104
میں جہاں جاؤں تعاقب میں ہے رسوائی مری
مجھ کو محفل میں کیے رکھتی ہے تنہائی مری
مشورہ اپنے معالج کا رکھا بالائے طاق
آج گھائل کر گئی خود سے مسیحائی مری
ڈھونڈتا ہوں نقص خالق کی ہر اک تخلیق میں
باعثِ شرمندگی ہے پھر تو زیبائی مری
شان گھٹنے کی نہیں ہے، سربلندی ہے میاں
کون کہتا ہے کہ جھکنے میں ہے پس پائی مری
باپ نے کی ہے مشقّت پالنے کے واسطے
کیا سے کیا دکھ سہہ گئی میرے لیے مائی مری
اپنے بیٹے کو نہیں دلوا سکا میں روز گار
کام کی ٹھہری نہ کچھ اتنی شناسائی مری
شعر حسرتؔ مَیں سلیقے کے تو کہہ پایا نہیں
اور فن میں ہے بہت مشہور یکتائی مری
رشید حسرتؔ
