422
کہاں حالات پر کچھ بس ہمارا چل رہا ہے
غنیمت جانئیے جوں توں گزارا چل رہا ہے
خدا نے وقت کو کیسی کڑی مشکل میں ڈالا
برا اچھا بہر صورت بے چارہ چل رہا ہے
فرشتوں نے دلیلیں دیں بنی آدم کے حق میں
سو اپنا نام جنت میں دوبارہ چل رہا ہے
خوشامد ، دوغلا پن ، سازشیں ، تہمت ، سیاست
کمینی سوچ سے اعلی ادارہ چل رہا ہے
نہ پوچھو رات دن کا حال میرے غم گسارو
خسارہ چل رہا تھا اور خسارہ چل رہا ہے
شبِ غم ساکت و بےحس پڑی ہے سانس روکے
اُدھر افلاک پر اک آدھ تارا چل رہا ہے
خدائی کارخانہ بھی یونہی چلتا ہے پیارے
کہ جیسے یہ جہاں سارے کا سارا چل رہا ہے
صائمہ آفتاب
