124
کچھ بھی نہیں پتا مگر اتنا تو ہے پتا مجھے
دریا ہوں ریگزار سے لڑنا نہیں روا مجھے
سن تو رہی ہوں دیر سے, سرگوشیاں ہواؤں میں
اے آسمان کے خدا! کیا تو نے کچھ کہا مجھے ؟
منزل کی جستجو ہے نا کوئی ٹھکانہ یاد ہے
چاہے جدھر کو لے کے چل , ہجرت کی اے ہوا مجھے
تھوڑی تو چاک پر تری کاریگری دکھائی دے
تھوڑا تو اس زمین سے اے کوزہ گر اٹھا مجھے
اس کے قریب ہو کے بھی اس سے نہ مل سکی تھی میں
صدیوں گھسیٹتا رہا لمحوں کا فاصلہ مجھے
تھوڑا سا تیرے ہجر نے چہرہ اداس کر دیا
ورنہ مرا یقین کر کچھ بھی نہیں ہوا مجھے
مدت کے بعد آج میں پھر سے ہوں تیرے سامنے
بانہوں میں لے کے جھول جا گاؤں کی اے ہوا مجھے
فرح گوندل
