386
بےسبب ہی بڑھائی بات اس نے
پل میں چھوڑا یوں میرا ساتھ اس نے
میرے دامن میں کچھ بچا ہی نہیں
ھائے پلٹی ہے یوں بساط اس نے
مجھ کو پرنم لگی شبِ ہجراں
جب بھی رو کے گزاری رات اس نے
آ رہا ہے جو راستہ مجھ تک
اس کو سمجھا ہے پل صراط اس نے
مجھ کو اپنا بنا کے چھوڑ دیا
مجھ سے چھینی یوں کائنات اس نے
عادتاً ہے بڑا وہ ہرجائ
مجھ سے خود ہی کہی یہ بات اس نے
اس کو غیروں نے جیت رکھا ہے
مجھ کو بخشی ہے شاہ مات اس نے
میں ہوں عورت اسی لئے شاید
مجھ کو سمجھا حقیر ذات اس نے
منزہ سید
