خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااولاد کی پیدائش اور کہنی کی چوٹ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسیمیں کرن

اولاد کی پیدائش اور کہنی کی چوٹ

از سائیٹ ایڈمن فروری 12, 2019
از سائیٹ ایڈمن فروری 12, 2019 0 تبصرے 81 مناظر
82

قریبی عزیزہ کے گھر ولادت با سعادت ہوئی تھی نومولود کو دیکھنے جانا تھا سو اپنی بیٹی کے ہمراہ گئی، وہ ننھے منے کھلونے جیسے بچے کے ساتھ مصروف ہوگئی، مما دیکھیں اس کے ننھے منے ہاتھ، اس کے پاؤں کتنے پیارے ہیں، بالکل روئی جیسے۔ وہاں دیگر خواتین بھی آئی بیٹھی تھیں سب بچے کو دیکھتیں پیار کرتیں دعائیں اور تحائف یا نقدی تھماتی اور اس کے بعد گفتگو گھوم پھر کے ایک ہی مرغوب موضوع پہ آ ٹھرتی کہ بچہ نارمل ہوا یا بڑا آپریشن کروایا، زچہ نے کتنی دیر دردیں برداشت کیں، کتنے دن سے تکلیف تھی، بڑا آپریشن ہوا تو کتنے ٹانکے لگے، نارمل ڈلیوری گر خوش قسمتی سے ہوگئی تو بڑے اشتیاق سے اس قابل ماہر ڈاکٹر کا پوچھا گیا۔

جہاں ڈاکٹروں کی ڈھٹائی کا ذکر ہوا جنھوں نے ظالمانہ قصائیوں جیسے رویے اختیار کر لیے ہیں۔ بزرگ خواتین نے جہاں ان ’موئی ڈاکٹرنیوں‘ کو کوسا جو اپنے پیسے، لمبی فیسیں اور ہسپتالوں کے بل بنانے کے چکر میں ہر مریضہ کو کاٹ پھاڑ دیتی ہیں اور آپریشن کرنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرلیتی ہیں وہیں آج کی ان نازک اندام لڑکیوں کو کوسا گیا جو ڈائیٹنگ کر کر کے اپنا بیڑہ غرق کر چکی ہیں نہ کام کی نا کاج کی۔ اور جب کوئی کام نہیں کرنا تو آپریشن ہی کروائیں گی کم بخت۔

بڑی بوڑھیوں کے یہ تبصرے ہم اور ہمارے قبیلے نے تو کان لپیٹ صبر سے سن لیے کہ بے شک لتاڑا جا رہا تھا مگر باتیں کڑوی اور مبنی برحق تھیں مگر اک کم سن سی نو بیاہتالڑکی جو ان سب باتوں پہ برے برے منہ بنا رہی تھی بولی ”دادی اماں اب آپ کی دیسی خوراکوں کا زمانہ لد گیا کھا کھا کر ہم کیا بھینسیں بن جائیں تاکہ ہمارے میاں حضرات ٹی وی پہ کترینہ کرینہ دیپکا اور زیرو سائز دیکھ دیکھ جو بگڑ چکے باہر زیرو سائز ڈھونڈنے نکل جائیں۔

اب اس منہ پھٹ بیانیے پہ بزرگ خواتین نے بظاہر گھورا، دل ہی دل میں مزا لیا اور منہ پہ دوپٹہ دیے ہنسنے لگیں اور ہماری ٹولی نے تو کھلکھلا کے قہقہ لگایا تھا۔ ایک بزرگ خاتون بولیں اولاد حاصل کرنے کا درد بس کہنی کی چوٹ جیسا ہوتا ہے عورت کے لیے، جتنی زور سے لگتا ہے اتنی جلدی ماں بھول کر پھر بچے کی آرزو کرنے لگتی ہے، اب اس کی تردید و تائید میں پھر مختلف آوازیں ابھریں۔ خیر اس خالص زنانہ محفل سے واپسی ہوئی تو گھر آنے پہ ڈاک پہ نظر پڑی کئی نئی کتابیں آئی رکھی تھیں۔ کچھ قریبی دوستوں کی تھیں کچھ مصنفین کی محبت و خوش گمانی کہ وہ ہماری رائے کو معتبر سمجھ کر اس راے کے اظہارہے کے لیے کتاب بھیج دیتے ہیں۔

کچھ احباب کو میسج پہ رسید دی۔ ایک دو قریبی احباب کو فون کرکے مبارک باد دی۔ اب ذکر کتاب کی اشاعت کا ہو تو کیسے ممکن ہے کہ اشاعت گھر کی بات نہ ہو، سو پوچھا کیسی رہی؟ پبلشر کے ہاتھوں مرمت میں کتنے ٹانکے لگے (روح و دل پہ ہی سہی) ۔ کیسا تجربہ رہا کتاب چھپوانے کا، کہا‍ ں کہاں ہاتھ ہوا۔ کیا اس تجربے کے بعد اگلی کتاب لانے کا عزم ہے اور کب تک ہے؟

ظاہر ہے سب کے تجربات ملتے جلتے ہی تھے سوائے ان لوگوں کے جن کے سر پہ کوئی خاص چھتریاں تھیں اور جن کے سروں پہ چھتریاں ہو ں وہ کتابیں بھیجنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے سو سب کی دکھ بھری کہانیاں ملتی جلتی تھیں، اک مصنفہ نے تو آہ بھر کر کہا، کیا عجب روایت ہے۔ یہ کتاب بھی کیسی اولاد ہے کہ خون پسینہ محنت، ذہنی سرمایہ سب ہمارا اور پھر ہمارے ہی ہاتھ خالی یعنی دکھ سہیں بی فاختہ اور انڈے کھائیں میاں کوے۔ کتاب کلچر کے زوال پہ بات ہوئی۔ اشاعت گھروں کی بدمعاشی زیر بحث آئی، مصنفین کی چربہ و سرقہ سازیاں بھی گفتگو کا موضوع بنیں کہ یہ کالی بھیڑیں کیسے حق داروں کا حق غصب کرتی ہیں۔

اب فارغ ہوئی تو دیکھا پاس بیٹھی بیٹی بڑے غور سے مجھے تکتی ہے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی ”مما میں نے غور کیا وہاں بے بی کے گھر آپ سب شادی شدی عورتیں نارمل ڈلیوری اور آپریشن کی باتیں کررہی تھیں اور اب یہاں آپ سب رائیٹرز کتاب کی پبلشنگ اور اس کے لوازمات وغیرہ کی بات کررہے تھے ایسا کیوں؟ “

میں نے آہ بھر کر کہا بیٹا کیا کریں دونوں طرف معاملہ اولاد کا تھا۔ اک جسمانی اولاد، اک ذہنی اولاد۔ اوراولاد کا درد کہنی کی چوٹ ہوتا ہے جب اور جسے لگتی ہے تو درد تازہ ہو جاتا ہے انسان بلبلا اٹھتا ہے مگر جتنی زور سے یہ چوٹ لگتی ہے انسان اتنی جلدی بھول کر پھر سے چوٹ کھانے کے شوق میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

سیمیں کرن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • زندگی زندہ دلی کا نام ہے
  • نیام زد بھی ہوا ہوں
  • مشہور علماء کے تعارف
  • خورشٹ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اشرف علی فغان کا قصہ
پچھلی پوسٹ
اس کا پتی

متعلقہ پوسٹس

پی آئی اے کی نجکاری

دسمبر 25, 2025

حرف و صوت و صدا سے ملوایا

مئی 22, 2020

سمے کا بندھن

جنوری 11, 2020

مُجھ کو آیا نہ زمانے کو لُبھانا یارو

اپریل 9, 2023

کسی دن آؤ

نومبر 15, 2025

پا بہ گِل رہنے کی عادت کا مزہ لیتے ہیں

جنوری 30, 2020

مرے طبیب نے مجھ سے کہا،علاحدہ ہے

مئی 18, 2020

نظم – بنامِ ساقی

مئی 14, 2024

کس کی نظر لگی آشیانے کومیرے

جون 19, 2018

کون جنوں کی اصل کو پہنچے

ستمبر 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تین موٹی عورتیں

دسمبر 7, 2019

بسم اللہ

جنوری 12, 2020

پھر ترا کوزہ گر بھرم رکھا

نومبر 14, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں