421
شبنم کی طرح صبح کی آنکھوں میں پڑا ہے
حالات کا مارا ہے پناہوں میں پڑا ہے
تھا زندگی کے ساز پہ چھیڑا ہوا نغمہ
بے ربط جو ٹوٹے ہوئے سازوں میں پڑا ہے
سورج کی شعاعوں سے الجھتا ہے مسلسل
سایہ ہے ابھی وقت کی باہوں میں پڑا ہے
تاریخ بتائے گی وہ قطرہ ہے کہ دریا
آنسو ہے ابھی وقت کے قدموں میں پڑا ہے
اس طرح وہ رد کرتا ہے عالمؔ کے کہے کو
جیسے کوئی بھرپور گناہوں میں پڑا ہے
افروز عالم
