505
غم حیات میں کوئی کمی نہیں آئی
نظر فریب تھی تیری جمال آرائی
وہ داستاں جو تری دلکشی نے چھیڑی تھی
ہزار بار مری سادگی نے دہرائی
تری وفا ، تری مجبوریاں ، بجا، لیکن
یہ سوزش غم ہجراں ، یہ سرد تنہائی
فسانے عام سہی ، مری چشم حیراں کے
تماشا بنتے رہے ھیں یہاں تماشائی
کسی کے حسن تمنا کا پاس ھے ورنہ
مجھے خیال جہاں ھے نہ خوف رسوائی
کہیں یہ اپنی محبت کی انتہا تو نہیں
بہت دنوں سے تری یاد بھی نہیں آئی
احمد راہی
