خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےآدم بو
اردو افسانےاردو تحاریرمحمد منشا یاد

آدم بو

از سائیٹ ایڈمن نومبر 26, 2020
از سائیٹ ایڈمن نومبر 26, 2020 0 تبصرے 59 مناظر
60

آدم بو

جب سے ساتھ والے گاؤں میں نوجوان مولوی منظور درس گاہ سے فارغ التحصیل ہو کر آیا ہوا ہے مولوی اللہ رکھا کی راتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔اور اگرچہ ان کے شاگرد، نائب اور خدام ان کی ہمت بڑھاتے اور اس کل کے چھوکرے کا مکو ٹھپ دینے کی یقین دہانیاں کراتے رہتے ہیں لیکن انہیں اپنا ستارہ گردش میں نظر آتا ہے اور اگرچہ مولوی منظور نے ابھی تک ان کے خلاف زبان نہیں کھولی مگر انہیں یقین ہے کہ وہ اس کے لئے زمین ہموار کر رہا ہے اور مناسب موقع پا کر ضرور ان سے اپنے باپ کا بدلہ لے گا جس کے خلاف انہوں نے فتوٰی دیا اور اسے بڑی مسجد سے بے دخل کرایا تھا۔ ویسے بھی نوجوان مولوی جس قسم کے خیالات کا پرچار کر رہا ہے اور جس طرح عام لوگوں اور کمی کاریوں میں مقبول ہوتا جا رہا ہے وہ ان کے لئے کسی بڑے خطرے کی علامت ہے۔ انہیں اپنے برسوں کے تجربے اور سرکردہ لوگوں سے گہرے تعلقات کی وجہ سے اعتماد ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں یہ سوچ کر ہول آتا ہے کہ پتہ نہیں نوجوان مولوی درسگاہ سے کیا کیا نئی باتیں سیکھ کر اور کس سانچے میں ڈھل کر آ گیا ہو اور اسے جوعلم کا جن چمٹا ہوا ہے وہ کب تک چمٹا رہے اورشنید ہے کہ اب تو اس نے اپنے وعظ میں تاریخ، جغرافیے اور کتی سائنس کی باتیں شامل کرنا بھی شروع کر دی ہیں۔
مولوی اللہ رکھا کے احباب اور خیر خواہوں کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ وقتی اور ہنگامی ہے۔ جونہی نوجوان مولوی کے پاؤں زمین پکڑیں گے وہ اپنے آپ میں آ جائے گا۔مگر مولوی اللہ رکھا کی تشفی نہیں ہوتی انہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ خود ایک بار پھر سے پیدا ہو کر اپنے مقابلے پرآ نکلے ہیں اور سب کچھ تہ و بالا کر کے رکھ دیں گے۔
برسوں پہلے کی بات ہے۔
مولوی احمد دین کا پہلی بیوی سے ایک ہی لڑکا تھا۔ سوتیلی ماں کی گالیوں اور بدسلوکیوں سے عاجز آ کر وہ قصے کہانیوں میں پناہ لیتا لیکن پھر یہی قصے اور کہانیاں اس کے لئے عذاب الیم بن گئیں۔
گاؤں میں داخل ہونے یا باہر جانے کے لئے ایک ہی بڑا راستہ تھا اس راستے پر ایک بدصورت دیو ہر وقت بیٹھا آدم بو، آدم بو پکارتا رہتا تھا۔ لوگ اسے بڑا ملک کہتے تھے۔ وہ سچ مچ بہت بڑا تھا۔ اس کے سامنے جا کر ہاتھی سکڑ کر چوہے اور چوہے پدی بن جاتے تھے۔ دو تہائی گاؤں کا مالک اور لمبے چوڑے خاندان کا سربراہ۔ دیکھنے میں بھی ہیبت ناک۔ باسی گوشت کا پہاڑ۔۔ اس کی آواز اس کی شکل و صورت کی طرح مکروہ اور خوفناک تھی۔ اس کا جب اور جسے جی چاہتا بلوا لیتا۔غریب کسان، کمی کاری اور ان کے بچے اکثر بیگار میں پکڑے رہتے۔ کسی میں انکار کی جرأت نہیں تھی۔ انکار کی صورت میں وہ نہایت فحش گالیاں دیتا اور جوتے مار مار کر شکل بگاڑ دیتا تھا۔
چوریوں،ڈاکوں، رسہ گیریوں، قتلوں اور مقدموں سے فراغت پا کر اب وہ سارا دن ڈیرے میں بیٹھا حقہ گڑگڑاتا اور کمی کاریوں سے پاؤں دبواتا،مالش کراتا، چلمیں بھرواتا اور پنکھا جھلواتا رہتا تھا۔ اللہ رکھا کے ذمے اس کی تفریح طبع کا کام تھا۔ پتہ نہیں اس کی سمجھ میں کچھ آتا تھا یا نہیں مگر وہ اکثر اس سے سوہنا و زینی کا قصہ سنتا تھا۔ اسے دوسرا کوئی قصہ یا کتاب پسند نہیں تھی اور سوہنا و زینی کا قصہ اس نے اسے اتنی بار سنایا تھا کہ اسے خود زبانی یاد ہو گیا تھا۔ مگر بڑا ملک ہر دفعہ اتنی دلچسپی سے سنتا تھا جیسے زندگی میں پہلی بار سن رہا ہو۔۔ وہ یہ قصہ سنا سنا کر تنگ آ گیا تھا اور انکار نہ کر سکنے کی اذیت میں مبتلا رہنے لگا تھا۔ وہ بدبو جو اسے بڑے ملک کے جسم سے آتی تھی اب کتاب کے اوراق اور لفظوں سے بھی آنے لگی۔ قصہ پڑھتے پڑھتے اس کا دماغ بدبو سے بھر جاتا اور اسے متلی آ جاتی، وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ایک طرف کو بھاگ جاتا، پھر فراغت پا کر دوڑتا ہوا آتا اور ایک کل کی طرح دوبارہ قصہ پڑھنے لگتا۔
کئی بار اس نے انکار کر دینا چاہا مگر بڑے ملک کا پیغام ملتے ہی وہ اپنے یا بڑے ملک کے مر جانے کی دعائیں مانگتا ہوا بھاگم بھاگ اس کے ڈیرے پر پہنچ جاتا اور اس وقت تک گلا پھاڑ پھاڑ کر قصہ گاتا رہتا جب تک کہ بڑا ملک خود ہی جمائیوں کے کئی گڑھے پھاند کر نیند کے کسی اندھے کنوئیں میں نہ گر جاتا۔
اس نے کئی بار اپنے باپ مولوی احمد دین سے اپنی تکلیف اور خوف کا اظہار کیا لیکن وہ بھی بے بس تھا۔اس نے کئی بار سوچا بڑے ملک کو قتل کر کے پھانسی لگ جائے مگر بڑے ملک کے سامنے جا کر اس کی گھگھی بندھ جاتی۔
پھر ایک روز وہ سوتیلی ماں کی بدسلوکیوں اور بڑے ملک کے جسم سے اٹھنے والی سڑاند سے تنگ آ کر گھر سے بھاگ گیا اور سینکڑوں میل دور ایک دینی مدرسے کے درویش طالب علموں کی صف میں شامل ہو گیا۔
چند سال دینی، اخلاقی اور روحانی تعلیم حاصل کرنے اور درویشانہ زندگی گزارنے کی تربیت حاصل کر کے جب وہ درسگاہ سے نکلا تو اس کے سامنے زندگی کا بے حد وسیع میدان تھا۔ وہ ایک عالم با عمل تھا اور اس کا سینہ محبت،علم اور غمگساری کے جذبات سے لبریز تھا۔۔ وہ گاؤں آیا تو بڑا ملک اپنے ڈیرے میں تخت پوش پر موجود نہیں تھا۔ اس نے صدق دل سے اس کے لیے مغفرت کی دعا کی لیکن وہ گاؤں میں مستقل قیام نہ کر سکا اور دوبارہ عازم سفر ہوا۔ وہ بہت کچھ کرنا چاہتا تھا مگر گاؤں کے ان لوگوں کے درمیان،جن کے سامنے وہ بچپن میں ننگا پھرتا رہا تھا اور ان دوستوں اور ہم عمروں میں جن کے ساتھ تالابوں میں نہاتا، کبڈی کھیلتا، بیر توڑتا اور سوتیلی ماں سے مار کھاتا رہا تھا اسے اپنی خود کو منوانے اور اپنا مدعا بیان کرنے میں مشکل پیش آ سکتی تھی اور وہ صرف اپنا مدعا بیان نہیں کرنا چاہتا تھا وہ بہت کچھ بدل دینا،بہت کچھ تہہ و بالا کر دینا چاہتا تھا۔
مولوی اللہ رکھا نے اس نئے گاؤں میں آ کر واقعی بہت کچھ بدل ڈالا تھا۔ ان سے پہلے گاؤں کے نیم خواندہ امام مسجد نماز پڑھانے، بچے کے کان میں اذان دینے، بھیڑ بکری ذبح کرنے اور جنازہ پڑھانے کا معاوضہ لیتے تھے ہر فصل کے موقع پر دوسرے کمی کاریوں کی طرح بوہل میں ان کا بھی حصہ ہوتا۔ عید بقر عید پر وہ مسجد میں کپڑا بچھا دیتے اور عید کی نماز پڑھانے کے عوض لوگوں سے غلہ اور نقدی وصول کرتے۔ نماز پڑھا کر وہ قربانی کے جانوروں کو ذبح کرتے اور پھر چھوٹی اور بڑی کھالوں کے بیوپار میں الجھے رہتے۔ ان کا حکم تھا کہ انڈہ کھانے کے لئے اس پر بھی تکبیر پڑنا ضروری ہے کیونکہ اس میں بھی جان ہوتی ہے لوگ انہیں تین انڈوں پر تکبیر پڑھانے پر ایک انڈہ بطور معاوضہ دیتے کیونکہ صحیح طریقے سے تکبیر تو وہی پڑھ سکتے تھے۔ مگر مولوی اللہ رکھا نے یہاں آ کر ان سب قبیح رسموں اور روایتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ پرانے مولوی صاحب لاکھ چیختے چلاتے رہے اور طرح طرح کے الزامات لگاتے اور کہتے رہے کہ وہ خلاف شرع باتیں بتاتا ہے مگر لوگ شریعت کی ان باتوں کو جلدی اور آسانی سے سمجھ لیتے ہیں جن میں ان کا فائدہ ہو چنانچہ مولوی اللہ رکھا کی کامیابی کی پتنگ اونچی اور اونچی اڑنے لگی اور چھوٹی اور بڑی مسجدوں کے جدی پشتی امام صاحبان گاؤں سے ہجرت کر کے گئے یا انہوں نے اپنا آبائی کام چھوڑ کر کوئی دوسرا کام دھندہ شروع کر دیا۔
مولوی اللہ رکھا نذر نیاز نہیں لیتے تھے۔ بڑے درویش صفت انسان تھے۔ مفت خوری سے سخت پرہیز کرتے اور خود محنت کر کے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔ وہ دن بھر اینٹیں ڈھوتے، لائیاں کرتے، مویشی چراتے، بان کی رسیاں اور چارپائیاں بنتے۔۔ اور بغیر کسی فیس یا معاوضے کے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیتے۔ لوگ ختم پڑھوانے کے لئے حلوے، کھیریں، سیویاں اور پراٹھے لاتے وہ ان کی دل شکنی کے ڈر سے ختم پڑھ دیتے مگر کسی چیز کو ہاتھ نہ لگاتے، لوٹا دیتے یا کسی غریب یا بیوہ کے ہاں بھجوا دیتے۔ وہ مسجد کے حجرے میں رہتے تھے۔ خود مسجد میں جھاڑو دیتے، صفائی کراتے، چراغ جلاتے، نمازیوں کے وضو کے لئے حوض میں پانی بھرتے اور نماز کا وقت ہو جاتا تو اذان دیتے۔ لوگ ان کی بے حد عزت کرتے اور ان سے محبت بھی۔ مگر جب وہ منبر پر کھڑے ہوتے تو ان کی آواز سے آس پاس کے گھروں کی دیواریں لرزنے لگتیں۔گنہگاروں اور دوسروں کا حق مارنے والوں کے دلوں پر ہیبت طاری ہو جاتی۔ خدا کے سوا وہ کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور حق بات ڈنکے کی چوٹ پر کہتے تھے۔
پھر انہوں نے کچھ عرصہ بعد ایک ایسی غریب بیوہ سے نکاح کر لیا جس کو اولاد نہ ہونے کی وجہ سے طلاق ہو گئی تھی۔ مولوی صاحب سے نکاح کے بعد بی بی جی کے سوئے ہوئے نصیب جاگ اٹھے اور چند ہی برس میں گھر بچوں سے بھر گیا۔
مولوی صاحب ہمیشہ سے روکھی سوکھی کھا کر وقت گزارتے آئے تھے۔ بی بی جی نے بھی ان کا بہت عرصہ تک ساتھ دیا اور عسرت اور فاقوں کی زندگی گزارنے پر بھی خدا کا شکر ادا کرتی رہیں مگر پھر بچوں کی وجہ سے مولوی صاحب سے چوری چھپے کھانے پینے کی کوئی چیز قبول کر لیتیں۔ مولوی صاحب کو پتہ چلا تو شروع شروع میں بہت خفا ہوئے مگر پھر یہ سوچ کہ بچوں کو فاقوں مارنا اور اچھی چیزوں کے لئے ہمیشہ ترساتے رہنا مناسب نہیں،خاموش ہو گئے
پھر ایک بار ذیلدار کا چالیسواں تھا اس کے متمول بیٹوں نے اسے بڑا کیا یعنی چالیسویں کا غیر معمولی اہتمام کیا۔پوری برادری کو کھانے کی دعوت دی اور ختم کے موقع پر مولوی صاحب کے سارے کنبے کے کپڑے اور دنیا جہان کی نعمتیں، پھل اور میوے حاضر کئے۔ مولوی صاحب پریشان ہو گئے۔ ختم پڑھتے ہوئے ان کی آنکھوں کے سامنے اپنے بچوں کے پھٹے پرانے کپڑے اور ترسی ہوئی صورتیں گھوم گئیں۔انہوں نے گلو گیر آواز میں کہا۔
’’میں کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا۔۔ کسی کمی کے ہاتھ سب چیزیں ہمارے گھر پہنچا دی جائیں۔‘‘
اور جس طرح شیر عام طور پر آدمی پر حملہ نہیں کرتا مگر جب ایک بار اس کے منہ کو انسانی خون لگ جائے تو آدم خور ہو جاتا ہے،مولوی اللہ رکھا کے منہ کو بھی جب مفت کا حلوہ مانڈا ایک بار لگ گیا تو پھر لگتا ہی چلا گیا۔ اور آہستہ آہستہ وہ پہلے مولوی صاحب سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے۔
اور اب اتنے برسوں بعد۔۔ مولوی اللہ رکھا کی امامت کا دائرہ اپنی مسجد سے نکل کر آس پاس کے کئی ایک چھوٹے بڑے دیہات کی مسجدوں تک پھیل گیا ہے۔ ان مسجدوں میں ان کے نائب امام آمدنی کے ایک تہائی حصے پر کام کرتے ہیں، وہ خود ہفتے میں ایک دو بار ہر مسجد میں نماز پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے نہایت محنت، ہوشیاری اور اپنے زور خطابت کی وجہ سے ایک ایک کر کے ان مسجدوں پر قبضہ کیا ہے اور دیہات کے وڈیروں اور زمینداروں میں اپنے اثر و رسوخ اور رموز شریعت سے آگاہی کی بنا پر نیم خواندہ ملاؤں کو بے دخل کیا ہے ان کا شمار علاقے کے اچھے کھاتے پیتے لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ ہر کسی کے کام آتے ہیں۔وہ ہاڑی ساؤنی کے کارے پر نہایت تھوڑے منافع پر بڑی بڑی رقمیں قرض دے دیتے ہیں۔فصل، زمین یا مویشی رہن یا زیور گروی رکھنے کے لئے لوگ انہی کے پاس آتے ہیں کہ وہ نہایت دیانتدار اور قابل اعتماد ہیں۔کسانوں اور کمی کاریوں نے ہی نہیں بڑے بڑے زمینداروں نے ان سے منافع پر موٹی موٹی رقمیں لے کر ٹیوب ویل لگوائے اور ٹریکٹر خریدے ہیں۔ مولوی صاحب نے اپنا بہت بڑا اور محل نما پکا مکان بنا لیا ہے اور اس میں بجلی لگوا لی ہے انہیں کسی سے کچھ مانگنے یا کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی لوگ خود ہی ہر چیز میں سے اللہ کا حصہ نکال کر ان کو پہنچا دیتے ہیں۔
وہ بہت اطمینان کی زندگی گزار رہے تھے مگر جب سے نوجوان مولوی منظور درسگاہ سے لوٹا اور قریب والے گاؤں کی ایک مسجد سنبھال بیٹھا ہے ان کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی ہے۔ مگر انہیں یہ سوچ کر قدر ے اطمینان ہوتا ہے کہ لوگ کئی طرح سے ان کے محتاج ہیں اور پھر مولوی منظور کو ان کی طرح تعویذ گنڈا نہیں آتا بلکہ وہ اسے شرک سمجھتا ہے اور وہ خود محض امام مسجد ہی نہیں آس پاس کے دیہات کے واحد طبیب بھی ہیں اور بعض با اثر لوگوں کے خفیہ نکاحوں اور دوسرے بہت سے اہم رازوں کے امین بھی۔۔!
ہر جمعہ کی شام کو وہ مولوی منظور کے گاؤں سے آنے والی رپورٹ کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں ان کا کوئی خادم یا وفادار مولوی منظور کے جمعے کے وعظ میں شریک ہو جاتا ہے اور تمام حالات سے انہیں باخبر رکھتا ہے۔ مولوی منظور کے مقتدیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور اب انہیں رمضان شریف کے پہلے جمعے کا انتظار ہے۔ رمضان شریف شروع ہوتے ہی مساجد میں نمازیوں کی تعداد میں ایک دم غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے اور لوگ پند و نصائح اور وعظ و تلقین کی باتوں پر خصوصی توجہ دینے لگتے ہیں۔ اس پورے علاقے میں دو ہی جگہ جمعے کی نماز کے اجتماعات ہوں گے اور نمازیوں کی تعداد سے ان کے اور مولوی منظور کے درمیان ایک طرح کا الیکشن ہو جائے گا۔
رمضان کے پہلے جمعے کی شام کو ان کا ایک خادم پریشان حال لوٹتا ہے تو ان کا دل بیٹھ جاتا ہے۔ مولوی منظور کے مقتدیوں کی تعداد کسی طرح ان کے اپنے نمازیوں کی تعداد سے کم نہیں ہے۔۔ انہیں اسی بات کا ڈر تھا۔ ان کا رنگ اڑ جاتا ہے اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ اس رات تراویح کی نماز پڑھاتے ہوئے انہیں ایک عرصہ بعد لقمہ ملتا ہے اور ابھی وہ لقمہ سے سنبھل نہیں پاتے کہ سجدہ سہو پڑ جاتا ہے۔
رات کو وہ تھکے تھکے اور نڈھال سے گھر لوٹتے ہیں اور دالان میں بچھی ہوئی بہت سی چھوٹی بڑی چارپائیوں کے قریب سے گزر کر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے چھت پر آتے ہیں۔ بی بی جی ان کی آہٹ سن کر لمحہ بھر کے لئے جاگتی ہیں پھر مچلی ہو کر مصنوعی خراٹے لینے لگتی ہیں۔ وہ اپنے سرہانے تپائی پر رکھا ٹھنڈے میٹھے دودھ کا ارک جتنا گلاس اٹھاتے اور مزے لے لے کر گھونٹ گھونٹ پیتے ہیں۔ لیکن اچانک انہیں ایک جانی پہچانی مگر ناگوار سی بدبو ہر طرف پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور جی متلانے لگتا ہے۔ وہ دودھ کا گلاس تپائی پر رکھ دیتے ہیں اور ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہیں انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ مگر بدبو کے بھبکے لپکتے چلے آتے ہیں۔ اچانک انہیں یاد آتا ہے کہ یہ بدبو ویسی ہی ہے جیسی بڑے ملک کے جسم سے اٹھتی تھی۔ وہ قے روکنے کی بہت کوشش کرتے ہیں مگر وہ نہیں رکتی۔

منشا یاد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دل نہیں کرتا
  • ٹھنڈا گوشت
  • کوکھ جلی
  • آخری سیلیوٹ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دیدۂ یعقوب
پچھلی پوسٹ
میں ایک مرتبہ

متعلقہ پوسٹس

جھوٹن

دسمبر 28, 2019

زنجیر کا نغمہ

مئی 2, 2020

وہ خط جو پوسٹ نہ کیے گئے

جنوری 15, 2020

کیڈٹ کالج وانا

نومبر 13, 2025

الجھن

نومبر 15, 2019

ٹیکنالوجی کا زمانہ اور ہمارا جمود

اکتوبر 28, 2025

فقیروں کی پہاڑی

جنوری 13, 2020

صرف ایک مچھر۔۔۔۔ صرف ایک شاہد مسعود

جنوری 26, 2018

جدید اُردو مرثیہ

جنوری 1, 2023

جدید غزل کا درخشندہ ستارہ شہزاد نیّرؔ

اپریل 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پھسپھسی کہانی

جنوری 28, 2020

بچوں میں اسکرین ٹائم کے اثرات

مارچ 4, 2026

چودہ تیس لفظی کہانیاں

دسمبر 23, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں