107
کبھی کبھی مجھے کچھ بھی بھلا نہیں لگتا
جہاں چلوں وہ مرا راستہ نہیں لگتا
جو میرے ساتھ چلے ہیں وہ میرے ساتھ نہیں
یہ سلسلہ مجھے وہ سلسلہ نہیں لگتا
میں سچ کہوں گا اگر تم مجھے قسم دے دو
میں کچھ کہوں تمہیں بالکل بُرا نہیں لگتا
پہاڑ عمر نجانے کٹے گی بھی کہ نہیں
جلا ہے دل میں دیّہ جو بجھا نہیں لگتا
تمام شہر سے بُو آ رہی ہے مقتل کی
جو جس طرح ہے مجھے اُس طرح نہیں لگتا
حافظؔ زین العٰابدین
