خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

از سائیٹ ایڈمن مئی 11, 2020
از سائیٹ ایڈمن مئی 11, 2020 0 تبصرے 66 مناظر
67

کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

مجھے کہہ دیا جاتا ہے کہ میں مذہب کے معاملے میں نہ بولوں کیونکہ یہ بڑا حساس معاملہ ہے اور لوگوں کی دل آزاری ہو سکتی ہے اور جب کسی کی دل آزاری ہو تو وہ رد ِ عمل کے طور پر کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔ بات تو بالکل سچ ہے،کسی کی دل آزاری نہ ہو اور کسی کی حساسیت کو ٹھیس نہ پہنچے میں کسی بھی مذہبی معاملے میں بولنے سے پہلے سو دفعہ سوچتی ہوں اور اب تو اتنا سوچتی ہوں کہ بس سوچتی ہی رہ جاتی ہوں اور کچھ بولتی نہیں۔۔۔ لیکن جب مجھے یہ احساس ہوا کہ میرا مذہب تو مجھ پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگا رہا، وہ تو مجھے سوچنے، سوال کرنے، رائے قائم کرنے اور پھر اس پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے یہ مجھ پرپابندی تو میرے ارد گرد کے لوگ لگاتے ہیں۔۔ چپ کر جاؤ،یہ نہ کہو وہ نہ کہو۔۔۔۔یہاں “مجھ” سے مراد صرف” میں ” نہیں ہوں ہر وہ باشعور انسان جو خلاف حق بات دیکھے، تو سوچے، اور بول پڑے (یا کم از کم دل میں ہی اسے برا سمجھے)۔۔ ایسے انسان کے عزائم بہت خطرناک ہوتے ہیں کہ وہ سب انسانوں کو انسان سمجھتا ہے اور کسی بھی سطح پر تعصب، جانبداری اور ناانصافی نہیں برداشت کرسکتا۔
ٹھیک ہے!!مجھے اُس اسلام میں نہیں بولنا چاہیئے جو لوگوں نے اپنی پسند سے گھڑ کر اس کا ایک بُت بنا دیا ہے یہ جانتے ہو ئے بھی کہ اسلام میں بتوں کی نہیں ایک خدا کی عبادت کی جاتی ہے۔ مگر مجھے تو اسلام کے نام پر جگہ جگہ ایسے ایسے بت کھڑے ملتے ہیں کہ جی میں آتا ہے کہ محمود غزنوی سے جا کر پوچھوں بتاو بھیا اتنی محنت کاہے کو کی تھی وہ جو سومنات کے بت ڈھاتے پھرتے تھے وہ سب بت تو اب اسلام میں سینہ تانے کھڑے ہیں۔۔ اب ان تکبر، انا اور نفرت کے بتوں کو توڑنے کی ضرورت ہے۔۔
آج کا زمانہ بہت بدل گیا ہے۔ قوت ِ برداشت اتنی کم ہو گئی ہے کہ اسے حساسیت کا نام دے کر” دل آزاریاں ” لمحوں کا کھیل اور اس کے رد ِ عمل میں متاثرہ افراد، انتقاما کسی کوگولی مار دیں یا گھروں میں زندہ جلا دیں، ایک قابل ِ قبول بات ہو کے رہ گئی ہے۔ میرا اسلام تو فطرت کا مذہب ہے اور انسان کی فطرت میں سوچنا اور دوسرں سے اختلاف کرنا رکھ دیا گیا ہے۔ شیطان کو بولنے کی آزادی نہ ہو تی تو وہ حضرت آدم کو سجدے سے انکار ہی نہ کرتا۔ایک انسان کا دوسرے سے اختلاف نہ ہو تا تو یہاں سب کے سب مسلمان نہ ہوجاتے، وہ بھی سعودی عرب کے ہم خیال فرقے کے۔ ہر انسان دوسرے سے مختلف سوچ سکتا ہے، اس سوچ پر پابندی لگانا یا اس سوچ کی بنیاد پر کسی کو جنتی اور کسی کو جہنمی قرار دینا یہ انسان کی صفت تو ہو سکتی ہے “مسلمان “کی نہیں۔ انسان کو تعلیم حاصل کرنے، تحقیق پر مائل کرنے والے مذہب کو صرف اور صرف ان عقیدوں کے گرد گھما دیا گیا ہے جس کا نہ تو کسی انسان کی سیرت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی نظام زندگی چلا نے میں کوئی عمل دخل۔ ٹخنوں پر شلوار ہو یا نہ ہو، داڑھی مٹھی بھر ہو یا اس سے زیادہ، نماز میں گھٹنے کہاں تک جھکیں اور ہاتھ کہاں پر بندھے ہوں،اور زیادہ تر اسلام بری عورتوں کے چال چلن اور حوروں کے حلئیے اور رہن سہن کے گرد گھومتارہتا ہے۔
“اسلام دین ِ انسانیت ہے۔۔ “ہے کہ نہیں؟وہ کسی ایک کی ملکیت نہیں اور حضرت محمدﷺ کی ذات پر کسی ایک قوم کی اجارہ داری نہیں۔۔”آپ انسان ہیں اپنی حد میں رہیں اور آپ کی حد یہ ہے کہ دوسرے انسان کو اس کے تمام تر وجود کے ساتھ تسلیم کریں۔”
ہمارے پیغمبر ﷺنے کہاتھا “;تم ہر گز مومن نہیں ہو سکتے جب تک تم رحم نہ کرو، لوگو ں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ہم میں سے ہر شخص رحم کرنے والا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم اپنے ساتھی پر مہربانی کرو بلکہ اس سے مراد تمام لوگوں اور تمام انسانوں کے ساتھ رحم کرنا ہے۔۔” ۔
مولانا وحید الدین خان اپنی کتاب” دین انسانیت” میں لکھتے ہیں کہ” اسلام کی بنیاد پر بننے والا انسان کا مزاج اپنے آپ اس کو تمام انسانوں کا خیر خواہ بنا دیتا ہے۔ وہ تمام انسانوں سے محبت کرنے والا ہو جاتا ہے۔ تمام انسانوں کی خدمت کرنے کا جذبہ اس کے اندر امنڈ پڑتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک آفاقی انسان بن جا تا ہے۔.اسلام کی آدمیت وسیع تر آدمیت ہے نہ کہ محدود آدمیت۔”
دین ِ اسلام کا سبق اسلامی اخوت سے آگے عالمی اخوت کا سبق ہے۔۔ اسلام کی نظر میں ہر انسان قابل ِ احترام ہے۔ کسی بھی فرقے سے ہو یا کسی بھی مذہب سے مگر انسان کی عزت دوسرے انسان پر واجب ہے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر وہ مومن نہیں۔نماز کے طریقے اور قران پاک پڑھنے کے انداز سے دوسروں سے نفرت کرنا یا انہیں کمتر سمجھنا؟ رنگ، ذات، نسل اور مذہب کی بنیاد پر نفرتوں اور محبتوں کے سلسلے کو تعصب کہتے ہیں انسانیت نہیں اور اسلام انسانیت کا مذہب ہے۔
مولانا وحید خان ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ؛ اسلام میں مجرم کو جو سزا دی جاتی ہے وہ نفرت کے جذبہ کے تحت نہیں دی جاتی بلکہ حدود اللہ کی ادائیگی کے لئے دی جا تی ہے۔ سزا دینے والے کے اندر اگر مجرم کے مقابلہ میں بڑائی کا احساس پیدا ہو جائے تو یہ بھی اس کے لئے ایک جرم ہوگا۔ کسی کو سزا دینے کا اختیار صرف اس شخص کو ہے جو نفرت کے جذبات سے بلند ہو کر اسے سزا دے۔ مجرم پر حد جاری کرنے کے بعد اسے برا بھلا کہنا خدا کی سزا پر انسانی سزا کا اضافہ ہے جس کا حق کسی کو نہیں۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ یہ چاہا کہ مجرم کو سزا دیتے ہو ئے اسے برا بھلا نہ کہو کہ اس کے اندر ندامت یا اصلاح کی بجائے ردعمل یا سر کشی پیدا ہو۔۔ “مگر ہم یہی سب کچھ اپنے فرقوں کے ساتھ کر رہے ہیں، جو لوگ اقلیت میں ہیں انہیں آپ مسلمان سمجھتے ہیں یا نہیں لیکن نفرت کا پھیلاؤ اتنا زیادہ ہے کے اقلیتیں یا اقلیتی فرقے اسی نفرت کے” رد عمل” میں مذید نفرت اور سرکشی کی طرف مائل ہو تے ہیں۔۔ اگر آپ کے نزدیک ان کی اصلاح مقصود ہے تو ان کو نفرت نہیں حسن ِ اخلاق سے گرویدہ کریں نہ کہ مذہبی بنیادوں پر ان کی اس قدر حق تلفی (میرٹ کی بنیاد جب کہا جاتا ہے تو وہ بھی ایک امانت ہو تی ہے، اگر کسی اہل کو عہدہ،کانٹریکٹ یا نوکری نہیں دیتے تو آپ نے امانت میں خیانت کی ہے، آپ نے اسلام کی بنیادی شرط کو ہی تسلیم نہیں کیا) کی جائے ان سے اس قدر نفرت کی جائے کہ وہ یا تو ملک چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو جائیں یا اتنی نفرت کریں کہ ملک کے نظام کو اندر سے ہی کھوکھلا کر نے کے درپے ہوجائیں۔۔۔ کسی کو وفادار کرنا ہو تو اس سے محبت کا سلوک کرو۔۔جیسا کہ اکبر بادشاہ نے کیا تھا، جب رنگا رنگ کے لوگ آپ کی رعایا ہوں تو کیا کرنا چاہیئے؟۔۔۔کیا انسانیت کو مذاہب یا فرقوں کے خانے میں بانٹ کر انسان کی بات کی جا سکتی ہے؟۔کیا ایسا کر کے انسانوں میں عدل ممکن ہے؟ اور اگر عدل نہ ہو تو معاشرے کی کیا ساخت بنے گی؟ بالکل ویسی ہی جیسی پاکستان کی بن چکی ہے جیسی اب انڈیا کی بن رہی ہے۔۔۔
ول ڈیورنٹ اپنی کتاب” ہندوستان “میں لکھتا ہے کہ شہنشا ہ اکبر کی سلطنت،کرہ ارض کی سب عظیم اور مضبوط سلطنت تھی۔ قانون اور مالیت دونوں کا نظام بہت سخت تھا۔اکبر نے مذہبی آزادی دیتے ہو ئے تمام عہدے تمام مذہبوں کے پیروکاروں کے لئے کھولے اور افغان
حکمرانوں کا عائد کردہ محصول “جزیہ” ختم کر دیا۔اصلاحی منازل سے گزر کر اکبر کے عہد کا قانون سولہویں صدی میں سب سے حق شناس اور انسان دوست قانون بن گیا۔ مذید لکھتاہے؛جب فرانس میں پرو ٹسٹنٹ، کیتھولک کے ہاتھوں قتل ہو رہے تھے، عہد الزبتھ میں پروٹسٹنٹ انگلستان میں کیتھولک کو مار رہے تھے، سپین میں یہودیوں کی لوٹ مار اور قتل و غارت ہو رہی تھی اور اٹلی میں برونو کو زندہ جلا یا جا رہا تھا تو اکبر اپنی سلطنت میں تمام مذاہب کے نمائندگان کو ایک جلسہ مشاورت میں آنے کی دعوت دے رہا تھا۔ اس نے تمام فرقوں اور عقائد کے لئے بردباری، تحمل اور برداشت کے احکامات صادر فرمائے۔ اس سلسلے میں برہمن، بدھ اور مسلمان عورتوں سے شادی اس کا عملی ثبوت تھا۔”
اس مذہبی آزادی سے ہندو مسلمان تو نہ ہوئے مگر ریاست اور اکبر کے وفادار ضرور بن گئے تھے۔ ہوتا بھی یہی ہے جب آپ مذاہب کو چن چن کر نشانہ نہ بنائیں، یاذات پات، مذہب یا رنگ کی بنیاد پر خدا کی مخلوق میں تفرقہ نہ کریں اور اسی بنا پر کسی کو کسی پر فوقیت نہ دیں تو لوگوں کا ہجوم ایک مضبوط ” قوم” بن سکتا ہے ورنہ تو ہر کوئی نفرت کی بنیاد پر کھڑی کی ہو ئی دیوار کے پیچھے چھپ جائے گا جہاں سے صرف وہ خود کو دیکھ اور برداشت کرسکے گا یا دوسروں سے خود کو محفوظ رکھ سکے گا۔۔ یہ تقسیم کرتی دیوار نہ ہو گی تو دوسرے کو دیکھنے اور برداشت کرنے کی طاقت آئے گی۔۔
پاکستان بنا تھا تو تمام مسلمان اس تحریک میں شامل تھے۔۔ کیا کوئی یہ دعوی کر سکتا ہے کہ یہ ملک کسی ایک خاص فرقے نے بنایا یا کسی ایک خاص فرقے کے لئے بنا۔ چلو ریاست کے آئین میں کسی کوغیر مسلم کہہ دیا تو اس کو ہٹانے کے لئے آئین سے ترمیم ناممکن امر ہی سہی(آئین میں ایسی مذہبی باتیں ہونی ہی نہیں چاہیئں۔۔ خیر یہ میرا ذاتی خیال ہے اختلاف کا حق سب کو ہے سو مجھے بھی ہے) مگراس کو آئے دن پکا کرنے کا مقصد؟(لیڈر کی تعریف ہی یہی ہے کہ وہ اپنی سمجھ، شعور لوگوں میں منتقل کر کے انہیں قائل کرتا ہے، (یہ زیادہ مقبول اور آسان راستہ نہیں ہے)نہ کہ لوگوں کو خوش کرنے کو، اور اپنے گرد ہجوم اکھٹا کر نے کو، انہی کے نعرے دہرانے لگ جائے،اس کو لیڈر نہیں ڈیماگاگ کہتے ہیں، اور ماشاللہ ہمارے پاس اچھے یا برے ڈیما گاگ ہی آئے، ابھی تک کوئی لیڈر نہیں آیا کہ لوگوں کو شعور اور فہم کی چار باتیں سکھا سکتا)۔اور اگرفتنہ ایک “مخصوص مذہب جسے آپ غیر مسلم کہہ چکے ہیں “اٹھاتا ہے، تو اس فتنے کو اپنے ملک کے شہری سمجھ کر ڈیل کریں نہ کہ اس طرح ڈیل کریں کہ ان کے درمیان نفرت ایک پو دے سے تناور درخت بن جائے۔۔ اگر ان لوگوں کو مل جل کر رہنے اور خاموشی سے اپنے طریقے سے عبادت کرنا “کوئی “نہیں سکھا رہا تو آپ تو اکثریت میں ہیں۔۔ آپ ان کے “عمل” کا “رد عمل” نہ بنیں بلکہ آپ “عمل” کریں جس کے حساب سے وہ اقلیت اپنا رد عمل” ظاہر کرے۔۔اسلام کا نظام انصاف کا نظام ہے اگر ایسا نہیں ہے تو اللہ تعالی کو کیا پڑی تھی کہ یہ سب کچھ تو اسلام سے پہلے بھی ہو رہا تھا اور زیادہ بہتر طریقے سے ہو رہا تھا۔۔
اورنگزیب بادشاہ نے جب غیر مسلموں سے جزیہ دوبارہ لینا شروع کر دیا اور ان کی عبادت گاہوں کو مٹانا شروع کیا تو گویا اکبر ِ اعظم کی قائم کی گئی “عظیم سلطنت “کے زوال کی بنیاد رکھ دی تھی۔۔ نفرت کے بیج کے ساتھ نفرت کا درخت اگانے کی شروعات ہو گئی تھی۔ ایک ملک کے لوگ بادشاہ کے ساتھ وفادار (وفا، ہمیشہ محبت سے جیتی جاتی ہے نفرت سے بغض اور موقع ملتے ہی بے وفائی نصیب بنتی ہے) ہی نہ ہوں تو چلتے چلتے “نسلیں ” ایسٹ انڈیا کے ہاتھوں بک ہی جاتی ہیں۔۔ مگر یاد رکھئے سادگی پسند اور رز ق ِ حلال کمانے والے اورنگزیب نے جب ٹوپیاں سی سی کرجو اپنی حلال کمائی کے تین سو روپے غریبوں کے لئے چھوڑے، تو وصیت میں انہوں نے کسی خاص فرقے یا کسی خاص مذہب کے” غریب” کا ذکر نہیں کیا۔۔۔۔۔کہ دنیا تقسیم تو انہی دو قسم کے لوگوں میں ہے۔۔ امیر اور غریب۔
ایک مومن کو دوسروں کو اپنے ااخلاق سے قائل کرنے کا حکم ہے نہ کہ ان کی تذلیل یا تحقیر کر کے۔ لیکن میں یہ دیکھ رہی ہوں کہ ظاہری عبادت اور ظاہری حلیہ کی بنیاد پر اچھے اور برے مسلمان کی برتری کا معیار مقرر کیا جا رہا ہے۔ مسلمانی کی نمائش میں ہم اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ اسلام کی روح ہمارے اندر کہیں مر گئی ہے۔ کینڈا کی فضاؤں میں اذان کی آواز گونجے یا نہیں؟ اس پر ہم شور مچا رہے ہیں جیسے اسلام کی “زندگی” کا درومدار ہی اس پر ہے جو اس ایشو پر خاموش ہے یا اس کے حق میں نہیں اس کے اسلام کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔ عاجزی اور انکساری کے ساتھ اپنے حسن اخلاق اور ایمانداری سے لوگوں کو ایسے متاثر کریں کہ آپ خود ایک چلتی پھرتی” اذان “بن جائیں۔۔ لوگ خوشی سے پوچھیں یہ لین دین میں اتنے سچے اور کھرے، یہ حسن ِ اخلاق کے نمونے، یہ انسانیت نواز، یہ کون لوگ ہیں ان کا مذہب کیا ہے،یہ کس ملک کے باشندے ہیں۔۔ تو جب ان غیر مسلموں کو یہ جواب ملے کہ “یہ مسلمان ہیں ” تو جانئے ایسے مسلمانوں نے اس غیر مسلم کے کان میں ہی نہیں دل میں بھی اذان دے دی۔۔
لیکن اگرتکبر سے سینہ پھلا کر، خود کو جنت کا حقدار سمجھ کر، اس ساری کائنات میں سب سے برتر مخلوق سمجھ کر،آپ ناجائز طریقے سے پیسے کمارہے ہیں، جھوٹی ویلفئیر لے رہے ہیں، کسی کے نام کی انشورنس سے کسی کی دوائیاں لے رہے ہیں، پورے سسٹم کو بے وقوف بنا رہے ہیں، یا کسی کا حق مار رہے ہیں، نفرت اور حسد کی آگ میں جل رہے ہیں، منافقت آپ کے وجود میں رچ بس گئی ہے، جھوٹ آپ کی عادت ثانیہ بن چکی ہے تو سوچئیے!! اس اذان نے اس اللہ کے حضور سر بسجود ہو نے کی پکار نے اگر آپ کا کچھ نہیں سنوارا تو غیر مسلموں کے لئے بھی وہ فقط ایک شور کے سوا اور کیا ہوگا؟۔۔۔۔۔آپ کا کردار اور آپ ہیں اذان اورچلتا پھرتا قران۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر نہ اسلام کی شناخت ختم ہو گی نا مسلمان کی۔۔ یہ شناخت تب تب مرتی ہے جب جب آپ کے اندر اخلاق اور انسانیت مرتی ہے۔

روبینہ فیصل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پریم چند مرتے کیوں نہیں؟
  • برسرِ اقتدار سارے لوگ
  • حکومتی رٹ
  • امن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مری محبت بھی نیلگوں ہے
پچھلی پوسٹ
محو رقص وصال تھا کیا تھا

متعلقہ پوسٹس

رستہ ہوں فقط رختِ سفر میں تو نہیں ہوں

مئی 13, 2020

ہیری پوٹر ان ٹربل

مئی 2, 2020

ہوتی ہے شمعِ عشق فروزاں کبھی کبھی

نومبر 3, 2021

بھُٹو تُم سے نہیں مرے گا

مئی 9, 2020

رائی کا اک پہاڑ بنانے سے پیشتر

فروری 12, 2021

نوحهِٔ زمین

دسمبر 15, 2024

نابینا علمائے کرام

دسمبر 12, 2025

شوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف

ستمبر 7, 2021

اک ترے آنے کے بعد

مئی 25, 2024

یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا

اپریل 23, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اس قدر خوابی ء تقدیر نہیں...

فروری 13, 2020

خَلق کی ابتدا محمدؐﷺ ہیں

اکتوبر 12, 2025

پاکستانی افسانہ

مئی 23, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں