خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابایوم پاکستان ایک نئی قرارداد کا منتظر!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

یوم پاکستان ایک نئی قرارداد کا منتظر!

از سائیٹ ایڈمن مارچ 19, 2022
از سائیٹ ایڈمن مارچ 19, 2022 0 تبصرے 44 مناظر
45

مارچ کا مہینہ اہم سے اہم ترین ہوتا جا رہا ہے ، خواتین کا عالمی دن اسی مہینے میں منایا جاتا ہے ، جنگلی حیات کا دن ، شاعری کا دن ، ٹی بی کا دن اور پانی کا دن بھی مارچ کے مہینے میں ہی منایا جاتا ہے ۔ اسکے علاوہ اور بھی دن ہیں جو اس مہینے میں منائے جاتے ہیں اور اب اس فہرست میں ایک اہم ترین دن امت مسلمہ کیلئے شامل ہوا ہے جو کہ پہلا دن ہوگا جو اسلامو فوبیہ کے حوالے سے ہر سال پندرہ مارچ کو منایا جائے گا ۔ پہلے تو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب کی جنرل اسمبلی میں جو اسلامی اور غیر اسلامی دنیا کے رویوں کا فرق واضح کیا اوراس تاریخی تقریر نے دنیا کے سوچنے کے زاوئیے کو تقریباً بدل کر رکھ دیا، اس تقریر سے یہ ہوا کہ یکطرفہ مفاد کی حکمت عملی سے نجات مل گئی ۔ وزیر اعظم پاکستان نے یوں سمجھ لیجئے کہ اقتدار ناصرف پاکستانیوں کیلئے لیا بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی زبوں حالی کو بھی بہتر کرنے کیلئے لیا ۔ جس کا منہ بولتا ثبوت مذکورہ بالا تقریر ہے ۔ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں جمع کرائی جانے والی قرارداد کی بدولت ہر سال پندرہ مارچ کی تاریخ کو اسلام فوبیہ کا دن منایا جائے گا ۔ تاریخ میں اسے ہمیشہ تاریخی حیثیت حاصل رہے گی اور سنہری حروف سے لکھا جائے گا ۔ اسے اسلام کی فتح کا دن بھی کہا جاسکتا ہے ۔ کیا یہ آلو پیاز کی قیمتوں پر قابو پانے سے کہیں بڑا کا م نہیں تھا ۔

مارچ کے مہینے کی تاریخی حیثیت سے ہم تمام پاکستانی بخوبی واقف ہیں اس کی بنیادی وجہ ہمارا پاکستانی ہونا ہے ۔ 23 مارچ 1940 کو جو تاریخی قرارداد پیش کی گئی ، اس قرارداد میں ایک الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ۔ مسلمانانِ ہند قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں قراداد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے نکل23 march کھڑے ہوئے اور اس عزم اور حوصلے سے نکلے کہ سات سال کی انتہک جدوجہد کے بعد جس میں لاتعداد انسانی جانوں کی قربانی دی گئی ، عزتیں پامال ہوئیں اور زر و زمین کے نقصان کا تو کوئی حساب نہیں ،تب کہیں جاکر سرزمین پاکستان کی سرحدوں کا تعین ہوا ۔ ہم پاکستانی ہر سال ا س تاریخی دن کو بھرپور طریقے سے مناتے ہیں اور اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یقینا یہ دن پاکستان بننے کی بنیاد بنا اقبال کا خواب اگر اس دن عیاں نا ہوتا تو شائد ہم پاکستانی کبھی بھی خواب سے تعبیر کے سفر کا مطلب نہیں سمجھ سکتے تھے ۔ اسلام کی سربلندی کیلئے اور اسکے لئے ایک الگ خطہ زمین کے تقاضے ، سرزمین کی آزادی کیلئے ایک اور اپنے سے کہیں گنا بڑے مخالف سے لڑجانے کی بھی ایسی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ مکہ سے مدینے کی ہجرت کے بعد ہندوستان سے پاکستان کی طرف دوسری بڑی ہجرت قرار پائی ۔

یقینا قوموں کی سالمیت کا دارومدار انکے نظریات پر ہوتا ہے اور نظریات کی پاسداری ملکی استحکام اور دنیا کے سامنے شناخت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہوتا ہے ۔ الحمدوللہ پاکستان دنیا کی گنی چنی نظریاتی ریاستوں میں سے ایک ہے ۔ جو قو میں اپنے نظریات سے انحراف کرتی ہیں وہ پستی کا شکار ہوتے ہوئے تاریخ کے سیاہ اندھیروں میں گم ہوجاتی ہیں ۔ ہم پاکستانیو کو آزادی کے پہلے دن سے اپنے نظرئیے سے بھٹکانے کی کوشش شروع کردی گئی جس کے لئے پہلے تو بیرونی طاقتوں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے آس پڑوس سے طرح طرح کے حربے استعمال کئے جاتے رہے ، پھر وہ وقت بھی آگیا کہ جب ہمارے ملک کے سیاستدانوں نے یہ ذمہ داری لے لی اور قوم کو الجھانے اور طرح طرح سے ڈرانے کا کام کیا جاتا رہا ، اسی اثنا ء میں وہ دور بھی شروع ہوگیا جب نا صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن کر کے رکھ دی گئیں اور مسلمان زبوں حالی کا اتنے شکار ہوگئے کہ دنیا میں مسلمان شرمندگی کی علامت بن کر رہے گئے ۔ اس برے وقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاں جہاں ممکن ہوسکا بری طرح سے پسپا کیا گیا اور نسل کشی کی طرز پر قتل و غارت کی گئی جسکے لئے من گھڑت الزامات لگائے گئے اور بدقسمتی یہ کہ اپنوں نے بھی دنیاوی طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ۔

رات اور دن کی تبدیلی قدرت نے بطور بہترین مثال روزانہ کی بنیاد پر یاد دہانی کرانے کیلئے رکھی ہے کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا ، موسم سے سمجھ لیجئے کہ کبھی راتیں بڑی ہوتی ہیں تو کبھی کے دن یعنی کبھی خوشی دیر تک رہتی ہے اور کبھی غم ۔ وقت نے ہلکا سا بدلاءو لانے کی کوشش کی مسلمانوں میں چند حکمرانوں کو یہ طاقت دی کے وہ اپنے فیصلے خود کریں اور اپنے ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں ۔ بدترین حالات میں مہاتیر محمد ، طیب اردوان نے کلمہ حق بلند کرنے کی کوشش کی جو کسی حد تک کارگر ثابت ہوئی پاکستان میں عمران خان صاحب نے تبدیلی کا نعرہ لگایا ہوا تھا جسے ان لوگوں کی پشت پناہی کی بنیاد پر کافی فروغ ملا ۔ عمران خان نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ہر ممکن کوشش کی کے ناصرف ملک میں قانون کی بالادستی کو نافذ کیا جائے بلکہ پاکستان سے بدعنوانی اور بدعنوانوں کو نکال باہر کیا جائے، پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ ارباب اختیار کو قانون کے سامنے پیش ہونا پڑے لیکن ایسا ہوا ۔ دوسری طرف امریکہ کی عالمی مداخلت میں پسپائی کا سلسلہ شروع ہوا ۔ پاکستان کی موجودہ حکومت کو دنیا میں بدلتے ہوئے طاقت کے کھیل میں حصہ لینے کا ایک بار پھربھرپور موقع ملا جس سے فائدہ اٹھانے کے اقدامات بھی اعلی سطح پر کئے گئے ، وزیراعظم عمران خان کا روس کا دورہ اس بات منہ بولتا ثبوت تھا ۔ دنیا میں تو طاقت کے توازن کا عمل شروع ہوچکا ہے لیکن اس عمل کو عدم توازن کی طرف دھکیلنے میں پاکستان کی وہ تمام سیاسی جماعتیں جو ہمیشہ سے امریکہ نواز رہی ہیں ایک طرف کھڑی ہوگئی ہیں یا شائد کھڑی کردی گئی ہیں ۔ یہ وہ سیاسی جماعتیں ہیں جنہوں نے کبھی بھی ملک کی سالمیت اور بقاء کو خاطر میں نہیں رکھا ۔ تاریخ یاد رکھے گی کہ ایک دور حکومت ایسا بھی آیا تھا کہ جس میں مہنگائی بے قابو ضرور تھی لیکن اس حکومت نے ملک کا سارا گند اور گندگی ایک جگہ جمع کردیا تھا اور ہر دیکھنے والی آنکھ دیکھ سکتی ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم عمران خان ملک کے مفاد میں ڈٹے ہوئے ہیں تو دوسری طرف ملک کو پسپائی کی دلدل میں دھکیلنے والوں کا ٹولہ ہے ۔ ہمیشہ یہ سنا ہے ، پڑھا ہے اور سمجھا ہے کہ حق رہنے کیلئے ہے اور باطل ختم ہونے کیلئے ۔ اب وقت کس کا ساتھ دینے والا یہ فیصلہ آسمانوں میں ہوچکا ہوگا ، سچائی اور آگاہی کا طوفان کہاں جا کر تھمنے والا ہے ،کیا عوام ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انکے مقدس ووٹ کیساتھ کیا کیا جارہا ہے ۔ 23مارچ 2022 قوم کو ایک بار پھر قرارداد مقاصد پیش کرنی ہوگی ،جس میں یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ مزید کسی ایسی سوچ یا نظرئے کی غلامی نہیں کرینگے جو ملک کی سالمیت کے خلاف ہو جو اسلام کے خلاف ہو جو اسلاف کے خلاف ہو ۔ اب وقت نے ثابت کرنا ہے کہ یہ قوم ، قوم بن چکی ہے یا پھر ابھی بھی ریوڑ ہی ہے ۔ ہمارا واسطہ ان لوگوں سے پڑا ہے کہ جنہیں صرف اور صرف کرسی کی پڑی ہے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • زمین بدلی ، نہ ہی آسماں بدلا
  • یہ ہے تو رب کی جانب سے
  • محبسِ خواب میں تعبیر نہیں کھلتی تھی
  • اول پوزیشن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہم اگر تیری نگاہوں پہ نہ وارے جاتے
پچھلی پوسٹ
نیند جب خواب کی زنبیل میں رکھی جائے

متعلقہ پوسٹس

ملکی سالمیت اور سیاسی انا

اپریل 3, 2022

عمران خان کے حواس پر سوار موت کا خوف

اپریل 16, 2023

سفید گھوڑا

مئی 7, 2023

کب کسی کے ہاتھ پر جاتا ہوں میں

فروری 5, 2020

اک یہ آواز ہی کانوں کے رہٹ میں پہنچی

جون 21, 2020

جو اُس کے ہونٹوں سے جھوٹا ہوا نہیں

جون 2, 2020

بارش – رحمت یا زحمت

ستمبر 17, 2025

خدا اور رسول ﷺ بننے کی کوشش نہ کرو

اپریل 26, 2025

قائد ہمیں تیری ضرورت ھے

اگست 23, 2020

میں محبت ہوں تو محبت ہے

مارچ 3, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پورا جنگل ہی اشتعال میں ہے

نومبر 14, 2021

یہ دنیا تو بس صرف ایک...

ستمبر 1, 2024

علی بزبانِ علی بن موسیٰ الرضاؑ

جنوری 1, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں