104
میں سمجھا تھا ذرا سا مختلف ہے
مگر وہ اچھا خاصا مختلف ہے
مجھی سے ہی شکایت کس لیے ہے
ترا بھی تو رویہ مختلف ہے
اسے آخر بتانا پڑ گیا تھا
جو ہوتا ہے وہ لگتا مختلف ہے
بچھڑتے وقت اس نے یہ کہا تھا
ترا مجھ سے قبیلہ مختلف ہے
مرا دل اور ساگر مختلف ہیں
مری آنکھوں کا دریا مختلف ہے
کبھی آ مل کے دیکھیں آئینے میں
کھلے گا ہم میں کیا کیا مختلف ہے
مرا تم سے تعلق مختلف تھا
مگر لوگوں نے سمجھا مختلف ہیں
مرا ہونا نہ ہونا ہے برابر
ترا ہونا نہ ہونا مختلف ہے
جو لوگوں نے بتایا سب غلط تھا
ترا یکسر سراپا مختلف ہے
صغیر اس کی ہیں آنکھیں بھی غضب کی
اور اس پر یہ کہ ہنستا مختلف ہے
صغیر احمد صغیر
