107
خدا مجھ پہ اتنا تو احسان کر دے
اسے دنیا والوں سے انجان کر دے
اسے مجھ سے ہرگز محبت نہیں ہے
وہ آکر سرِعام اعلان کر دے
یہ فرعون لہجہ میاں چھوڑدیجے
تکبر فرشتے کو شیطان کر دے
عجب جلترنگ اس کی آواز میں ہے
وہ خاموش ہو کر بھی حیران کر دے
میں جس اُور دیکھوں وہی جلوہ گر ہو
خدا عشق میں بس مسلمان کر دے
مرا دل سنبھالے سنبھلتا نہیں ہے
کہیں کچھ غلط ناں یہ نادان کر دے
اسے یہ ہنر خوب آتا ہے سعدی
مجھے میرے گھر میں ہی مہمان کر دے
سعادت علی سعدی
