696
کسی شام چپکے سے در آئے گا
جو بھولا ہوا ہے وہ گھر آئے گا
زمیں پر کہیں بھی چلا جائے وہ
زمیں گول ہے، گھوم کر آئے گا
جو ہم نے کہا تھا، نظر آگیا
جو ہم کہہ رہے ہیں، نظر آئے گا
اکیلا نہ جا، رات کا وقت ہے
تجھے گُھپ اندھیرے میں ڈر آئے گا
گزارو گے جس کے لئے مدّتیں
وہ لمحہ بہت مختصر آئے گا
کرو خدمتِ صاحبانِ ہنر
ہنر سیکھنے سے ہنر آئے گا
ترا قول تھا عمر بھر کے لئے
مجھے یاد تُو عمر بھر آئے گا
محبت میں پڑتی نہیں جھریاں
میں پہچان لوں گا اگر آئے گا
شعورؔ اس طرح جا رہا ہے وہاں
نہ آیا مجاہد تو سر آئے گا
انور شعورؔ
