خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےسگریٹ اور فاؤنٹین پن
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

سگریٹ اور فاؤنٹین پن

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 23, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 23, 2020 0 تبصرے 324 مناظر
325

سگریٹ اور فاؤنٹین پن

’’میرا پارکر ففٹی ون کا قلم کہاں گیا۔ ‘‘

’’جانے میری بلا۔ ‘‘

’’میں نے صبح دیکھا کہ تم اُس سے کسی کو خط لکھ رہی تھیں اب انکار کر رہی ہو‘‘

’’میں نے خط لکھا تھا مگر اب مجھے کیا معلوم کہ وہ کہاں غارت ہو گیا۔ ‘‘

’’یہاں تو آئے دن کوئی نہ کوئی چیز غارت ہو تی ہی رہتی ہے مینٹل پیس پر آج سے دس روز ہوئے میں نے اپنی گھڑی رکھی صرف اس لیے کہ میری کلائی پر چند پھنسیاں نکل آئی تھیں دوسرے دن دیکھا وہ غائب تھی۔ ‘‘

’’کیا میں نے چرا لی تھی۔ ‘‘

’’میں نے یہ کب کہا سوال تو یہ ہے کہ وہ گئی کہاں۔ تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں نے یہ گھڑی وہیں رکھی ہے اُس کے ساتھ ہی دس روپے آٹھ آنے تھے وہ تو رہے لیکن گھڑی جس کی قیمت دو سو پچھتر روپے تھی وہ غائب ہو گئی۔ تم پر میں نے چوری کا الزام کب لگایا۔ ؟‘‘

’’ایک گھڑی آپ کی پہلے بھی گم ہو گئی تھی۔ ‘‘

’’ہاں۔ ‘‘

’’میں تو یہ کہتی ہوں کہ آپ نے خود انھیں بیچ کھایا ہے‘‘

’’بیگم تم ایسی بے ہُودہ باتیں نہ کیا کرو مجھے وہ دونوں گھڑیاں بہت عزیز تھیں۔ جس کے علاوہ ان کو بیچنے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا تم جانتی ہو کہ میری آمدنی اللہ کے فضل سے کافی ہے بینک میں اس وقت میرے دس ہزار سے کچھ اُوپر روپے جمع ہیں گھڑیاں بیچنے کی ضرورت مجھے کیسے پیش آسکتی تھی۔ ‘‘

’’کسی دوست کو دے دی ہو گی‘‘

’’کیوں مجھے اِن کی ضرورت نہیں تھی۔ میں تو گھڑی کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں ایسا چھکڑا ہوں جس میں کوئی پہیہ نہیں وقت کا کچھ پتہ نہیں چلتا گھر میں کلاک ہے مگر وہ تمہاری طرح نازک مزاج ہے ذرا موسم بدلے تو جناب بند ہو جاتے ہیں پھر جب موسم ان کے مزاج کے موافق ہو تو چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ‘‘

’’یعنی میں کلاک ہوں۔ ‘‘

’’میں نے صرف تشبیہ کے طور پر کہا تھا۔ کلاک تو بہت کام کی چیز ہے‘‘

’’اور میں کسی کام کی چیز نہیں۔ شرم نہیں آتی آپ کو ایسی باتیں کرتے۔ ‘‘

’’میں نے تو صرف مذاق کے طورپر یہ کہہ دیا تھا تم خواہ مخواہ ناراض ہو گئی ہو۔ ‘‘

’’میں آج تک کبھی آپ سے خواہ مخواہ ناراض ہوئی ہوں آپ خود ایسے موقعے دیتے ہیں کہ مجھے ناراض ہونا پڑتا ہے۔ ‘‘

’’تو چلیے اب صلح ہو جائے۔ ‘‘

’’صلح ولح کے متعلق میں کچھ نہیں جانتی ان برسوں میں آپ سے میں پندرہ ہزار مرتبہ صلح صفائی کر چکی ہوں مگر نتیجہ کیا نکلا ہے۔ وہی ڈھاک کے تین پات‘‘

’’ڈھاک کے تین پاتوں کو چھوڑو تم مجھے میرا پارکر قلم لا کے دے دو مجھے چند بڑے ضروری خط لکھنے ہیں۔ ‘‘

’’مجھے کیا پتہ ہے کہ وہ کہاں ہے؟ لے گیا ہو گا کوئی اُٹھا کر۔ اب میں ہر چیزکا دھیان تونہیں رکھ سکتی۔ ‘‘

’’تو پھر تم کس مرض کی دوا ہو‘‘

’’میں نہیں جانتی لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ آپ میری زندگی کا سب سے بڑا روگ ہیں‘‘

’’تو یہ روگ دُور کرو ہر روگ کا کوئی نہ کوئی علاج موجود ہوتا ہے‘‘

’’خدا ہی بہتر کرے گا یہ روگ یہ کسی حکیم یا ڈاکٹر سے دُور ہونیوالا نہیں‘‘

’’اگر تمہاری یہی خواہش ہے کہ مرجاؤں تو میں اس کے لیے تیار ہوں میرے پاس اتفاق سے اس وقت قاتل زہر موجود ہے میں کھا کر مر جاتا ہوں۔ ‘‘

’’مر جائیے۔ ‘‘

’’اِس کے لیے تو میں تیار ہوں تاکہ روز روز کی بک بک اور جھک جھک ختم ہو جائے۔ ‘‘

’’آپ تو چاہتے ہیں کہ اپنے فرائض سے چھٹکارا ملے۔ بیوی بچے جائیں بھاڑ میں آپ آرام سے قبر میں سوتے رہیں لیکن میں آپ سے کہے دیتی ہوں کہ وہاں کا عذاب یہاں کے عذاب سے ہزار گنا زیادہ ہو گا۔ ‘‘

’’ہوا کرے۔ میں نے جو فیصلہ کیا ہے اس پر قائم ہوں۔ ‘‘

’’آپ کبھی اپنے فیصلے پر قائم نہیں رہے‘‘

’’یہ سب جھوٹ ہے میں جب کوئی فیصلہ کرتا ہوں تو اس پر قائم رہتا ہوں ابھی پچھلے دنوں میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں سگریٹ نہیں پیوں گا چنانچہ اب تک اس پر قائم ہوں۔ ‘‘

’’پاخانے میں سگریٹ کے ٹکڑے کہاں سے آتے ہیں۔ ‘‘

’’مجھے کیا معلوم۔ تم پیتی ہو گی۔ ‘‘

’’میں مجھے تو اس چیز سے سخت نفرت ہے‘‘

’’ہو گی مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاخانہ بھی کوئی ایسی معقول جگہ ہے جہاں پرسگریٹ پیے جائیں۔ ‘‘

’’چوری چھپے جو پینا ہوا پاخانے کے علاوہ اور موزوں و مناسب جگہ کیا ہوسکتی ہے آپ میرے ساتھ فراڈ نہیں کرسکتے۔ میں آپ کی رگ رگ کو پہچانتی ہوں۔ ‘‘

’’یہ تم نے مجھ سے آج ہی کہا کہ میں پاخانے میں چھپ چھپ کر سگریٹ پیتا ہوں‘‘

’’میں نے اس لیے اس کا ذکر آپ سے نہیں کیا تھا۔ آپ چونکہ تمباکو کے عادی ہو چکے ہیں اس لیے سگریٹ نوشی آپ ترک نہیں کرسکتے لیکن یہ بہر حال بہتر ہے کہ آپ دو ایک سگریٹ دن میں پی لیتے ہیں جہاں آپ پچاس کے قریب پھونکتے تھے۔ ‘‘

’’میں نے ڈھائی برس میں ایک سگریٹ بھی نہیں پیا۔ بھنگی پیتا ہو گا۔ ‘‘

’’بھنگی گولڈ فلیک اور کریون اے نہیں پی سکتا۔ ‘‘

’’حیرت ہے‘‘

’’کس بات کی۔ حیرت تو مجھے ہے کہ آپ صاف انکار کر رہے ہیں مجھے بنا رہے ہیں‘‘

’’نہیں میں سوچ رہا ہوں کہ یہ سگریٹ وہاں کون پیتا ہے‘‘

’’آپ کے سوا اور کون پی سکتا ہے مجھے تو اس کے دُھوئیں سے کھانسی ہو جاتی ہے مجھے تو اس سے سخت نفرت ہے معلوم آپ لوگ کس طرح دُھواں اپنے اندر کھینچتے ہو۔ ‘‘

’’خیر اس کو چھوڑو۔ میرا پار کر قلم مجھے دو۔ ‘‘

’’میرے پاس نہیں ہے‘‘

’’تمہارے پاس نہیں ہے تو کیا میرے پاس ہے آج صبح تم خدا معلوم کسے خط لکھ رہی تھیں تمہاری انگلیوں میں میرا ہی قلم تھا۔ ‘‘

’’تھا۔ لیکن مجھے کیا معلوم کہاں گیا۔ میں نے آپ کے میز پر رکھا ہو گا۔ اور آپ نے اُٹھا کر کسی دوست کو دے دیا ہو گا۔ آپ ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ‘‘

’’دیکھو بیگم میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ قلم میں نے کسی دوست کو نہیں دیا ہو سکتا ہے کہ تم نے اپنی کسی سہیلی کو دے دیا ہو‘‘

’’میں کیوں اتنی قیمتی چیز کسی سہیلی کو دینے لگی۔ وہ تو آپ ہیں کہ ہزاروں اپنے دوستوں میں لُٹا دیتے ہیں۔ ‘‘

’’اب سوال یہ ہے کہ وہ قلم ہے کہاں مجھے چند ضروری خط لکھنے ہیں جاؤ میری جان ذرا تھوڑی سی تکلیف کرو ممکن ہے ڈھونڈنے سے مل جائے۔ ‘‘

’’نہیں ملے گا۔ آپ فضول مجھے تکلیف دینا چاہتے ہیں‘‘

’’تو ایسا کرو دوات اور پن ہولڈر لے آؤ۔ ‘‘

’’دوات تو صبح آپ کی بچی نے توڑ دی پن ہولڈر بھانجے کے بیٹے نے‘‘

’’اتنے پن ہولڈر تھے کہاں گئے۔ ‘‘

’’آپ ہی استعمال کرتے ہیں‘‘

’’میں نے آج تک پن ہولڈر کبھی استعمال نہیں کیا کبھی کبھی تم کیا کرتی ہو۔ ‘‘

’’آپ کی بچیاں آفت کی پتلیاں ہیں وہی توڑ پھوڑ کے پھینک دیتی ہوں گی۔ ‘‘

’’تم دھیان کیوں نہیں دیتیں‘‘

’’کس کس چیز کا دھیان رکھوں مجھے گھر کے کام کاج سے فرصت نہیں ہے‘‘

’’اسی لیے تو میری دو گھڑیاں غائب ہو گئیں۔ جب دیکھو لیٹی رہتی ہو۔ خدا معلوم گھر کا کام کاج لیٹے لیٹے کرتی ہو۔ ‘‘

’’گھر کا سارا کام تو آپ کرتے ہیں‘‘

’’میں اس کا دعوےٰ نہیں کرتا بہر حال جو کچھ میں کرسکتا ہوں کرتا رہتا ہوں‘‘

’’کیا کرتے ہیں آپ؟‘‘

’’ہفتے میں ایک دو دفعہ مارکیٹ جاتا ہوں مرغی اور مچھلی خرید کر لاتا ہوں انڈے بھی کوئلے کا پرمٹ بھی حاصل کرتا ہوں گھی کا بندوبست کرتا ہوں اب میں اور کیا کرسکتا ہوں۔ ‘‘

’’مصروف آدمی ہوں دفتر میں جاتا ہوں وہاں نہ جاؤں تو مہینہ ختم ہونے کے بعد سات سو روپے کیسے آسکتے ہیں۔ ‘‘

’’ان سات سو روپوں میں سے آپ مجھے کتنے دیتے ہیں‘‘

’’پورے سات سو روپے‘‘

’’ٹھیک ہے لیکن آپ اپنا گزارہ کس طرح کرتے ہیں۔ ؟‘‘

’’اللہ بہتر جانتا ہے‘‘

’’رشوت لیتے ہیں اور کیا ورنہ ساری تنخواہ مجھے دینے کے بعد آپ پانچ سو پچپن کے سگریٹ نہیں پی سکتے۔ ‘‘

’’میں نے سگریٹ پینے ترک کر دیے ہیں‘‘

’’آپ جھوٹ کیوں بولتے ہیں۔ ‘‘

’’میں بحث نہیں کرنا چاہتا۔ تم میرا پارکر قلم ذرا ڈھونڈ کے نکالو‘‘

’’میں آپ سے کہہ چکی ہوں کہ میرے پاس نہیں ہے۔ ‘‘

’’تو اور کس کے پاس ہے‘‘

’’مجھے کیا معلوم میں نے صبح خط لکھ کر سینٹل پیس پر رکھ دیا۔ ‘‘

’’وہاں تو اس کا نام و نشان نہیں‘‘

’’آپ نے کسی دوست کو بخش دیا ہو گا۔ گیارہ بجے آپ کے چند دوست آئے تھے۔ ‘‘

’’میرے دوست کہاں تھے۔ صرف ملاقات کرنے آئے تھے۔ میں تو ان کا نام بھی نہیں جانتا۔ ‘‘

’’میرا نام بھی آپ بھول گئے ہوں گے بتائیے کیا ہے۔ ‘‘

’’تمہارا نام۔ لیکن بتانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ تم۔ تم ہو۔ بس۔ ؟‘‘

’’ان پندرہ برسوں میں آپ کو میرا نام بھی یاد نہیں رہا میری سمجھ میں نہیں آتا آپ کس قسم کے انسان ہیں۔ ‘‘

’’قسمیں پوچھو گی تو حیران رہ جاؤ گی ایک کروڑ سے زیادہ ہوں گی اب جاؤ میرا قلم ڈھونڈو۔ ‘‘

’’میں نہیں جانتی کہاں ہے۔ ‘‘

’’یہ قمیص تم نے نئی سلوائی ہے‘‘

’’ہاں۔ ‘‘

’’گریبان بہت خوبصورت ہے ارے یہ اس میں تو میرا قلم اٹکا ہوا ہے‘‘

’’سچ میں نے یہاں اُڑس لیا ہو گا۔ معاف کیجیے گا۔ ‘‘

’’ٹھہرو میں خود نکال لیتا ہوں۔ ممکن ہے تم قمیص پھاڑ ڈالو‘‘

’’یہ کیا گرا ہے‘‘

’’یہ کیا ہے۔ ارے یہ تو پانچ سو پچپن سگرٹوں کا ڈبہ ہے کہاں سے آگیا ہے۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چڑ چڑانے کی بات کرتے ہو۔۔۔۔!!!
  • مٹی کی مونا لیزا
  • الحمد للہ
  • لاکھ ناؤ نہیں کروڑ ناؤ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
صحت سب کے لیے
پچھلی پوسٹ
سفید چولے میں لپٹے سیاہ کاروں نے

متعلقہ پوسٹس

بجلی کے بلوں میں ریلیف

جولائی 24, 2024

اِنسانی نسلیں اور معاشرتی ترقی

نومبر 16, 2025

جب ہم پاکستانی بن کرسوچیں گے

فروری 12, 2022

ہم دیکھیں گے

جنوری 24, 2020

غم کا فسانہ

جنوری 2, 2022

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات

نومبر 9, 2025

روشنی میں بھٹکتا جگنو

مارچ 21, 2020

ہجویاتِ سودا

اپریل 13, 2025

ڈرپوک پری

دسمبر 1, 2024

ڈاکٹر شروڈکر

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کتبہ

دسمبر 6, 2019

پرواز کے بعد

جنوری 3, 2020

کیسر بائی کی ٹھمری بھیرویں

مارچ 27, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں