395
وقت کی رفتار سے آگے نکل
طے شدہ کردار سے آگے نکل
حسن کے بازار سے آگے نکل
خواہشوں کے غار سے آگے نکل
سیرت و کردار پہ لکھ داستاں
تُو لب و رخسار سے آگے نکل
آسماں جھک جائے گا تیرے لئے
سایہء دیوار سے آگے نکل
بن کے تُو انسانیت کا ترجماں
ذات کے اظہار سے آگے نکل
خوش بیانی سے دلوں کو رام کر
تلخیء گفتار سے آگے نکل
ساتھ چل حق بات کے تُو ہر جگہ
بے سبب تکرار سے آگے نکل
منزّہ سیّد
