404
ہاتھ بڑھتا ہے فون کی جانب
اور میں اس کو روک لیتا ہوں
کوئی زنجیر کھل نہیں پاتی
دل کسی کام میں نہیں لگتا
کوئی آواز ڈھونڈتی ہے مجھے
پھر وہی تیز دھار نوک سعود
قاش در قاش مجھ میں پھرتی ہے
پھر وہی چھن کی آشنا آواز
بوند تپتے توے پہ گرتی ہے
کوئی لکڑی سی جیسے چِرتی ہے
رنج کے بے امان آرے پر
عمر کے آخری کنارے پر
زندگی کیسے روگ پالتی ہے
برف پر آگ دھرتی جاتی ہے
سانس میں ریت بھرتی جاتی ہے
کوئی آواز ڈھونڈتی ہے مجھے
کسی ملبے سے زندہ حالت میں
یاد آ کر مجھے نکالتی ہے
لوگ کہتے تھے زیر آب کبھی
کوئی آواز بھی نہیں آتی
دل کے گہرے سمندروں کے تلے
پھر یہ آواز کیسے گونجتی ہے
جو کہیں باز بھی نہیں آتی
سعود عثمانی
