104
وہ عنایت اگر نہ کر جاتا
عین ممکن تھا آج مر جاتا
بات پگڑی سے بڑھ گئی آگے
جیسے حالات تھے یہ سر جاتا
چار سو وہ بلائیں تھیں توبہ
تم نہ آتے اگر تو ڈر جاتا
میں نے دل سے تمہیں پکار لیا
اتنی جلدی نہ نامہ بر جاتا
نور آنکھوں کا بجھ گیا ہوتا
یہ بھی ممکن تھا سارا گھر جاتا
محمد رضا نقشبندی
