109
غرض کے رشتے ہیں نام کی وفائیں ہیں
مطلب ہے جس سمت اس سمت کی ہوائیں ہیں
دل ہیں دھوکہ و فریب سے بھرے ہوئے
زبان پر انت الحیات کی صدائیں ہیں
قیامت تک ساتھ نبھانے کے ہیں عہد و پیماں
محبت کی کہانی میں نظر آتی جفائیں ہیں
ہر رشتہ ہے غرض کی ڈور سے بندھا ہوا
سوچتا ہے انساں, میری کیا خطائیں ہیں
ستم ڈھاؤ جس قدر چاھو اے رگِ جاں
میرے لب پہ سدا تیرے لیئے دعائیں ہیں
اسماء بتول
