خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباروشنی کا راستہ
آپکا اردو بابااختصاریئےاردو تحاریرانور علی

روشنی کا راستہ

از انور علی اپریل 16, 2025
از انور علی اپریل 16, 2025 0 تبصرے 71 مناظر
72

میری زندگی کا سفر محرومیوں سے شروع ہوا۔
میں انور علی، ضلع لاڑکانہ کے تعلقہ قمبر کے ایک چھوٹے سے گاؤں راضی دِیرو میں 15 مارچ 1983 کو پیدا ہوا۔ راضی دِیرو ایک بہت ہی چھوٹا گاؤں تھا، صرف پندرہ گھر تھے۔ وہاں نہ کوئی سکول تھا، نہ علم کے حصول کے مواقع، اور بدقسمتی سے اندھی عقیدت کا راج تھا۔ لوگ مذہبی پیشواؤں کو اپنا مسیحا سمجھتے اور خود کو ان کے آگے جھکا دیتے۔ میں بچپن سے ہی ایسی غلامی سے نفرت کرتا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ سب انسان برابر ہیں، پھر کچھ لوگوں کو دوسروں پر فوقیت کیوں دی جائے؟

میارا خاندان بھی اسی ماحول کا حصہ تھا، لیکن میرے والد علی گوہر (اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے) اس وقت سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ وہاں رہ کر انہیں تعلیم کی اہمیت کا ادراک ہوا۔ چنانچہ انہوں نے مجھے چند رشتہ داروں کے پاس بھیجا، جو موانجودڑو کے قریب گاؤں ٻلھڑيجی میں رہتے تھے۔

میں نے 1988 سے 1998 تک اپنی ابتدائی تعلیم ٻلھڑيجی، موئن جو دڑو سے حاصل کی۔ تعلیم کے لیے مجھے اپنا گاؤں چھوڑ کر وہاں جانا پڑا، لیکن اس سے میری سوچ کشادہ ہوئی اور مجھے دنیا کو ایک نئی نگاہ سے دیکھنے کا موقع ملا۔

ٻلھڑيجی میں تعلیم کے دوران ایک المیہ پیش آیا۔ میرا پورا خاندان شیخ ذات سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ صرف بلھڑجی کے رشتہ دار ماچھی/سولنگی ذات کے تھے۔ چونکہ 1988 میں اساتذہ سرٹیفیکیٹ پر ذات درج کرتے وقت انہیں یہی ذات دکھائی دیتی تھی، میرے تعلیمی سرٹیفیکیٹ پر بھی ماچھی/سولنگی لکھا گیا۔
اس بات نے بہت سے سوالات اور بحثیں جنم دیے، اور کچھ کم فہم لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ موئن جو دڑو ہائی اسکول میں ایک استاد ہر بار کلاس میں آکر پوچھتا: "تم ماچھی ہو یا شیخ؟” اور سب ہنستے۔ ایک چھوٹا بچہ ہونے کی وجہ سے مجھے برا لگتا اور میں اسکول کم آنے لگا۔
میں آٹھویں کلاس تک ہمیشہ پوزیشن ہولڈر رہا، لیکن اس استاد کے رویے اور ذات کے سوالات نے میری پڑھائی سے دل اُٹھا دیا۔ نائن اور ٹینتھ کلاس میں میں صرف نام کا سکول جاتا رہا اور محنت ادھوری رہ گئی۔ بعد میں 2009 میں جب مجھے مکلی میں نیا موقع ملا، تو میں نے دوبارہ پوری لگن سے محنت جاری رکھی اور وہاں بھی پوزیشن ہولڈر رہا۔ میں نے اس واقعے کو ایک آرٹیکل میں تفصیل سے بیان کیا تها ۔
یہ صرف ذاتی کہانی نہیں، بلکہ ایک اہم سماجی و نفسیاتی نکتہ بھی واضح کرتی ہے: استاد کا رویہ اور معاشرتی تعصب تعلیم پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ ایک ذہین اور پسماندہ معاشرے میں ذات کی بنیاد پر تفریق طالب علم کی نفسیات کو دبا سکتی ہے، اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتی ہے اور صلاحیت کے اظہار میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

اب اس بات کا کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ مجھے سمجھ آگئی ہے کہ ذات پات کا کوئی فرق نہیں، انسان کی اصل شناخت اس کے ارادوں اور کردار سے ہوتی ہے۔

1996 میں ذات پات کے جھگڑوں کے باعث ہمارا خاندان اپنا گاؤں چھوڑ کر خیرمحمد اریجا تعلقہ باقرانی منتقل ہوا۔ اس وقت تک میں آٹھویں جماعت پاس کر چکا تھا اور محسوس کیا کہ یہاں بھی میرے رشتہ دار اور پڑوسی تعلیم سے ناواقف ہیں۔ تب میرے ذہن کا دروازہ کھلا: ہم دنیا سے کیوں پیچھے ہیں؟ بنیادی وجہ کیا ہے؟ سمجھ آیا کہ دوسری قومیں ترقی کی راہ پر ہیں کیونکہ وہ تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں۔

2003 میں میں نے سروے فیلڈ جوائن کیا۔ اس دوران میں نے بہت سے لوگوں سے ملاقات کی—کچھ مثبت سوچ کے حامل، کچھ منفی۔ پھر میں نے دنیا کو سمجھنا شروع کیا: قومیں کیسے ترقی کرتی ہیں، کامیاب لوگ کون سے اصول اپناتے ہیں، اور علم انسان کو کتنی بیداری دیتا ہے۔ میں نے موٹیویشنل کتابیں پڑھیں، رہنماؤں کی کہانیاں سنی، اور کامیاب لوگوں کے قصے سمجھنے کی کوشش کی۔
میرے خاندان میں پہلے کوئی بھی پڑھا لکھا نہ تھا۔ میں نے ٹھان لیا کہ سب سے پہلے خود کامیاب بنوں، پھر اپنے خاندان کی تعلیم کا خیال رکھوں۔ جب میرے بہن بھائیوں کے بچے چھوٹے تھے تو میں نے انہیں پڑھانا شروع کیا، حوصلہ دیا کہ بڑے خواب دیکھیں۔ اور اب 2025 تک میرا پورا خاندان تعلیم یافتہ ہو چکا ہے۔

میری بڑی بہن کے بیٹے سراج علی نے 2015 میں سندھ یونیورسٹی سے ریاضی میں داخلہ لیا اور 2020 میں گریجویشن مکمل کر کے گریڈ 14 میں پرائمری اسکول ٹیچر بنے۔
میری دوسری بہن کے بیٹے امجد علی نے 2024 میں قائدِ عوام یونیورسٹی نوابشاہ سے آئی ٹی میں گریجویشن کی اور اب زیبسٹ کالج لاڑکانہ میں عارضی استاد ہیں۔ اصغر 2025 میں گریجویشن مکمل کریں گے اور سمران بھی گریجویشن کر رہا ہے۔
میرے دونوں بیٹے بھی تعلیم کی راہ پر ہیں: عدیل احمد قائدِ عوام یونیورسٹی سے کیمیکل انجینیئرنگ کے آخری سال میں ہے، اور عادل حسین ماحولیات میں دوسرے سال میں۔

میرے ذہن میں ہمیشہ یہی خیال رہتا تھا: اگر میں خود کو بدل سکتا ہوں تو دوسروں کے لیے بھی کچھ کر سکتا ہوں۔ میں نے پڑھا تھا کہ انقلاب ہمیشہ خود سے شروع ہوتا ہے، پھر خاندان، پھر پڑوس اور اس کے بعد جہاں تک ممکن ہو۔ یہی میری چھوٹی سی کوشش ہے کہ میں کچھ الگ کروں۔
2019 میں میں نے اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ان بچوں کے لیے کچھ کرنے کا ارادہ کیا جن کے پاس نہ وسائل تھے، نہ راستہ، نہ رہنما۔ میں نے خواب دیکھا کہ ایک فاؤنڈیشن بناؤں تاکہ انہیں مفت تعلیم کے ساتھ مستقبل کے لیے حوصلہ افزائی بھی ملے۔
بدقسمتی سے کوئی مدد نہ ملی—جو لوگ وعدے کرتے تھے، وہ پورا نہیں کرتے تھے۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔ آخرکار اکتوبر 2022 میں میں نے "Growing Wings Foundation” کی بنیاد رکھی۔

شروع میں صرف میرے خاندان کے 25–30 بچے تھے، لیکن آج اپریل 2025 تک 275+ بچے اس فاؤنڈیشن سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ان میں سے صرف 15–20 بچے فیس دیتے ہیں، باقی سب کے لیے تعلیم مفت ہے۔ یہاں 130+ لڑکیاں اور 145+ لڑکے شامل ہیں۔

میرا خواب ہے کہ میں ان بچوں کے لیے روشنی کا چراغ بنوں جنہیں علم کا راستہ نظر نہ آئے۔ میں ہمیشہ محسوس کرتا ہوں کہ ہمارے گاؤں سے کوئی کامیاب ہوتا ہے تو لاڑکانہ، حیدرآباد یا کراچی چلا جاتا ہے، لیکن گاؤں کی حالت کا کون خیال کرتا ہے؟
تو یہ کوشش میں نے خود سے شروع کی۔

"اس دنیا میں آنے کا اصل مقصد دوسروں کے لیے جینا ہے۔”
میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان غریب بچوں کو ایک اچھا، باصلاحیت اور ذمہ دار انسان بناؤں جو مستقبل میں معاشرے کے لیے بہترین کردار ادا کریں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ جب نیت صاف، مقصد سچا اور ارادہ نیک ہو تو اللہ کی مدد ضرور ملتی ہے۔

"ہمت مردا، مدد خدا!”

مجھے امید ہے کہ میری انسانیت کے لیے کی گئی کوشش میں نیک دل دوست اور ہمدرد میرا ساتھ دیں گے۔

انور علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بے جا آنسو نہ اب بہا چپ کر
  • میں وہ نہیں ہوں جو
  • اختر شہاب کی کتاب
  • غلامی کا زیور
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
انور علی

اگلی پوسٹ
سعادت حسن منٹو کوئز
پچھلی پوسٹ
کہا ہے تجھ سے بارہا وجودیت

متعلقہ پوسٹس

امتحانی مراکز یا واہگہ بارڈر

جون 9, 2026

الحمد للہ

مئی 10, 2023

قصیدہ شریف

اکتوبر 12, 2025

نیند اچھی ہے کہ کچھ خواب

فروری 27, 2025

اردو نظم کے نئے آفاق

اکتوبر 28, 2020

خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی

جون 13, 2021

عجیب دن ہیں

اپریل 8, 2020

ایک ہی رہتا ہے الم صاحب

دسمبر 16, 2021

میں نہیں پوچھتا سزا کیا ہے؟

جنوری 6, 2023

پیٹرول کا نیا بوجھ – عوام کا مسئلہ

اپریل 3, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

لاکھ ناؤ نہیں کروڑ ناؤ

دسمبر 30, 2019

ناراض جیالوں کا مقدمہ

نومبر 27, 2019

تدبرِ قرآن

دسمبر 20, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں