103
مجھے اک گھر بنانا ہے
جہاں زیتون کی شاخوں پہ پنچھی چہچہاتے ہیں
خدائے لم یزل کی عظمتوں کے گیت گاتے ھیں
مجھے اک گھر بنانا ہے
جہاں مٹی میں گندم کی جگہ ہم بھوک نہ بوئیں
جہاں سورج کی کرنیں جبر کے بارود میں سانسوں کو نہ کھوئیں
مجھے اک گھر بنانا ہے
منزہ امور گوئیندی
