104
بے چہرگی سے چہرہ چھپا کر کھڑا رہا
میں آئینے سے آنکھ بچا کر کھڑا رہا
وہ خوف تھا کہ آنکھ اٹھائی نہ جا سکی
سینے میں کوئی حشر اٹھا کر کھڑا رہا
دریا نے میرےکشتوں کے پشتے لگا دیے
میں ساحلوں پہ خواب سجا کر کھڑا رہا
ہر صبحِ نو خراج ہے اس شخص کے لیے
جو بام پر چراغ جلا کر کھڑا رہا
پاؤں زمیں کی تہہ میں اترتے چلے گئے
میں آسمان سر پہ اٹھا کر کھڑا رہا
کشتی بنائی جائے گی اب اس کو کاٹ کر
جو پیڑ مجھ سے ٹیک لگا کر کھڑا رہا
کھڑکی میں جس چراغ کا پہلا ظہور تھا
ہر سایہ اس کو آڑ بنا کر کھڑا رہا
دیوار پر لگی ہوئی تصویر رو پڑی
جب سایہ اس کو خواب سنا کر کھڑا رہا
علی صابر رضوی
