خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجب سرپرست ، سرپرستی چھوڑ دیں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

جب سرپرست ، سرپرستی چھوڑ دیں

از سائیٹ ایڈمن جون 27, 2022
از سائیٹ ایڈمن جون 27, 2022 0 تبصرے 59 مناظر
60

ملک انتہائی تکلیف دے حالات سے دوچار ہے اور ان تکلیف دے حالات کا سبب ملک کو خودمختار ہونے سے روکنے کی وجہ سے ہوا ہے ۔ رواءتی حالات کے عادی اور صحیح غلط سے عاری طرزِ حکمرانی کے نظام کو چلانے والے بھلا کس طرح سے حدود و قیود کے پابند ہوسکتے ہیں ۔ جب کے دنیا میں ترقی کرنے والوں نے باقاعدہ نظام بنائے اور نظاموں پر بھرپور عمل درآمد کیا گاہے بگاہے ان میں مزید بہتری لائے پھر کہیں جاکر انہیں ترقی کی شاہراہ میسر آئی ۔ ہمارا سب سے بڑا مسلۃ قانون اور قانون نافذ کرنے والوں کا متنازعہ کردارہے ، یہاں یہی دیکھا جاتارہا ہے کے جس کی لاٹھی اسکی بھینس کے مفروضے پر عمل کیا جاتا ہے ۔ پھر حکمرانوں کا ایک مخصوص ٹولہ ملکِ خداداد پاکستان کو گویا اپنی جاگیر سمجھتا رہا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت موروثی سیاست کی بھرپور افزائش کی جاتی رہی ہے ۔ ملک نے ہر نئے دن کے ساتھ آگے بڑھنا تھا سو وہ بڑھ رہا ہے اور اللہ تعالی نے چاہ تو تاقیامت بڑھتا ہی رہیگا ۔ لیکن اس میں انتظامی امور کا احاطہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ملک کے آگے بڑھنے سے مراد دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگی ہے، جبکہ پاکستان کسی ایسے فرد کی طرح آگے بڑھتا رہا ہے جو کسی ہجوم میں پھنس گیا ہواور اسکی اہلیت و قابلیت ایسی نہیں ہو کہ وہ آگے بڑھے لیکن اسے آگے بڑھنا ہی پڑتا ہے ۔ حکمران یہ دیکھ کر کہ ملک ہمارے بغیر کچھ کئے بھی آگے بڑھ رہاہے ، ملک کے لئے کچھ کرنے کی فکر سے آزاد ہوگئے اور پھر جو کچھ کیا اپنے اور اپنے اہل خانہ کیلئے کرتے چلے گئے ، ملک کے لئے قرضے لیتے رہے اور اپنے کاروبار کو فائدہ مند بناتے چلے گئے ۔ اللہ کا قانون ہے کہ اس نے ہر فرعون کیلئے ایک موسی ;174; کو بھیجا ہے جو اسکے کئے گئے ظلم ، نا انصافی اور ہر قسم کی بدعنوانی کا اسے بتائے اور اسے احتساب کیلئے عوام کے سامنے لانے کی ہر ممکن کوشش کرے ۔ اگر موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں بھی کچھ اس سے مختلف نہیں ہوا، ملک پر مسلط مخصوص حکمران طبقے سے جواب انکے حکومت میں گزارے گئے ادوار کا حساب مانگا گیا تو انہوں نے اسکے جواب میں اسطرح کا ردِ عمل دیا کے جیسے کسی نے انکے باورچی خانے کے اخراجات کے بارے میں پوچھ لیا ہو(جو اس بات کی عکاسی ہے کہ انہوں نے بائیس کروڑ افراد کے ملک کو ذاتی ملکیت سمجھ رکھا) ۔ بات بڑھتی چلی گئی یہاں تک کے ان لوگوں سے اقتدار بھی گیا اور تو اور ملک کی زمین بھی تنگ ہوتی چلی گئی ،شائد اس طرح کے حالات کیلئے تیار تھے جسکا منہ بولتا ثبوت بیرونی ممالک میں بھی باقاعدہ جائیدادیں بنا رکھی ہیں جہاں وہ حالات کے پیش نظر منتقل ہوگئے ۔ عوام کو آہستہ آہستہ اس بات کی سمجھ آنا شروع ہوگئی کے ہم پر ٹیکسوں کی بھرمار ہونے کے باوجود ملک کا خسارہ کم نہیں ہوتا تو آخر یہ پیسہ جاتا کہاں ہے ، ساری پریشانیاں عوام کیلئے ہی کیوں ہیں ، کیوں ہمارے حکمرانوں کی زندگیاں بھرپور آسائشوں سے مزین رہتی ہےں ،جب یہ لوگ ہمارے ووٹوں سے اقتدار میں آتے ہیں تو یہ ہم سے اتنے خوفزدہ کیوں رہتے ہیں کیوں اپنی حفاظت کیلئے اتنی بڑی دیوار بنا لیتے ہیں کہ ہماری نظروں سے ہی اوجھل رہتے ہیں ۔

قدرت نے پاکستان کے لئے عمران خان کو منتخب کیا اس انتخاب سے قبل عمران خان کوناصرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا اور ایسے کاموں سے جوڑے رکھا جس سے عوام کے دلوں میں عمران خان دھڑکنا شروع کردے ، عمران خان کے دل میں اپنے پیارے محبوب ﷺ کی سچی محبت ڈالی اور نفاذِ دین کیلئے کھڑ ا کردیا ، جو صرف انصاف کی بالادستی کیلئے نکلا تھا اسے ہدایت کا راستہ ملتا چلاگیا ۔ عمران خان ہی ہے کہ جس نے امت ِ مسلمہ کا مقدمہ اقوام متحدہ میں پیش کیا اور کیا خوب پیش کیا کے دنیا کو ششوپنج میں ڈال دیا ، انہی کی زبان میں انہیں اپنا(مسلمانوں ) مسلۃ خوب سمجھایا اور تقریباً دنیا کو سمجھ بھی آگیا اور دنیا کو یہ بھی سمجھ آگیا کہ اب اس مسلۃ سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں کیوں کے عمران خان نے یہ واضح کردیاتھا کہ اگر مغرب کا رویہ اسلام کے ماننے والوں کے ساتھ ایسا ہی رہا جیسا کہ ماضی میں رہا ہے تو کوئی بعید نہیں کے حالات کسی کے قابو میں نا رہیں ۔ کیا وہ لوگ جو کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کے ماننے والے ہیں انہیں عمران خان کے اس موقف پر اعتراض ہوسکتا ہے کہ پاکستان کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں ، اگر آپ پاکستانی ہیں اور مسلمان ہیں تو کیا ہم بھول گئے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے ۔

پاکستان اور اسلام کا مقدمہ لڑنے والے عمران خان اپنی کارگردگی بہتر سے بہترین کرتے جاتے رہے جسکی مرہون منت لمحہ لمحہ بڑتی مقبولیت سے خوفزدہ ٹولے کو اپنا اور اپنے اہل و عیال کا مستقبل تاریک ہوتا محسوس ہوا تو انہوں ملکی سالمیت اور بقاء کوبھی داءو پر لگانے سے گریز نہیں کیا اور اپنے غیر ملکی سرپرستوں سے مدد مانگ لی جسکے لئے ہرمطلوبہ قیمت ادا کرنے کی بھی حامی بھری گئی ۔ اب جب کے عمران خان کی حکومت نہیں رہی اور ایک باقاعدہ امپورٹڈ(درآمد شدہ) حکومت اقتدار پر قابض ہوچکی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں سیدھے طریقے سے کام کرنا نہیں آتا اور اب تقریباً کام سیدھے کئے جاچکے ہیں ۔ اب دوصورتیں سامنے تھیں ایک تو یہ کہ وہ ان کاموں کو مان لیں اورانہیں پر عمل شروع کردیں جو اپنی انا کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف تھا اور دوسری طرح کرنے کی گنجائش باقی نہیں تھی یعنی دونوں صورتیں انہیں سیاسی انجام کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہیں ۔ درآمد شدہ حکومت کا خیال تھا کہ یہ ۲۹۹۱ میں ہیں کے کچھ بھی کرتے پھرینگے اور کسی کو پتہ نہیں چلے گا انہوں نے اس بات کو بھی خاطر میں نہیں رکھا کے عمران خان کی اصل طاقت ہی سماجی ابلاغ ہے اور سماجی ابلاغ کا ستر سے اسی فیصد استعمال کرنے والا نوجوان ہے ، بس پھر کیا تھا سب کچھ سب کے سامنے آگیا اور درآمد شدہ حکومت باقاعدہ برہنہ ہوگئی ۔

عمران خان نے درآمد شدہ حکومت اور انکے بوسیدہ طرز کی سیاست سے ہمیشہ کیلئے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے کسی ادارے سے مدد نہیں لی ، کسی بیرونی طاقت کو آواز نہیں دی بلکہ عوام کے پاس جاکر بیٹھ گئے اور عوام کے سامنے اپنا مقدمہ رکھ دیا اور بتایا کہ ہم مسلمان صرف اور صرف اللہ سے مدد مانگتے اور اسی کی عبادت کرتے اور اب وہ ہی ہماری مدد کیلئے ہ میں ہمت اور طاقت عطاء فرمائے گا ۔ آزادی مارچ شروع ہوچکا ہے درآمد شدہ حکومت اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہی ہے اور حکومت میں تو ویسے بھی اکثریت مجرموں اور ملزموں کی ہے وہ بپھرے ہوئے عوام کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ یہ بات تو واضح ہوچکی ہے کہ اب انکے پاس کرنے کیلئے کچھ نہیں اور یہ برملا اسکا اظہار بھی کر چکے ہیں لیکن اب یہ اپنی سیاست بچانے کیلئے دیکھنا ہے کہ کس حد تک جانے والے ہیں انکے لئے سب سے بری خبر یہ ہے کہ انکی سرپرستی کرنے والوں نے بھی مزید سرپرستی کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ پاکستان ان شاء اللہ اپنی حقیقی آزادی کی حاصل کرنے کے قریب تر ہے ۔ اللہ پر یقین ہے کہ جب آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہونگے تو پچھتر سال قبل حاصل کی جانے والی آزادی کو آزاد کرالیا گیا ہوگا اور پاکستان کی سرزمین پر آزادی سورج اپنی آب و تاب سے چمک رہا ہوگا ۔ ان شاء اللہ ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اللہ دیکھ رہا ہے
  • مہنگائی کا طوفان
  • دو ڈرامے اور ہماری ڈیجیٹل پیڑھی بردار بیبیاں
  • کہیں پہ گشت و گزر اور ہے وجُود کہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے ؟
پچھلی پوسٹ
من کا بھوت بنگلہ !

متعلقہ پوسٹس

کیوں اُسی شخص سے ملنے کا بہانہ چاہوں

نومبر 5, 2020

سرسراتی ہوا

دسمبر 11, 2024

تمہیں گلا ہی سہی ہم تماشہ کرتے ہیں

جون 6, 2020

سگریٹ اور فاؤنٹین پن

جنوری 23, 2020

طمانچہ

نومبر 29, 2019

سکونِ لمحہ

جنوری 8, 2025

محبتوں كی سفیر شاعرہ

جنوری 21, 2020

مخبر

مئی 10, 2023

ستارہ نُما

نومبر 14, 2021

سورہ الکوثر (منظوم ترجمہ)

جنوری 18, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تو نے مجھ کو نہ غزل...

فروری 26, 2025

یہ کسی طور اَہانت نہیں سمجھا...

اکتوبر 16, 2025

یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب...

مئی 12, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں