438
یوں تو میخانے میں مے کم ہے نہ پانی کم ہے
پھر بھی کچھ کشتئِ صہبا میں روانی کم ہے
سچ تو یہ ہے کہ زمانہ جو کہے پھرتا ہے
اس میں کچھ رنگ زیادہ ہے کہانی کم ہے
آؤ ہم خود ہی درِ یار سے ہو آتے ہیں
یہ جو پیغام ہے قاصد کی زبانی کم ہے
تم بضد ہو تو چلو ترکِ ملاقات سہی
ویسے اِس دل نے مری بات تو مانی کم ہے
یاد رکھنے کو تو اے دوست بہت حیلے تھے
اک ترا زخمِ جدائی تو نشانی کم ہے
دفترِ شوق مرتّب ہو تو کیسے ہو فرازؔ
دل نے ہر بار کہا، ایک کہانی کم ہے
احمد فراز
