102
اے کاش کہ گزرا وقت کبھی اک بار ہمارے ہاتھ آئے
ہنستےہوئے دن پہلو میں لئے مہکی سی ملن کی رات آئے
مجھ کو بانہوں میں لے کر جب یاد کرے گزری باتیں
تو اس کی ہر اک بات میں بس میری شوخی کی بات آئے
ماضی کی جادو نگری میں اے کاش چلے جائیں پھر سے
میں گھونگھٹ کاڑھ کے بیٹھوں اور وہ لے کر پھر بارات آئے
جل تھل ہو جائیں ہم دونوں جزبات کے گزرے ساون میں
گر ہاتھ پکڑ کر ماضی کا خوشیوں سے بھری برسات آئے
وہ اپنی دنیا مان کے جب الجھی زلفیں سلجھائے گا
شاید کہ اس کی ذات کے محور میں میری بھی ذات آئے
اُس کی غفلت کو دیکھ کے میرا دل بےچین ہوا اکثر
جیون کی رام کہانی میں کچھ ایسے بھی لمحات آئے
منزّہ سیّد
