھی پنجاب دی

جون 6, 2013

زندگی زندہ دلی کا نام ہے

اپریل 28, 2026

جب سرپرست ، سرپرستی چھوڑ دیں

جون 27, 2022

دیباچہ بانگِ درا

فروری 2, 2020

اساطیر

اپریل 26, 2020

ایک بارپھروہی پیشکش

فروری 26, 2020

تنہائی

فروری 18, 2020

سیلاب کے زخم اور کیمروں کا تماشہ

ستمبر 4, 2025

موم بتی کے آنسو

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دامِ محبت

جنوری 7, 2023

فطرت کے دامن میں خاموش جذبات

نومبر 24, 2024

پرگتی

جنوری 24, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں