خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااگر
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریر

اگر

از ہما فلک جنوری 2, 2022
از ہما فلک جنوری 2, 2022 0 تبصرے 38 مناظر
39

“سیمی ایک کپ چائے تو بنا دو۔ پلیز!”

’’اس وقت؟ یہ کون سا وقت ہے چائے پینے کا ؟ رات کو نیند بھی نہیں آئے گی۔‘‘ سیمی جو کہ ناول میں گم تھی اسے یہ بےوقت کی راگنی بہت کھلی۔

“میرا ابھی موڈ ہے چائے پینے کا تو کیا اب میں صبح کا انتظار کروں ؟”

’’افوہ۔۔۔ سارے دن میں ایک یہی وقت ہوتا ہے آرام کا اب اس میں بھی ۔۔۔۔ ‘‘سیمی جھنجھلا کر بولی۔

’’تم کرتی کیا ہو سارا دن، صفائی اور کپڑے تو کام والی کے ذمے ہیں۔ فون پر گپ بازی کر لیتی ہو یا ناول پڑھتی رہتی ہو۔‘‘

’’تو آپ کے خیال میں صرف صفائی اور کپڑے ہی کام ہیں اور کوئی گھر کی ذمہ داری نہیں ہوتی؟۔‘‘سیمی جانتی تھی کہ وہ ہر بار یہ جملہ اسے چڑانے کے لئے بولتا ہے۔ پھر بھی وہ چڑ جاتی تھی۔ نہ تو کبھی ایسا ہوا تھا کہ اس نے یہ جملہ نہ بولا ہو، نہ ہی کبھی سیمی نے نظر انداز کیا تھا۔

’’تو ایسا کون سا تیر مارتی ہو، ساری عورتیں ہی گھروں کی ذمہ داریاں پوری کرتی ہیں۔ وہ بھی تو ہیں جو جاب بھی کرتی ہیں اور گھر بھی سنبھالتی ہیں۔ سارا دن دفتر میں سر کھپا کے ایک کپ چائے ہی تو مانگا ہے تم سے۔‘‘

’’ تو آپ کون سا کوئی انوکھا کام کرتے ہیں۔ سارا دن فلی ائیر کنڈیشنڈ آفس میں آرام سے گزرتا ہے۔ وہ بھی تو ہیں جو شدید تپتی دوپہر میں مزدوری کرتے ہیں۔‘‘ سیمی نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔

’’دیکھو ایک کپ چائے کے لئے اتنی چخ پخ کی ضرورت نہیں بنا کر دو گی یا نہیں؟‘‘ وہ جانتی تھی کہ اب نہ کی گنجائش نہیں۔ بڑبڑاتی ہوئی باورچی خانے کی طرف چلی آئی۔ ایک تو گرم بستر سے نکلنا، اوپر سے ناول ایسے موڑ پر کہ، تجسس عروج پر تھا۔ موڈ تو خراب ہونا ہی تھا۔ چائے بنا کر لائی تو اسد بڑا مگن ہو کر ٹی وی پر خبریں دیکھ رہا تھا۔ سیمی کو اس کے ہر وقت نیوز چینل لگائے رکھنے پر سخت اعتراض ہوتا تھا۔ کبھی تو انسان کچھ اور بھی دیکھتا ہے۔

’’وہ اسد ۔۔۔۔ میں کہہ رہی تھی کہ ۔۔۔‘‘

“ٹھہرو ذرا ایک منٹ بہت ضروری خبر آرہی ہے۔‘‘

’’ آپ سے تو جب بات کرو کوئی نہ کوئی خبر آ رہی ہوتی ہے۔ انسان بات کب کرے؟‘‘

’’مجھے سننے دوگی ذرا؟‘‘

’’تو سنیں میں نے کون سا آپ کے کانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

’’یار ۔۔۔ تمہاری بک بک میں پوری خبر نکل گئی اب کیا خاک سنوں؟‘‘جھنجھلا کر اسد سگریٹ سلگانے لگا۔ سیمی کو بک بک والی بات پر ویسے ہی غصہ تھا، سگریٹ سلگاتے دیکھ کر اور بھی سوا ہو گیا۔

’’آپ جانتے ہیں نا مجھے اس کی بو نہیں پسند ۔۔۔۔‘‘

’’ تو کیا کروں ؟ اب سگریٹ بھی نہ پیوں ؟‘‘

’’نہیں ضرور پیئیں میرے روکنے سے کون سا آپ باز آنے والے ہیں۔ یہ تو آکسیجن ہے آپ کے لئے، لیکن یہ مہربانی کریں کہ بالکونی میں چلے جائیں۔‘‘

’’دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟ اتنی سخت سردی میں میں باہر چلا جاؤں۔‘‘ اسد نے ایک لمبا کش لے کردھواں اگلتے ہوئے کہا۔ اب یا تو سیمی خود اٹھ کر وہاں سے جاتی، یا دھواں اور بو برداشت کرتی۔ گرم بستر میں لیٹ کر ناول پڑھنے کا جو مزہ تھا اسے تھوڑی دیر کے دھوئیں پر قربان نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس نے اٹھ کر کھڑکی کھولی اور لیٹ کر پھر سے ناول میں مگن ہو گئی۔

’’ لائٹ آف کرو مجھے سونا ہے ۔‘‘ اسد چائے اور سگریٹ سے فارغ ہو چکا تھا۔ اپنی سائیڈ کا لیمپ بند کرتے ہوئے بولا۔

’’ بس یہ والا چیپٹر پڑھ لوں۔ بہت دلچسپ ہے اس عورت کو زنجیروں سے کیوں باندھ کر رکھا گیا تھا، بس یہ پتہ چل جائے تو بند کرتی ہوں۔‘‘سیمی جانتی بھی تھی کہ اسے اس سب میں دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ اسے اس کے فضول مشغلے گردانتا ہے مگر پھر بھی اسے لگا کہانی کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے وہ اس سے لائیٹ بند کرنے کی ضد نہیں کرے گا۔

’’تم جانتی ہو مجھے صبح آفس جانا ہے اور لائیٹ مجھے ڈسٹرب کرتی ہے۔”

“ہاں تو آپ اپنا لیمپ آف کرکے دوسری طرف منہ کرکے سو جائیں پلیز ، بس تھوڑا سا ہی پارٹ رہ گیا ہے۔‘‘

’’لائٹ بند کرو یا دوسرے کمرے میں چلی جاؤ۔‘‘ اسد نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔

’’اف۔۔۔ آپ بھی نا۔‘‘ اب دوسرے کمرے میں جانے کے تصور سے ہی اسے کپکی آ گئی اس لئے ناچار اس نے لیمپ بجھایا اور خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگی۔

یہ یا اسی طرح کی بحثیں ان کا روز کا معمول تھا اور اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ ان کی شادی کو دوسال گزر چکے تھے اور اس طرح کی چھوٹی موٹی نوک جھونک ہر وقت چلتی رہتی تھی۔ سیمی کو اب لگنے لگا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ ادھر اسد کو بھی یہی گلہ تھا۔ صبح دفتر جاتے ہوئے اسے بتانا پڑتا کہ شام میں وہ گھر آئے گا یا کہیں اور کا پروگرام ہے۔ اگر کوئی اور پروگرام ہوتا تو اسے بتانا پڑتا، کہاں جانا ہے، کب واپس آئے گا یا جیسے ہی دفتر سےچھٹی کا وقت ہوتا وہ فون کر کے پھر پوچھ لیتی کہ وہ گھر ہی آرہا ہے یا کہیں اور جانا ہے ۔اگر اس نے کہیں اور جانا ہوتا ،دوستوں وغیرہ کی طرف وہ تب بھی دو تین دفعہ کال کر کے ضرور پوچھتی کب آ رہے ہیں۔ اب تو اس کے کولیگز بھی اس بات سے واقف ہو چکے تھے اور اس کا مذاق بناتے کہ آ گئی ‘ہیڈ کوارٹر’ سے کال۔ وہ کبھی ہنس کر ٹال دیتا اور کبھی جھنجھلا جاتا۔ اسی طرح چھٹی کے دن بھی اسے یا تو سیمی کو لے کر اس کے میکے جانا پڑتا یا خریداری وغیرہ بھی وہ اس کی چھٹی آنے تک اٹھا رکھتی تھی۔ وہ جو بھی پروگرام دیکھتا تھا۔ سیمی کو بہت بور لگتے تھے۔ اسی طرح سیمی کی فلمیں، ڈرامے، کتابیں اسد کو بے کار مشغلے لگتے۔ سیمی لیٹ کر اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ پھر اس کا دھیان ناول والی زنجیروں میں بندھی ہوئی عورت کی طرف چلا گیا۔ کس جرم کی پاداش میں اسے حویلی کے اندر زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا تھا۔ آدھا سے زیادہ ناول وہ پڑھ چکی تھی۔ حویلی کے لوگ بظاہر تو بہت نرم دل اور انسان دوست دکھائے گئے تھے۔ پھر اس پر یہ تضاد اس کے تجسس کو ہوا دے رہا تھا۔ کچھ دیر تو وہ لیٹی سوچتی رہی۔ پھر اس نے مڑ کر اسد کو دیکھا، وہ گہری نیند میں خراٹے لے رہا تھا۔ اس کے خراٹے بھی سیمی کی نیند میں ہمیشہ مخل ہوتے تھے لیکن اس کے پاس اس کا حل کوئی نہیں تھا۔ اس نے اس کی طرف ایک تکیے کی آڑ سی بنائی اور لیمپ جلا لیا۔ روشنی ہوتے ہی اسد کے خراٹے رک گئے۔

’’ ہوں ۔۔۔ ہوں۔۔۔بند کرو اس کو۔‘‘ گہری نیند میں وہ بڑ بڑایا۔ سیمی نے سخت کوفت زدہ ہو کر لیمپ بجھایا۔ پھر آہستگی سے اٹھی ، بہت احتیاط سے الماری میں سے ایک کمبل نکالا ،اور ناول لے کر لیونگ روم میں آ گئی۔ دروازاہ بند کر کے صوفہ پر آرام سے لیٹ کر پڑھنے لگی۔

’’تم تو مجھے پاگل لگتی ہو جسے نیند ہی نہیں آتی۔‘‘ ابھی اسے یہاں آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا کہ نیند میں ڈوبا ہوا اسد دروازے میں کھڑا کہہ رہا تھا۔

’’ یہ وقت ہے تمہارا پڑھنے کا؟ صبح نہیں ہوگی کیا۔‘‘

’’ اسد میں آپ کو تو کچھ نہیں کہہ رہی ہوں ، آپ جا کر سو جائیں آرام سے۔‘‘ سیمی کو اس کی اس وقت کی مداخلت سخت ناگوار گزری تھی۔

’’ کیسے سو جاؤں ؟ مجھے دروازے کے نیچے سے لائٹ تنگ کر رہی ہے۔‘‘ سیمی نے انتہائی بے بسی سے ناول بند کیا اور بیڈ روم میں آگئی۔

’’انسان اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کر سکتا۔ وہ لیٹتے ہوئے بڑبڑائی تھی۔

’’ چپ کر کے سو جاؤ میرا بحث کا موڈ نہیں ہے۔ مجھے صبح دفتر جانا ہے۔ تم نے تو سارا دن بستر میں لیٹ کر ناول پڑھنے ہوتے ہیں۔ اس وقت سیمی کا دل چاہا کہ کوئی ایسا بٹن ہوتا جسے دبانے سے اسد گہری نیند سو جاتا اور وہ آرام سے اپنا ناول مکمل کر لیتی یا پھر اس کا اپنا ہی کوئی بٹن ہوتا جسے دبا کر وہ ان سوچوں سے نجات حاصل کر لیتی۔

’’سیمی ایک کپ چائے تو بنا دو ۔‘‘

’’اس وقت۔۔۔؟‘‘’’ہاں ۔۔۔ ابھی موڈ ہے۔‘‘

’’اوکے جان ۔۔۔ ابھی لاتی ہوں۔‘‘سیمی نے اسد کی طرف کروٹ بدلی اور مسکرا کر اسکی طرف دیکھا۔ اسد اسے قریب پا کر اس پر جھک گیا۔ سیمی نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کے بالوں میں اپنا ہاتھ پھنسایا تو اسد فورا سو گیا۔ سیمی نے اس کا سر آرام سے تکیے پر رکھا اور اپنا ناول پڑھنے لگی۔

’’دوسرا چینل لگاؤ ، آج بہت اہم اجلاس ہوا ہے۔ ہر طرف اسی کا شور ہے۔مجھے دیکھنا ہے۔‘‘

’’اسد بہت اچھی فلم آرہی ہے ، مجھے بہت عرصے سے اسے دیکھنے کا شوق تھا۔‘‘

’’میں نے کہا ہے کہ یہ خبر بہت اہم ہے۔ تمہاری فلمیں تو سارا دن چلتی ہیں۔‘‘سیمی ریموٹ ہاتھ میں پکڑے اٹھ کر اسد کے قریب آئی ۔

’’یہ لیں دیکھ لیں اپنا پروگرام ۔‘‘ نرمی سے کہہ کر اس نے اسد کے سر کو سہلایا۔ وہ گہری نیند میں ڈوب گیا تو وہ آرام سے اپنی فلم دیکھنے لگ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ اس بٹن کی یہی خاصیت ہے کہ اسد جب اٹھے گا تو اسے، وقت کا صرف ایک لمحہ گزرا ہوا محسوس ہوگا اور وہ اپنی سونے سے پہلے کی خواہش یا سوال بھول چکا ھوگا۔

’’آپ جانتے ہیں مجھے سگریٹ کا دھواں نہیں پسند۔‘‘

’’ تو پھر ادھر چلی جاؤ۔‘‘ سیمی اسد کے قریب آئی اور اسد بے خبری کی نیند میں ڈوب گیا۔ اب سیمی کو اسد کے خراٹے بھی تنگ نہیں کرتے تھے۔ وہ اتنی آہستہ سانس لیتا تھا کہ بہت قریب سے سننے پر بھی مدہم سی آواز آتی تھی۔

’’آج پارٹی میں بہت مزہ آیا ،لیکن تھکن بھی بہت ہو گئی۔‘‘ وہ لوگ باہر سے آئے تھے سیمی نے جوتے اتارتے ہوئے تھکے تھکے لہجے میں کہا۔

’’ہاں اور تم غضب کی حسین لگ رہی تھیں، سب میں نمایاں۔‘‘ اسد اس کی طرف جھکا۔

’’جاؤ نا اپنی سرخ نائیٹی پہن کر آؤ۔‘‘

’’اف ۔۔۔ اسد سچ بہت تھکی ہوئی ہوں۔‘‘

’’چینج تو تم نے کرنا ہی ہے تو وہی پہن لو۔‘‘

’’ وہ پہن تو لوں لیکن اس کے بعد۔۔۔۔ پلیز اسد ۔۔۔سخت نیند آرہی ہے۔‘‘

’’اگر تم سے نا کہوں تو کسی اور سے کہوں؟‘‘

’’ کسی اور کا سوچ کر بھی دیکھیں۔۔۔لیکن آج نہیں بس۔۔۔‘‘ سیمی دُلار سے بولی۔

’’فریش ہو جاؤ گی مان جاؤ۔۔۔۔ ‘‘

’’پلیز ۔۔۔ آج نہیں۔‘‘

’’او کے ۔۔۔۔ایز یو وش ( as you wish) ۔۔۔ ‘‘ اسد نے قریب آ کر اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اس کے بالوں میں سہلایا۔ سیمی گہری نیند میں چلی گئی۔ اسے احتیاط سے بیڈ پر لٹا کر اس نے موبائل پر کوئی نمبر ملایا۔

’’جان ۔۔۔ تم بس پندرہ منٹ انتظار کرو ۔۔۔ میں آ رہا ہوں۔۔۔۔‘‘

سیمی نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ اس نے پلٹ کر اسد کو دیکھا۔ وہ گہری نیند میں بلند آواز میں خراٹے لے رہا تھا۔ اسے اب کوئی خواہش نہیں رہی تھی کہ اسد کے خراٹے بند ہوں اور وہ گہری نیند سو سکے

ہمافلک

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سفرنامہ بھارت – آخری قسط
  • نہیں کوئی اپنا زمین و زماں میں
  • زندگی کی الجھنوں میں
  • قرآن مجید پڑھنے کی عادت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
ہما فلک

اگلی پوسٹ
ابدی موت
پچھلی پوسٹ
پرندے کچھ تو کہتے ہیں

متعلقہ پوسٹس

نبی کریمؐ کی تعظیم پر سمجھوتہ ہر گز نہیں

اکتوبر 28, 2020

بیت رہی ہے زندگی اسی انتظار میں

جنوری 23, 2020

خورشٹ

جنوری 31, 2020

میرا ہم سفر

جنوری 15, 2020

نصاب دل کا حسن کی کتاب سے نکل گیا

نومبر 19, 2019

کبھی اندھا کبھی بہرا

اپریل 5, 2022

عجب ٹریک پرستوں سے واسطہ تھا مرا

جون 3, 2020

معاصر اُردو غزل کا نمایندہ شاعر- ارشاد نیازی

جنوری 15, 2021

زندگی رکتی تو نہیں

فروری 2, 2020

فرحت پروین

دسمبر 19, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہر اک منظر بھگونا چاہتی ہے

جنوری 23, 2020

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے

جولائی 4, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں