خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباتصنیف وتالیف کی اہمیت
آپکا اردو باباابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمز

تصنیف وتالیف کی اہمیت

از سائیٹ ایڈمن نومبر 15, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 15, 2025 0 تبصرے 64 مناظر
65

تصنیف وتالیف کی اہمیت اور اس کے بارے میں اقوال۔

علم و ہدایت کے سارے چراغ جن ہاتھوں سے روشن ہوئے، ان میں قلم کو سب سے نمایاں درجہ حاصل ہے۔ یہی قلم ہے جس نے آدمؑ کے وارثوں کو علومِ نبوت تک پہنچایا، یہی قلم ہے جس نے گزرے ہوئے انبیاء، اولیاء، حکماء اور ائمہ کے افکار و تجربات کو محفوظ کیا۔ اگر یہ تصنیف و تالیف کا سلسلہ نہ ہوتا، تو آج امتِ محمدیہ کا علمی سرمایہ بکھر کر رہ جاتا، اور وہ تمام خزانے جو ماضی کے علمائے امت نے کھولے تھے، زمانے کی گرد میں دب کر مٹ چکے ہوتے۔ اربابِ قلم کا اس امت بر بڑا احسان ہے کہ ان کی روشنائی کے توسط لوگ دین سے روشناس ہوسکے ، اللّٰہ تعالیٰ ان حضرات کو اپنی شایان شان اجر عطاء فرمائے ۔
آج بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ اہل علم حضرات اپنی اپنی استطاعت اور قدرت کے حساب سے اپنے تجربے ، اور معلومات کو نوک قلم لائے اور آنے والی نسل کے لیے سلسلہ کتابت جاری وساری رکھے ۔
یقینا میدان تصنیف نہایت فضیلت کا حامل ہے ، ساتھ ساتھ انتہائی پر خطر اور شاق بھی ہے تو جلیے جانتے ہیں اس بارے میں علما کے کیا اقوال ہیں ۔
ابن جماعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اُنہیں حدیث کے شغف نے تصنیف، جمع اور تالیف میں مشغول کر دیا، باوجود اس کے کہ ان میں کامل فضیلت اور پختہ اہلیت تھی، کیونکہ تصنیف کے عمل سے انسان مختلف فنون کے حقائق اور علوم کی باریکیوں تک رسائی حاصل کرتا ہے، کیوں کہ اس کے لیے کثرتِ تلاش، مطالعہ، غور و خوض اور مراجعت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ [تذکرة السامع والمتكلم: ۱۸]
عبد اللہ بن المعتز رحمہ اللہ: انسان کا علم اس کی دائمی اولادہے۔ [الجامع الأخلاق الراوي: ۲۸۰/۲]
ابن القیم رحمہ اللہ:عالم کی تصنیفات اُس کی دائمی اولاد ہیں، حقیقی اولاد نہیں۔ [بدائع الفوائد: ۲۲۷/۳]
ابن الجوزی رحمہ اللہ: عالم کی تصنیف اس کی اولادِ مخلّد (ہمیشہ باقی رہنے والی اولاد) ہے۔ [صيد الخاطر: ۳۴]
انہوں نے مزید فرمایا:میں نے درست رائے یہی دیکھی کہ تصنیفات کا نفع بالمشافہ تعلیم کے نفع سے زیادہ ہے، کیونکہ بالمشافہ میں تو میں اپنی زندگی میں محدود تعداد کے طلبہ سے ملاقات کر سکتا ہوں، مگر اپنی تصنیف کے ذریعے ایسے بے شمار لوگوں تک پہنچتا ہوں جو میرے بعد بھی پیدا ہوں گے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ لوگوں کا سابقین کی تصنیفات سے استفادہ اپنے مشائخ سے استفادہ سے کہیں زیادہ ہے۔ [صيد الخاطر: ۲۴۱]
اور فرمایا: عالم کو چاہیے کہ اگر اللہ نے اُسے مفید تصنیف کی توفیق دی ہے تو وہ اس میں ہمہ تن متوجہ ہو جائے، کیونکہ ہر تصنیف، تصنیف نہیں ہوتی۔ مقصود محض کسی چیز کو جمع کر دینا نہیں، بلکہ یہ وہ اسرار ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں پر ظاہر فرماتا ہے، اور انہیں اُن کے انکشاف کی توفیق دیتا ہے، تاکہ وہ منتشر علوم کو جمع کریں، بکھری ہوئی باتوں کو مرتب کریں یا کسی مہمل چیز کی وضاحت کریں — یہی مفید تصنیف ہے۔ [صيد الخاطر: ۲۴۲]
امام منذری رحمہ اللہ : جو شخص نافع علم کو نقل کرے، اُس کے لیے اُس کا اپنا اجر بھی ہے اور اُس شخص کا اجر بھی جس نے اُسے پڑھا، لکھا یا اس پر عمل کیا — جب تک اُس کا خط باقی ہے۔ اور جو شخص کسی گناہ پر مبنی تحریر نقل کرے، اُس پر اپنا گناہ بھی ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی، جب تک وہ خط باقی رہے۔[فيض القدير: ۴۳۷/۱]
خطيب بغدادی رحمہ اللہ : کم ہی کوئی شخص علمِ حدیث میں مہارت حاصل کرتا ہے، اُس کی گہرائیوں تک پہنچتا ہے اور اس کے دقیق فوائد پر مطلع ہوتا ہے، سوائے اس کے جو منتشر مواد کو جمع کرے، متفرق چیزوں کو یکجا کرے، ابواب کی تصنیف اور اصناف کی ترتیب میں مشغول ہو۔ یہ عمل نفس کو مضبوط کرتا ہے، حافظہ کو پختہ بناتا ہے، دل کو روشن کرتا ہے، طبیعت کو تیز کرتا ہے، زبان کو رواں بناتا ہے، بیان کو عمدہ کرتا ہے، مشتَبہ امور کو واضح کرتا ہے، اور مبہم باتوں کو روشن کر دیتا ہے۔ نیز یہ عمل صاحبِ تصنیف کو خوبصورت یادگار اور دائمی شہرت عطا کرتا ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا:( مترجم)
کچھ لوگ مر جاتے ہیں مگر علم اُن کا ذکر زندہ رکھتا ہے،
جبکہ جہالت مردوں کو مردوں سے جا ملاتی ہے۔
[الجامع الأخلاق الراوي: ۲۸۰/۲]
اور فرمایا: مصنف کے لیے ضروری ہے کہ وہ تصنیف کے لیے اپنا دل فارغ کرے، اپنی پوری توجہ اُسی پر مرکوز کرے، اپنی تمام مصروفیات اس کے لیے وقف کر دے اور اپنا وقت اسی میں صرف کرے۔[الجامع الأخلاق الراوي: ۲۸۲/۲]
تاج الدین السبکی رحمہ اللہ: عالم اگرچہ علم میں بلند مقام رکھتا ہو، مناظرے کے میدانوں میں قوی دلائل رکھتا ہو، اور اس کے بازو اتنے مضبوط ہوں کہ وہ تمام رکاوٹوں کو توڑ ڈالے، اپنی ذات میں کامل اور دفاع میں پختہ ہو، تب بھی اُس کا نفع اُس کی زندگی ہی تک محدود رہتا ہے — جب تک وہ کوئی ایسی کتاب تصنیف نہ کرے جو اُس کے بعد بھی باقی رہے، یا ایسا علم نہ چھوڑے جسے اُس کا شاگرد لوگوں تک پہنچائے جب وہ خود دنیا سے رخصت ہو جائے، یا ایسی جماعت کو ہدایت نہ دے جو اس کے بعد بھی اس کے علم سے فیضیاب ہوتی رہے۔
بلاشبہ! تصنیف ان تمام صورتوں میں سب سے بلند درجہ رکھتی ہے، کیونکہ اس کا اثر سب سے طویل مدت تک باقی رہتا ہے، اور بعض اوقات صاحبِ تصنیف کے مرنے کے بعد بھی وہ زندہ رہتی ہے۔
[فتح المغیث: ۳۱۸/۳]
خطيب بغدادی رحمہ اللہ : کتاب اپنے مصنف پر بھی فضیلت رکھتی ہے اور کئی پہلوؤں سے اُس کے لیے باعثِ شرف بن جاتی ہے، مثلاً: کتاب ہر جگہ پڑھی جاتی ہے، اس کے مندرجات ہر زبان پر ظاہر ہوتے ہیں، اور یہ ہر زمانے میں باقی رہتی ہے، اگرچہ زمانے مختلف ہوں اور شہروں کے درمیان فاصلے ہوں۔ یہ وہ بات ہے جو خود مصنف یا مناظر کے لیے ممکن نہیں۔ بسا اوقات عالم دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، مگر اس کی کتابیں باقی رہتی ہیں، عقل فنا ہو جاتی ہے، مگر اُس کا اثر قائم رہتا ہے۔ [تقييد العلم: ۱۱۷]
ابو الفتح علی بن محمد البُستی : لوگ کہتے ہیں کہ انسان کا ذکر اُس کی نسل سے باقی رہتا ہے، حالانکہ اگر نسل نہ ہو تو کوئی ذکر نہیں رہتا۔ میں نے ان سے کہا: میری نسل تو میری حکمت کے نادر نگینے ہیں، پس جسے نسل پر فخر ہے، وہ دیکھے کہ ہم اپنی تصنیفات ہی سے نسل رکھتے ہیں۔
[الجامع الأخلاق الراوي: ۲۸۰/۲]
یحییٰ بن کثیر رحمہ اللہ نے: علم کا میراث مال کے میراث سے بہتر ہے۔
[المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي: ۲۷۷/۱]
ابو محمد ابنِ حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے صرف اُن تصنیفات کا ذکر کیا ہے جو واقعی ذکر کے قابل ہیں، اور وہ سات اقسام میں آتی ہیں، جن میں سے کسی ایک میں عقل مند انسان تصنیف کرتا ہے:
۱۔ کوئی ایسی چیز ایجاد کرے جس پر پہلے کسی نے قلم نہ اٹھایا ہو۔
۲۔ کسی ناقص چیز کو مکمل کرے۔
۳۔ کسی مشکل امر کی وضاحت کرے۔
۴۔ کسی طویل کتاب کو اختصار کے ساتھ پیش کرے، بغیر کسی معنی کے نقصان کے۔
۵۔ کسی منتشر علم کو جمع کرے۔
۶۔ کسی مخلوط مواد کو مرتب کرے۔
۷۔ کسی سابق مصنف کی غلطی کو درست کرے۔
[رسائل ابن حزم: ۱۸۶/۲]
حاجی خلیفہ رحمہ اللہ نے بعض علما سے نقل کیا: طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ اپنے فہم کے مطابق تصنیف و تحقیق میں مشغول ہو، جب لوگوں کو اس کی ضرورت ہو۔ عبارت کو واضح کرے، اصطلاحات سے نہ ہٹے، مشکل باتوں کی وضاحت کرے، مبہم باتوں کو روشن کرے، تاکہ اسے اچھا ذکر اور دوامِ نام حاصل ہو۔
لہٰذا جب تصنیف کا ارادہ کرے تو اپنے دل کو اس کے لیے فارغ کرے، اور پوری توجہ اسی پر مرکوز کرے، تاکہ کوئی رکاوٹ اسے اس شرف تک پہنچنے سے نہ روکے۔
اور جب کتاب مکمل ہو جائے، تو اسے لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے پہلے اس کی اصلاح، تنقیح، تحقیق اور بار بار مطالعہ کرے، کیونکہ کہا گیا ہے: انسان اپنی عقل کے دائرے میں آزاد اور اپنی قوم کی زبان سے محفوظ رہتا ہے، جب تک وہ کتاب نہ لکھے یا شعر نہ کہے۔
[كشف الظنون: ۳۸/۱]
ابراہیم الصولی رحمہ اللہ نے فرمایا: کتاب کو دیکھنے والا، مصنف سے زیادہ اس کی خامیوں کو پہچانتا ہے۔
[الأعلام للزركلي: ۲۲/۱]
قاضی عبد الرحمن البَیسَانی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ کوئی شخص کتاب لکھتا ہے تو اگلے ہی دن کہتا ہے: اگر یہ بات بدل دی جاتی تو بہتر ہوتا، اگر یہ اضافہ کیا جاتا تو اچھا ہوتا، اگر یہ مقدم ہوتی تو زیادہ موزوں ہوتا، اگر یہ حذف ہوتی تو زیادہ خوبصورت ہوتا۔
[كشف الظنون: ۱۸/۱]
مزنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام شافعی کی کتاب الرسالہ اسی (۸۰) مرتبہ پڑھی، اور ہر بار اس میں کسی نہ کسی غلطی پر نظر پڑی۔
امام شافعی نے فرمایا: واللہ! بس کرو — اللہ نے اپنی کتاب کے سوا کوئی کتاب ایسی نہیں بنائی جو ہر لحاظ سے کامل ہو۔
اور فرمایا گیا: اگر کوئی کتاب ستر مرتبہ پیش کی جائے، تب بھی اس میں غلطی نکل آئے گی۔ اللہ نے اپنی کتاب کے سوا کسی کتاب کو خطا سے پاک نہیں رکھا۔(المنتقی ٢٨٠)
معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کتاب کو سو مرتبہ بھی پیش کیا جائے، تب بھی وہ کسی نہ کسی سقط یا خطا سے خالی نہیں رہے گی۔
ثَعالِبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کوئی شخص کتاب لکھ کر ایک رات بھی گزارتا نہیں مگر اگلے دن چاہتا ہے کہ اس میں کچھ اضافہ یا کمی کرے — یہ ایک رات میں حال ہوتا ہے، تو پھر سالوں بعد کی حالت کیا ہوگی!
سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کتنی ہی کتابیں ایسی ہیں جنہیں میں نے پڑھا اور دل میں کہا کہ میں نے اسے درست کر دیا، مگر دوبارہ مطالعہ کیا تو تصحیف (غلطی) پائی، اور پھر اس کی اصلاح کی۔ [المقاصد الحسنة: ۳۹]
یحییٰ بن خالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انسان کے خطوط اور تحریریں اس کی عقل کے درجے پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہیں، اور اُس کے باطن پر سب سے سچا گواہ ہیں، بلکہ بالمشافہ گفتگو کے مقابلے میں اس کے معنی اور گہرائی کو کہیں زیادہ ظاہر کرتی ہیں۔
[الآداب الشرعية: ۳۵۹/۱]
ہلال بن العلاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسی شخص کے عقل و فہم کا اندازہ اُس کی وفات کے بعد اُس کی تصنیف کردہ کتابوں، کہے گئے اشعار، اور تحریروں سے لگایا جاتا ہے۔
[الجامع الأخلاق الراوي: ۲۸۳/۲]
خطيب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے کوئی کتاب تصنیف کی، گویا اس نے اپنا عقل و فہم ایک طشت میں رکھ کر لوگوں کے سامنے پیش کر دیا۔
[الأربعون على الطبقات لعلي بن مفضل المقدسي: ۵۰۵/۱]
یحییٰ بن خالد البرمکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تین چیزیں اپنے اہلِ عقل کی عقل پر دلالت کرتی ہیں: کتاب، جو اپنے مصنف کی عقل کے مطابق ہوتی ہے؛ پیغام، جو اپنے بھیجنے والے کی عقل کے مطابق ہوتا ہے؛ اور ہدیہ، جو اپنے دینے والے کے عقل و شعور کے مطابق ہوتا ہے۔
[الآداب الشرعية: ۲۱۱/۲]
ابن المقفع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص کتاب لکھتا ہے، وہ خود کو نشانہ بنا لیتا ہے؛ اگر اچھا لکھا تو عزت پائے گا، اور اگر برا لکھا تو ذلت اٹھائے گا۔ [مروج الذهب: ۵/۱]
بعض اہلِ علم نے کہا: جس نے کتاب لکھنی ہو، اسے یہ گمان رکھنا چاہیے کہ دنیا کے تمام لوگ اُس کے دشمن ہیں، سب علوم میں ماہر ہیں، اور سب فارغ ہیں کہ اُس کی کتاب پر نظر ڈالیں۔ [الحيوان: ۸۸/۱]
منقول ہے: آدمی اس وقت تک پردہ میں اور محفوظ رہتا ہے جب تک شعر نہ کہے یا کتاب نہ لکھے؛ کیونکہ اُس کا شعر اُس کے علم کا ترجمان ہوتا ہے، اور اُس کی تصنیف اُس کے عقل و شعور کا عنوان۔
[غاية الأماني: ۱۲۴/۱]
مزید: انسان کے جسمانی بیٹوں (اولاد) کو نکاح کے لیے پیش کرنا، عقل کے بیٹوں (خیالات و افکار) کو اہلِ فہم کے سامنے پیش کرنے سے زیادہ آسان ہے۔
نیز: انسان کی کتاب اُس کے عقل کا عنوان اور اُس کے فضل کا ترجمان ہے۔
[زهرة الأدب: ۱۴۰/۱]
اور کہا گیا: آدمیوں کی عقلیں ان کے قلموں کی نوکوں کے نیچے چھپی ہوتی ہیں۔
[الطرائف واللطائف: ۱۰۴]
ابن عبد البر رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں: جب امام مالک رحمہ اللہ نے الموطأ کی تصنیف کا ارادہ کیا اور اسے تیار کیا، تو اُس وقت مدینہ کے دیگر علما نے بھی موطآت تیار کیں۔ کسی نے امام مالک سے کہا: آپ نے اپنے آپ کو ایسی محنت میں ڈال دیا ہے، جبکہ لوگ بھی اسی طرح کی کتابیں لکھ چکے ہیں۔
امام مالک نے فرمایا: لاؤ، ان کی تصنیفات مجھے دکھاؤ۔
جب وہ پیش کی گئیں تو آپ نے اُنہیں دیکھا، پھر پھینک دیا اور فرمایا: تم جان لو کہ وہی کتاب بلند ہوگی جس سے اللہ کا چہرہ (رضا) مقصود ہو۔
پھر ایسا ہوا کہ گویا اُن سب کتابوں کو کنوؤں میں پھینک دیا گیا — ان میں سے کسی کا ذکر باقی نہ رہا، اور صرف امام مالک کی الموطأ ہی باقی رہی۔
[التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: ۲۸۶/۱]

ابو خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مصلحت خداوندی
  • بدلتے موسم
  • برکات ماہ رمضان
  • سلام شہداۓ کربلا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پریم چند کی افسانہ نگاری
پچھلی پوسٹ
کسی دن آؤ

متعلقہ پوسٹس

صرف آواز کا فاصلہ تھا

دسمبر 2, 2019

تاریخ کے وارث – پہلی قسط

جنوری 17, 2025

سلطان مظفر کا واقعہ نویس

جون 15, 2020

رکھتی ہے ہتھیلی پہ

جون 27, 2025

تجھے آخری بار جب میں نے دیکھا

دسمبر 17, 2021

ہے سرخرو یہ آفتاب تو ہے

مئی 14, 2024

میں جہاں جاؤں تعاقب میں ہے رسوائی مری

نومبر 21, 2025

نیا عزم اورپرانی یادیں- نیا سال مبارک ہو

جنوری 8, 2026

اک مصرعے نے چوم لیا درد ہمارا

اکتوبر 16, 2025

سلیم فائز

دسمبر 29, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

 جنگل کا قانون​

نومبر 12, 2019

یقین کامل

مئی 22, 2024

رخ سے پردہ ہٹا کے دیکھیں...

نومبر 4, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں