خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباطلاق اور خلع کی عدت میں فرق
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

طلاق اور خلع کی عدت میں فرق

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2022
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2022 0 تبصرے 95 مناظر
96

آٹھ جنوری کو روزنامہ ڈان میں ایک خبر شائع ہوئی۔ اخبار نے اس ہیڈ لائن کو پرکشش بنانے کے لیے صحافتی اداؤں کے عین مطابق ایسا رنگ بھرا کہ یوں لگا ہائی کورٹ نے نکاح و طلاق کے اسلامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے زنا کو حلال قرار دے دیا ہے۔ ہیڈ لائن تھی،

”عدت کے بغیر دوسرا نکاح باطل یا زنا نہیں،
لاہور ہائی کورٹ نے عدت مکمل کیے بغیر شادی کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ ”

اس ’کھمب کی ڈار‘ بناتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن نے چھ صفحات پر مشتمل فتویٰ جاری کر دیا۔ کچھ دن بعد محترم انصار عباسی نے بھی ایک کالم میں ’عدت کے اندر نکاح‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے پر مزید تنقید کی۔ رپورٹ کے مطابق ایک شخص میر بخش نے مظفر گڑھ کے جج کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت اس کی سابقہ بیوی اور اس کے نئے شوہر کے خلاف فوجداری مقدمہ کے اندراج کی درخواست خارج کردی گئی تھی۔ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ عدت کے دوران شادی کر کے زنا کے مرتکب ہوئے ہیں۔

مفتی منیب الرحمٰن نے اس موضوع پر تفصیلاً لکھا۔ لیکن بصد افسوس کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے ملک کے معروضی حالات اور دور حاضر میں عورتوں کو پیش آنے والے مسائل کا احاطہ کیے بغیر فتویٰ جاری کر دیا ہے۔

پاکستان میں طلاق اور خلع کے مسائل فقہی اور ملکی قوانین کے درمیان الجھے ہوئے ہیں۔ نتیجتاً عورتیں عدالتوں میں ذلیل و خوار ہو رہی ہیں اور معاشرہ بھی ان کو ہی برا بھلا کہتا ہے۔ اب جس عورت نے یہ شادی کی ہے اس فتوے کی روشنی میں معاشرہ اس کی شادی کو ناجائز قرار دیتے ہوئے ساری عمر زنا کا الزام لگاتا رہے گا۔

ہمارے ملک میں عام طور پر طلاق یا خلع سے بہت پہلے عورت کو ماں باپ کے گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ دونوں اطراف سے صلح اور واپسی کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔ ناکامی کی صورت میں بات طلاق کی طرف جاتی ہے یا عورت خلع کے لیے عدالت کی طرف رجوع کرتی ہے۔ بعض مرتبہ زبانی کلامی طلاق ہو بھی چکی ہوتی ہے جب عورت کی دوسری شادی کی بات بنتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ کاغذی کارروائی تو مکمل ہی نہیں کی گئی۔

طلاق کی صورت میں ’عمل درآمد سرٹیفکیٹ‘ متعلقہ یونین کونسل کی طرف سے ملتا ہے جو کہ کم از کم تین ماہ کے بعد جاری ہوتا ہے۔ اور عدت قانونی طور پر اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ خلع کی صورت میں بھی کئی ماہ یا سالوں تک عدالت میں کیس جاری رہتا ہے۔ فیصلے کے بعد بھی سرٹیفکیٹ یونین کونسل سے ہی جاری ہونا ہوتا ہے جو کہ تین ماہ سے پہلے جاری نہیں ہو سکتا۔ غور کریں ایک مطلقہ یا مختلعہ عورت کو کتنی عدتیں پوری کرنے کے بعد دوسری شادی کی اجازت ملتی ہے۔

ایک اور اہم بات جو مفتی صاحب اور دوسرے احباب بھول رہے ہیں وہ خلع کے بعد عدت کی مدت ہے۔ رسائل و مسائل میں سید ابوالاعلیٰ مودودی سے ایک سوال پوچھا گیا۔

آپ کی تصنیف ”تفہیم القرآن“ جلد اول، سورہ بقرہ، صفحہ 176 میں لکھا ہوا ہے کہ ”خلع کی صورت میں عدت صرف ایک حیض ہے۔ دراصل یہ عدت ہے ہی نہیں بلکہ یہ حکم محض استبرائے رحم کے لیے دیا گیا ہے“ ۔ الخ

سیدی نے جواب دیا،

”مختلعہ کی عدت کے مسئلے میں اختلاف موجود ہے۔ فقہا کی ایک کثیر جماعت اسے مطلقہ کی عدت کی مانند قرار دیتی ہے اور ایک معتدبہ جماعت اسے ایک حیض تک محدود رکھتی ہے۔ اس دوسرے مسلک کی تائید میں متعدد احادیث ملتی ہیں۔

ابوداؤد اور ترمذی نے ابن عباسؓ کی روایت نقل کی ہے کہ زوجۂ ثابت بن قیس کو حضورﷺ نے حکم دیا کہ
تعتد بحیضۃٍ۔
نیز ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے ربیع بنت معوذ کی ایک اور روایت اسی مضمون میں نقل کی ہے۔
حیض کا پتا صرف عورت کو ہوتا ہے اور اس عدت کا مقصد صرف یہ جاننا ہے کہ عورت حاملہ تو نہیں؟
اس عورت پر الزام لگانے والوں نے کیا یہ تحقیق کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کو ماہواری کب آئی؟

اس کیس میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ دعوی دار شخص سابقہ خاوند ہے۔ وہ مرد جس کے خلاف اس عورت نے کئی ماہ یا شاید سالوں تک عدالتوں میں دھکے کھائے ہیں۔ جب عورت اس کے ساتھ رہنے کو تیار ہی نہیں تو اس نے خود طلاق کیوں نہیں دے دی؟ خلع کے بعد بھی وہ اس کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں۔ یہ قرآنی احکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ وہ اس کی دوسری شادی کو لے کر پہلے مقامی عدالت میں گیا وہاں سے اس کے خلاف فیصلہ آیا تو ہائیکورٹ میں چلا گیا۔ اس عورت کا قصور کیا تھا؟ وہ کیوں اس کو عدالتوں میں گھسیٹ رہا ہے؟ اس ظلم کی طرف کسی کی نظر نہیں کیوں نہیں گئی؟ مناسب تو نہیں لگتا لیکن کہنا پڑتا ہے کہ مفتی منیب الرحمٰن نے شاید سورۃ بقرہ کی آیت مبارکہ نمبر 231 پر غور نہیں کیا

”اور جب عورتوں کو طلاق دے دو پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں حسن سلوک سے روک لو یا انہیں دستور کے مطابق چھوڑ دو ، اور انہیں تکلیف دینے کے لیے نہ روکو تاکہ تم سختی کرو، اور جو ایسا کرے گا تو وہ اپنے اوپر ظلم کرے گا، اور اللہ کی آیتوں کا تمسخر نہ اڑاؤ،“

پیر کرم شاہ رحمتہ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔

”گھریلو زندگی کی اہمیت کے پیش نظر ان قوانین کے غلط استعمال کرنے والوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اگر تم نے ان قواعد کی تعمیل میں تاویل سے کام لینا شروع کیا تو یاد رکھو تمہارا یہ جرم نظر انداز نہیں کیا جائے گا کیونکہ تم آیات خداوندی کا مذاق اڑا رہے ہو۔ اور یہ بڑا سنگین جرم ہے۔ اس کی سزا تمہیں بھگتنی پڑے گی۔“

کیا عدت مکمل نہ کرنے پر بدنام کرنا تاویلیں ڈھونڈنا نہیں ہے؟ کیا کسی عورت کی شادی پر زنا کا الزام لگا دینا قبیح جرم نہیں؟ کیا عدالتوں میں کیس پر کیس کیا جانا جرم نہیں؟ کب تک جاہلیت کے اطوار پر عمل کرتے ہوئے عورتوں کے نکاح کے راستے میں رکاوٹیں ڈال کر آیات خداوندی کا مذاق اڑایا جاتا رہے گا؟

ان باتوں پر مفتی صاحب اور عباسی صاحب نے کوئی فتویٰ کیوں نہیں دیا؟

آئیے ایسے مردوں کے بارے میں پیر وارث شاہ کے چند اشعار پڑھیں۔
لوک کرن وچار جوان بیٹی، اوہنوں فکر شریکاں دیاں بولیاں دا۔
چھیل نڈھڑی ویکھ کے مگر لگا، ہلیا ہویا سیالاں دیاں گولیاں دا۔
(فتوے دینے والوں کی خدمت میں۔ )
منتر مار کے کھنبھ دا کرے ککڑ، بیر نم دیاں کرے نمولیاں دا۔
وارث شاہ سبھ عیب دا رب محرم، ایویں سانگ ہے پگڑیاں پولیاں دا۔
(لوک، لوگ۔ وچار، فکر۔ اوہنوں، ان کو ۔ بولیاں، طعنے

چھیل نڈھڑی، خوبصورت لڑکی۔ ہلیا، عادی مجرم جس کی غلطیوں کو لوگ مصلحتاً معاف کر دیں۔ گولیاں، کمزور معصوم لڑکیاں۔ کھنبھ، پر ۔ ککڑ، مرغ۔ نمولیاں، نم کے سوکھے کڑوے پتے۔ سانگ، بہروپ اپنانا۔ پگڑیاں پولیاں، خالی پگڑیاں، جھوٹیاں عزتاں )

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عشق میں کچھ بھی
  • ہماری غلامی اور اقبال کی تنبیہ
  • گل سے گلزار ہو بھی سکتی تھی
  • غبار ابر بن گیا کمال کر دیا گیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
غیر جانبدار اسٹیبلشمنٹ؟
پچھلی پوسٹ
مسجود ملائک اور درد دل

متعلقہ پوسٹس

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

بھارتی لُٹیا اور بلاول بھٹو

جون 13, 2025

بات کرکے دیکھتے ہیں

جنوری 31, 2020

غمِ زندگی کا بھرم دیکھتے ہیں

نومبر 2, 2021

تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!!

مئی 5, 2020

عشق کی اقسام

دسمبر 9, 2019

لذتِ وصل سے انکار بھی ہو سکتا ہے

نومبر 11, 2021

دل کو یہ روگ تیرے لگانے سے آ لگا

ستمبر 17, 2022

بچھڑ کہ تجھ سے کہاں تک

اپریل 24, 2022

وحشتوں کا نصاب تھوڑی ہے

اکتوبر 10, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اس بار اس کے ہجرکا شکوہ...

مئی 30, 2021

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

ان صحبتوں میں آخر

مئی 21, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں