614
عشق پاگل کر گیا تو کیا کرو گے سوچ لو
سانحہ ایسا ہوا تو کیا کرو گے سوچ لو
ساتھ اس کے ہر قدم چلنے کی عادت کس لیے
چھوڑ کر وہ چل دیا تو کیا کرو گے سوچ لو
شور باہر ہے ابھی اس واسطے خاموش ہو
شور اندر سے اٹھا تو کیا کرو گے سوچ لو
کر رہے ہو گھر نیا تعمیر اڑتی ریت پر
یہ اچانک گر گیا تو کیا کرو گے سوچ لو
لوٹ کر جانا تو ہے آخر سبھی کو اس طرف
سو برس بھی جی لیا تو کیا کرو گے سوچ لو
دھڑکنیں مدھم ہوئی جاتی ہیں اے چارہ گرو
چاک دل کا سل گیا تو کیا کرو گے سوچ لو
بند پلکوں میں ادھورے خواب بنتے ہو مگر
کوئی ان میں آ بسا تو کیا کرو گے سوچ لو
در دریچے سب مقفل کر کے بیٹھے ہو مگر
وہ اچانک آ گیا تو کیا کرو گے سوچ لو
ڈوبتے سورج کا چہرہ اور اس کا نقش پا
جب یہ منظر گم ہوا تو کیا کرو گے سوچ لو
فاخرہ بتول
