خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامزندگی زندہ دلی کا نام ہے
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

زندگی زندہ دلی کا نام ہے

از سائیٹ ایڈمن اپریل 28, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 28, 2026 0 تبصرے 28 مناظر
29

انسان جب شعور کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تب دو سوال اس کے ساتھ چلتے ہیں کہ میں کون ہوں اور مجھے کہاں جانا ہے؟ ان دو سوالوں کے درمیان زندگی اور موت کا پورا فلسفہ آباد ہے۔ انسان پیدا ہوتا ہے، سانس لیتا ہے، ہنستا ہے، روتا ہے، محبت کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے اور پھر ایک دن خاموشی سے اس دُنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ یہی سفر زندگی کہلاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا زندگی کو بڑھایا جا سکتا ہے؟
کیا موت کو شکست دی جا سکتی ہے؟
کیا انسان اپنے مقررہ وقت سے آگے بھی جی سکتا ہے یا زندگی ایک لکھی ہوئی تقدیر ہے جس کے آگے سب سر جھکا دیتے ہیں؟
زندگی دراصل صرف سانس لینے کا نام نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر زندہ جسم خوش نصیب کہلاتا۔ زندگی شعور کا نام ہے، احساس کا نام ہے اور مقصد کا نام ہے۔ ایک درخت بھی زندہ ہے، ایک پرندہ بھی زندہ ہے مگر انسان کی زندگی اس لیے منفرد ہے کہ اس کے پاس سوچنے اور انتخاب کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ارسطو نے کہا تھا:” انسان ایک سماجی حیوان ہے” مگر اسی انسان کی اصل پہچان اس کا شعور ہے۔ یہی شعور اسے زندگی کے معنی تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:” ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے”۔ یہ آیت زندگی اور موت دونوں کی حقیقت کو ایک ہی لمحے میں واضح کر دیتی ہے۔ زندگی عارضی ہے اور موت یقینی۔ اس عارضی زندگی کی اہمیت اسی لیے ہے کہ یہ امتحان کے نکتہ نظر سے تشکیل دی گئی ہے۔ انسان کو وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے اعمال سے اپنی منزل کا تعین کرے۔ گویا زندگی ایک قرض ہے اور موت اس قرض کی واپسی۔
زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟ یہ سوال فلسفے اور سائنس دونوں کے لیے اہم رہا ہے۔ مذہب کہتا ہے کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا اور اپنی روح پھونکی۔ یہ انسانی زندگی کا آغاز ہے۔اس کے برعکس سائنس ارتقا کی بات کرتی ہے اور کہتی ہے کہ زندگی پانی سے شروع ہوئی اور لاکھوں برس کے سفر کے بعد موجودہ شکل تک پہنچی۔ دونوں زاویوں میں اختلاف ہو سکتا ہے مگر ایک حقیقت مُشترک ہے کہ زندگی ایک عظیم راز ہے۔ انسان جتنا اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اتنا ہی حیران رہ جاتا ہے۔
زندگی کو وقت کے تابع کیوں کیا گیا؟ اس کا جواب شاید اسی امتحان میں پوشیدہ ہے۔ اگر زندگی لامحدود ہوتی تو کوشش کا مفہوم ختم ہو جاتا۔ وقت انسان کو ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ سورج کا ڈھلنا یاد دلاتا ہے کہ فرصت ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔

بقول شاعر:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

وقت ہی زندگی کو ترتیب دیتا ہے۔ بچپن بہار کی طرح آتا ہے، جوانی گرمی کی شدت رکھتی ہے، بڑھاپا خزاں کی صورت اُترتا ہے پھر موت سرد رات کی طرح خاموشی سے دروازہ کھٹکھٹا دیتی ہے۔
زندگی اچھی کیوں لگتی ہے؟ اس کا جواب اُمید میں ہے۔ اُمید وہ چراغ ہے جو اندھیرے میں بھی جلتا رہتا ہے۔ انسان ہزار دُکھوں کے باوجود اگلے دن کے سورج کا انتظار کرتا ہے۔ ماں بیمار بچے کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بہتر کل کی دُعا کرتی ہے۔ مزدور پسینہ بہا کر آنے والے سکون کا خواب دیکھتا ہے۔ طالب علم ناکامی کے باوجود کامیابی کی اُمید نہیں چھوڑتا۔ یہی اُمید زندگی کو خوبصورت بناتی ہے۔
یاس اس کے برعکس انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اُمید اور نااُمیدی کے درمیان کامیابی اور ناکامی کا فرق چھپا ہوتا ہے۔ جو شخص گِر کر اُٹھنے کا حوصلہ رکھتا ہے وہ زندہ ہے اور جو جیتے جی ہار مان لے وہ سانس لیتے ہوئے بھی مُردہ ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے:”نااُمیدی کفر کے قریب(کے قریب لے جاتی) ہے۔ اس لیے زندگی کا پہلا اصول اُمید ہے۔
موت کا خوف زندگی کو کمزور کیوں کرتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان انجانے سے ڈرتا ہے۔ موت ایک ایسا دروازہ ہے جس کے پار کا منظر آنکھ نے نہیں دیکھا۔ اسی لیے انسان اس سے گھبراتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ موت سے خوف نہیں بلکہ غفلت سے خوف ہونا چاہیے۔ اگر انسان جان لے کہ موت انجام نہیں بلکہ ایک نئی ابتدا ہے تو اس کا خوف کم ہو سکتا ہے۔ صوفیا نے موت کو وصال کہا ہے یعنی اصل محبوب سے ملاقات۔
بعض لوگ موت کے خوف میں جینا بھول جاتے ہیں۔ وہ ہر لمحہ خطرہ دیکھتے ہیں اور ہر خوشی میں انجام کا سایہ تلاش کرتے ہیں۔ ایسا شخص دریا کے کنارے کھڑا رہتا ہے مگر پانی میں اُترنے کی ہمت نہیں کرتا۔ حالانکہ زندگی بہتے پانی کی طرح ہے۔ جو بہاؤ سے ڈرتا ہے وہ پیاسا رہ جاتا ہے۔
کیا زندگی موت کو شکست دے سکتی ہے؟ ظاہری طور پر جواب نہیں ہے کیونکہ ہر انسان نے مرنا ہے۔ بڑے بڑے بادشاہ خالی ہاتھ گئے۔ سکندر اعظم نے دُنیا فتح کی مگر موت سے نہ بچ سکا۔ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ معنوی طور پر زندگی موت کو شکست دیتی ہے۔ ایک اچھا انسان اپنے کردار سے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ علم دینے والا اُستاد اپنے شاگردوں میں زندہ رہتا ہے۔ شاعر اپنے اشعار میں زندہ رہتا ہے۔ ماں اپنی تربیت میں زندہ رہتی ہے۔ یہی اصل فتح ہے۔

اقبال نے کہا تھا:
نشان مرد مومن با تو گویم
چو مرگ آید تبسم بر لب اوست

ترجمہ: مومن کی پہچان یہ ہے کہ جب موت آئے تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ ہو۔
اب سوال آتا ہے کہ کیا زندگی کا وقت بڑھایا جا سکتا ہے؟ طب کی ترقی نے انسان کی اوسط عمر میں اضافہ ضرور کیا ہے۔ پہلے جو بیماریاں موت کا فوری سبب بنتی تھیں آج ان کا علاج موجود ہے۔ بہتر غذا، صاف پانی، ورزش اور علاج انسان کی عمر کو بڑھاتے ہیں۔ حدیث مبارکہ میں بھی آیا ہے:” صلہ رحمی عمر میں برکت کا سبب بنتی ہے۔” اس کا مطلب یہ نہیں کہ تقدیر بدل جاتی ہے بلکہ زندگی میں خیر اور وسعت پیدا ہوتی ہے۔ بعض لوگ کم عمر میں بھی صدیوں کا کام کر جاتے ہیں اور بعض لمبی عمر پا کر بھی خالی ہاتھ رہتے ہیں۔
اصل سوال عمر کی طوالت کا نہیں بلکہ زندگی کی وسعت کا ہے۔ اگر کسی نے چالیس برس میں انسانیت کے لیے روشنی پیدا کی تو وہ اسّی برس جینے والے غافل انسان سے بہتر ہے۔ شمع کی عمر کم ہوتی ہے مگر وہ جل کر محفل روشن کر دیتی ہے۔
کیا زندگی ایک جیسی نہیں ہو سکتی؟جواب یقیناً نہیں۔ ہر انسان کا راستہ الگ ہے۔ کسی کے نصیب میں بہار زیادہ ہے کسی کے حصے میں خزاں۔ کوئی محل میں پیدا ہوتا ہے کوئی جھونپڑی میں۔ کوئی محبت پا لیتا ہے کوئی عمر بھر تلاش میں رہتا ہے۔ یہی تفاوت زندگی کو معنی دیتی ہے۔ اگر سب کچھ ایک جیسا ہوتا تو نہ جِدوجُہد رہتی نہ شُکر کا احساس۔
زندگی کا تعلق جسم اور روح سے کیوں ہے؟ اس لیے کہ جسم بغیر روح کے مٹی ہے اور روح بغیر جسم کے اس دُنیا میں سروائیو نہیں کر سکتی۔ جسم سواری ہے اور روح مسافر۔ اگر سواری موجود ہو اور مسافر نہ ہو تو سفر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر مسافر موجود ہو مگر سواری نہ ہو تو دُنیاوی راستہ طے نہیں ہوتا۔ اسی لیے اسلام جسم اور روح دونوں کی تربیت پر زور دیتا ہے۔ صرف جسم کی آسائش انسان کو مکمل نہیں کرتی،اس راہ میں روحانی دعوے بھی کافی نہیں۔
زندگی کو جینے کا اصل فلسفہ توازن ہے نہ کہ دُنیا سے ایسی محبت کہ آخرت بُھلا دی جائے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا:” بہترین انسان وہ ہے جو اپنے لیے بھی اچھا ہو اور دوسروں کے لیے بھی”۔ زندگی کا حُسن خدمت میں ہے۔ جو شخص صرف اپنے لیے جیتا ہے وہ آخرکار تنہا رہ جاتا ہے۔
ایک کہاوت ہے:” خالی برتن زیادہ آواز کرتا ہے”۔ اسی طرح وہ زندگی جو مقصد سے خالی ہو شور تو بہت کرتی ہے مگر معنی نہیں رکھتی۔ اصل کامیابی سکون ہے۔ اگر دولت ہو مگر نیند نہ ہو تو وہ غربت سے بدتر ہے۔ اگر شُہرت ہو مگر دل بے چین ہو تو وہ شکست سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔
زندگی اور موت کا باہمی تعلق سایہ اور روشنی جیسا ہے۔ اگر موت نہ ہو تو زندگی کی قدر ختم ہو جائے۔ اگر رات نہ آئے تو دن کی خوبصورتی محسوس نہ ہو۔ موت زندگی کی دُشمن نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہے۔ یہ وہ آخری سطر ہے جس کے بغیر پوری کتاب ادھوری رہتی ہے۔
مولانا روم نے کہا تھا:” میں مرا نہیں بلکہ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہوا ہوں”۔ یہ انتقال ہی اصل زندگی کا عکس ہے۔ موت فنا نہیں بلکہ سفر کا اگلا پڑاؤ ہے۔ جو اس راز کو سمجھ لیتا ہے وہ زندگی کو زیادہ سنجیدگی اور زیادہ محبت سے جیتا ہے۔
اس مفصل تمہید کا محاکمہ یہ ہے کہ زندگی کو صرف برسوں سے نہیں ناپنا چاہیے بلکہ اس روشنی سے ناپنا چاہیے جو ہم دوسروں کے دلوں میں چھوڑ جاتے ہیں۔ موت کو شکست دینا جسمانی بقا نہیں بلکہ نیک نامی اور احسنِ تقویم کا عملی نمونہ ہے۔
زندگی بڑھائی جا سکتی ہے اگر ہم اسے معنی دیں، اگر ہم اُمید کو تھامیں۔ اگر ہم خوف کی بجائے یقین کو اختیار کریں۔
زندگی ایک جلتا ہوا چراغ ہے۔ ہوا کا کام اسے بُجھانا ہے مگر چراغ کا کام جلتے رہنا۔ انسان بھی اسی چراغ کی مانند ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کتنے سال جیتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے حصے کی روشنی کتنی پھیلائی۔ یہی زندگی کا اصل فلسفہ ہے۔بہ حیثیت انسان ہمیں اسی فلسفے کی پاسداری کرنی چاہیے۔

بقولِ شاعر:
زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مُردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • قدرت سے قیمت تک
  • حکیم جی
  • ہرے رنگ کی گڑیا
  • حسرت اُن غنچوں پہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ٹانگوں میں سوجن،پٹھوں کی کمزوری سستی
پچھلی پوسٹ
محسن خالد محسنٓ کی نظموں میں مغربیت کا تصور

متعلقہ پوسٹس

شعری مجموعہ – سوچ سفر

مئی 5, 2024

آنٹی کا تجزیہ

اپریل 1, 2023

کبھی تو دیکھیں وصال آنکھیں

دسمبر 8, 2025

استاد دامن

دسمبر 3, 2025

ایک دن میں چوبیس گھنٹے کیوں ہوتے ہیں ؟

مارچ 30, 2026

اللہ نے پھر اک اور شب دی

فروری 14, 2025

میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھے

مارچ 3, 2026

علمی احتیاط

جنوری 17, 2026

اتوار کا فائنل

ستمبر 26, 2025

جھوٹی سسکیاں

اپریل 1, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آنٹی کا تجزیہ

اپریل 1, 2023

تانگے والے کا بھائی

جنوری 24, 2020

رمضان اور متزلزل ایمان

اپریل 23, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں