894
تیری تصویر اگر بناتے ہم
تیرے بارے میں کیا بتاتے ہم
ڈھونڈنا ہے تجھے اندھیرے میں
اور دیا بھی نہیں بناتے ہم
آسمانوں کی سمت اُڑتے ہوئے
اپنی دھرتی کے گیت گاتے ہم
کوئی ایسا بھی راستہ ہوتا
زندگی کے قریب آتے ہم
اس گلی میں ترا مکان بھی تھا
کبھی ملتے تھے آتے جاتے ہم
تجدید قیصر
