350
گزر چکا ہے جو لمحہ وہ ارتقا میں ہے
مری بقا کا سبب تو مری فنا میں ہے
نہیں ہے شہر میں چہرہ کوئی تر و تازہ
عجیب طرح کی آلودگی ہوا میں ہے
ہر ایک جسم کسی زاویے سے عریاں ہے
ہے ایک چاک جو موجود ہر قبا میں ہے
غلط روی کو تری میں غلط سمجھتا ہوں
یہ بے وفائی بھی شامل مری وفا میں ہے
مرے گناہ میں پہلو ہے ایک نیکی کا
جزا کا ایک حوالہ مری سزا میں ہے
عجیب شور مچانے لگے ہیں سناٹے
یہ کس طرح کی خموشی ہر اک صدا میں ہے
سبب ہے ایک ہی میری ہر اک تمنا کا
بس ایک نام ہے عاصمؔ کہ ہر دعا میں ہے
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
