106
تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں
میں تیرے بارے فرشتوں کی طرح سوچتا ہوں
جی میں آتا ہے لپٹ جاوں در و بام کے ساتھ
گھر پہنچتا ہوں تو بچوں کی طرح سوچتا ہوں
میرے سینے میں امانت ہے کسی روشنی کی
شام کے وقت چراغوں کی طرح سوچتا ہے
تیری مرضی ہے مجھے جیسا سمجھ لے لیکن
میں تیرے بارے درختوں کی طرح سوچتا ہوں
اک یہی بات تو اچھی ہے میرے سوچنے میں
آپ ویسا نہیں جیسوں کی طرح سوچتا ہوں
ٹھوکریں کھائی، گرا، سر لگا دیواروں میں
میں اسے آج بھی اندھوں کیطرح سوچتا ہوں
دانش نقوی
