خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامطوائف کون؟
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریررومانہ رومی

طوائف کون؟

از رومانہ رومی جنوری 14, 2026
از رومانہ رومی جنوری 14, 2026 0 تبصرے 109 مناظر
110

جہاز کی سیٹ پر بیٹھتے ہی میں نے پشت سے ٹیک لگائی اور آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس لی۔۔۔ مستقل کام، کام اور کام نے میرے اعصاب شل کر دئیے تھے اور اِسی لیے میں اس لمبی فلائیٹ پر صرف آنکھیں موندھ کر آرام کرنا چاہتی تھی۔۔۔جس ائیر کرافٹ میں، میں سفر کر رہی تھی وہ ایک بڑی ائیر کمپنی کا کشادہ جہاز تھا اور اس کی سیٹیں بھی آرام دہ تھیں۔۔۔ جہاز کے بیچ میں چار چار اور کھڑکی کی طرف دو دو سیٹیں تھی۔۔۔ میں کھڑکی کی طرف بیٹھی تھی۔۔۔ مسافروں کی آمد جاری تھی۔۔۔ جہاز کی سبھی سیٹیں تقریباََ بھر چکی تھیں۔۔۔ یہ جہاز بنکاک سے سری لنکا کے لیے روانہ ہو رہا تھا جہاں سے آگے مجھے پاکستان کے لیے دوسرا جہاز بدلنا تھا۔۔۔ اس پوری فلائیٹ میں زیادہ تر وہ ہی لوگ تھے جن کو وہاں سے آگے جانا تھا۔۔۔ میں یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک کسی نے مجھے ہیلو کہا۔۔۔ اس سے پہلے کے میں اس کو دیکھتی یا جواب دیتی وہ میری برابر والی سیٹ پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور پھر غیر ارادی طور پر بڑی سرد مہری سے جواب دیا۔۔۔ وہ ایک تھائی لڑکی تھی۔۔۔ میں ایک سیمنار اٹینڈ کرنے تھائی لینڈ آئی تھی۔۔۔ تھائی لینڈ کے بارے میں کہانیاں تو میں پہلے ہی سن چکی تھی اور اب یہاں کچھ دنوں کے قیام نے بھی مجھے یہ بات باور کروا دی تھی کہ بنکاک کی معیشت عورتوں کے ہاتھوں میں ہے۔۔۔ میں ایک مسلمان باپردہ خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون تھی جس کے لیے بنکاک جیسے شہر میں اکیلے آنا اور اتنے دن قیام کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔۔۔ یہاں کا ماحول اور کلچر بھی ہماری تہذیب سے جدا تھا مگر جس سیمنار میں مجھے دعوت دی گئی تھی وہ آگے میرے مستقبل کے لیے کافی اہمیت کا حامل تھا اور پھر میری رہائش سے لے کر مجھے واپس جہاز تک پہنچانا بھی میرے میزبان کی ہی ذمہ داری تھی سارے وسائل میسر تھے۔۔۔ سو گھر والوں کو منانا آسان ہو گیا۔۔۔ سیمنار ختم ہونے کے بعد میزبانوں نے ہمیں ایک پورا دن بنکاک کی سیر بھی کروائی بس اِسی بہانے مجھے شہر دیکھنے کا موقع مل گیا اور پھر وہ ساری باتیں جو آج تک صرف سُنی تھی اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لی۔۔۔ پورے شہر میں عورتوں اور لڑکیوں کا راج تھا۔۔۔ ہر کاروبار عورت کے ہاتھوں میں تھا یہاں تک کے دکانوں کی سیلز گرل سے لے کر ہوٹلز کے کاونٹرز پر بھی خوبصورت نازک نازک سی کم عمر لڑکیاں ہی نظر آئیں۔۔۔ مرد زیادہ تر رکشا۔۔۔ بسیں۔۔۔ ٹیکسی۔۔۔ وغیرہ چلانے اور دوسرے محنت طلب کاموں میں مصروف نظر آئے۔۔۔ وہاں مجھے کہیں بھی کوئی بچہ کام کرتے ہوئے دیکھائی نہ دیا تھا۔۔۔ شام کوپانچ بجے کے بعد ہی میں نے اسکول کے کپڑوں میں بچوں کو ان کی ماؤں کے ساتھ دیکھا تھا سو یہ بات یقینی تھی کہ یہاں ہر بچہ تعلیم حاصل کرنے کا پابند تھا۔۔۔ چائڈ لیبر کا یہاں کوئی تصور دیکھائی نہ دیا تھا۔۔۔ تھائی لینڈ کے دارلحکومت بنکاک شہر کی ہر شاہراہ ہر گلی ہر کونے کو بہت خوبصورتی اور توجہ سے سجایا اور سنوارا گیا تھا کیوں کہ یہاں سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد سارا سال موجود رہتی ہے۔۔۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ غیرملکی سیاحوں کی یہاں آمد تھائی لینڈ کی معیشت کو بڑا سہارا فراہم کرتی ہے۔۔۔ ہر چیز میں صفائی ستھرائی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔۔۔ ساری باتیں اور خوبیاں ایک طرف مگر مَیں خود کو اپنے خاندانی اور اعلیٰ حسب نسب کی وجہ سے تھائی خواتین کی نسبت بلند

(۲)
سمجھتی تھی۔۔۔ سو اپنے برابر بیٹھنے والی تھائی لڑکی کو میں نے بری طرح نظر انداز کر دیا۔۔۔ اور اپنی سیٹ پر سمٹ کر بیٹھ گئی۔۔۔ وہ غرور جو مجھے اپنی ذات پر تھا۔۔۔ اس نے مجھے تھائی لڑکی سے اچانک صدیوں کی دوری پرلا کھڑا کیا تھا۔۔۔ اسے اپنے برابر کا انسان بھی تصور کرنا شاید مجھے ذہنی طور پر منظور نہ تھا۔۔۔ مگر حالات کی مجبوری کہ یہ سفر مجھے اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے طے کرنا تھا۔۔۔ پائلٹ نے جہاز میں مسافروں کو خوش آمدید کہتے ہوئے جہاز کی روانگی کا اعلان کیا اور سب مسافر اپنی اپنی سیٹ بیلٹ باندھ کر سیدھے بیٹھ گئے۔۔۔ ایک مخصوص بلندی پر جاکر جہاز سیدھا ہوا اور پھر سے جہاز میں ہلکی ہلکی باتوں اور فضائی میزبانوں کی چہل پہل شروع ہو گئی۔۔۔ میں نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاکر اپنی آنکھیں موند لی۔۔۔ تقریباََ پندرہ یا بیس منٹ بعد کسی نے مجھے ایکسوزمی کہتے ہوئے ہلکے سے چھوا۔۔۔میں نے نیند میں ڈوبی ہوئے آنکھوں کو دھیرے سے کھولا۔۔۔ تھائی لڑکی مسکرائی اور سامنے کھڑی ہوئی ائیر ہوسٹس کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ جو مجھ سے کھانے کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔۔۔ میں نے اسے اپنی پسند بتائی اور پانی مانگا۔۔۔ پانی پی کر مَیں نے کھانے کی طرف دیکھا تو مجھے یاد آیا کہ مَیں نے کافی دیر سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا سو مَیں مزیدار کھانے سے انصاف کرنے میں مگن ہو

گئی۔۔۔ میں اپنے برابر والی لڑکی کو ایک دم بھول چکی تھی کہ اس نے پوچھا۔۔۔
’ You Pakistani? Are‘

میں نے بغیر اس کی جانب دیکھے کہا۔۔۔
’Yes‘۔۔۔

شاید اس نے میرے لباس سے اندازہ لگایا تھا مجھے حیرت ہوئی کہ یہ لباس تو انڈین اور بنگلہ دیشی لڑکیاں بھی پہنتی ہیں۔۔۔شاید میرا صاف رنگ اور اونچی قدوقامت سے اس نے اندازہ لگا لیا تھا۔۔۔ اب کی بار وہ ٹوٹی پھوٹی اردو میں بولی۔۔۔
’آپ بھی پاکستان جارہی ہیں؟‘۔۔۔

میں نے چونک کر اس کی جانب دیکھا اور حیرت سے پوچھا۔۔۔
’ آپ کو اُردو آتی ہے؟‘۔۔۔

وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔
’جی میں پانچ سالوں سے پاکستان میں جاب کر رہی ہوں۔۔۔ بس کچھ کچھ سیکھ ہی لی ہے‘۔۔۔

میں نے اب غور سے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔
’آپ پاکستان میں جاب کرتیں ہیں ۔۔۔مگر کیا جاب کرتیں ہیں آپ؟‘۔۔۔

اس کی وضع قطع اس بات کی طرف اشارہ کر رہی تھیں کہ وہ کوئی خاص پڑھی لکھی خاتون نہیں تھی اور نہ ہی اس کے جسم پر ایسا لباس تھا جو
(۳)

اس کی امارت کو ظاہر کرتا۔۔۔ تو پھر وہ پاکستان میں کس قسم کی نوکری کر رہی تھی۔۔۔ میرے چہرے کے تاثرات سے اس نے میری الجھن کا پتا لگا لیا تھا۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔
’میں کراچی کے ایک بڑے اور مشہور مساج پارلر میں کام کرتی ہوں۔۔۔ آپ کو شاید یہ بات معلو م ہو گی کہ تھائی مساج دنیا بھر میں مشہور ہے اور اس سے کئی طرح کی بیماریوں کا علاج بھی کیا جاتا ہے جو ریڑھ کی ہڈی سے لے کر آپ کے جوڑوں کے درد تک کونا صرف دور کرتا ہے بلکہ آہستہ آہستہ آپ کو اس تکلیف سے مکمل نجات بھی دلاتا ہے‘۔۔۔

اس نے ایک ہی سانس میں اپنا مکمل تعارف میرے سامنے پیش کر دیا۔۔۔ میں نے حقارت بھری نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
’او! تو آپ ایک مساج کرنے والی خاتون ہیں‘۔۔۔

میرے لب و لہجہ کے طنز کو محسوس کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں ایک رنگ سا آکر گزر گیا۔۔۔
’جی‘۔۔۔

اس نے دھیمے سے لہجے میں جواب دیا۔۔۔
مجھے دل ہی دل میں اپنے اس رویے پر شرمندگی سی محسوس ہوئی۔۔۔وہ بڑے تحمل سے میری بات برداشت کرتے ہوئے دوبارہ مسکرائی اور بولی۔۔۔

’ آپ کو ہمارا ملک کیسا لگا‘۔۔۔
میں جو پہلے ہی اس کے کام کے بارے میں جان کر دل ہی دل میں وہ سب باتیں یاد کر رہی تھی جو اس قسم کی خواتین کے بارے میں مشہور تھی اور اب جبکہ میں اس کے شہر میں گھوم بھی چکی تھی اور اس بات سے آگاہ بھی ہو گئی تھی کہ اِن کی پوری معیشت پرخواتین کا راج تھا جو بغیر کسی شرم و جھجک کے وہ سارے ہی کام کر رہی تھیں جن کا پاکستان جیسے اسلامی ملک میں تصور بھی ناپید تھا۔۔۔ پھر بھی اس کا دل رکھنے کے لیے میں بولی۔۔۔

’ہاں! میں نے بس ایک ہی دن آپ کے شہر بنکاک کی سیر کی ہے۔۔۔ مگر مجھے یہ دیکھ کر اچھا لگا ہے کہ آپ لوگوں نے اِس کو بہت صاف ستھرا اور سجا سنوار کر رکھا ہے مجھے کہیں بھی کسی قسم کی بھی بدنظمی نظر نہیں آئی۔۔۔سڑکیں صاف۔۔۔ کشادہ۔۔۔ اسڑیٹ لائٹ روشن شہر کا ماحول پرسکون۔۔۔۔ چائیلڈ لیبر 0% ۔۔۔ مگر ہاں چونکہ بنکاک ایک زمانے سے جسم فروشی کے حوالے سے بدنام رہا ہے۔ جس کی جھلک آپ لوگ کی نائٹ لائف میں اب بھی صاف نظر آ تی ہے۔۔۔ شاید آپ کی اکانومی کا دارومدار اب بھی سیاحت سے زیادہ جسم فروشی پر ہے‘۔۔۔
(۴)

میرے الفاظ سادہ ضرور تھے مگر ان کی کاٹ اس کے چہرے پر پڑھی جا سکتی تھی۔۔۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور میری جانب دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
’جی جانتی ہوں کہ تھائی خواتین اپنی اس بات کے لیے دنیا بھر میں بدنام ہیں مگر آپ اس بارے میں کچھ نہیں جانتی اسی لیے شدید غلط فہمی کا شکار ہیں‘۔۔۔

میں نے حیرت سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
’کیا مطلب؟ کیسے؟‘۔۔۔

وہ میرے سوال پر مسکرائی اور اعتماد سے بولی۔۔۔
’ہاں! ہم بدنام ضرور ہیں مگر ہمیں ناز ہے کہ ہم وہ قوم ہیں جن کی ماؤں۔۔۔ بہنوں۔۔۔ اور بیٹیوں نے اپنے ملک و قوم کوغربت۔۔۔

افلاس۔۔۔ ناخواندگی۔۔۔ اور کم ملکی وسائل جیسی لاتعداد خامیوں سے۔۔۔ دور کر نے اور اپنے ملک کو سنوارنے ۔۔۔اپنی آنے والی نسلوں کو ایک مضبوط اور مستحکم قوم بنانے اور اپنے ملک کو ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں کھڑا کر نے کے لیے اپنے آپ کو قربان کر دیا۔۔۔۔ مگر یہ بات پوری دنیا جانتی ہے اور اب مان بھی گئی ہے کہ ہمارا اصل کام مساج کرکے لوگوں کی تکالیف کو کم کرنا اور انہوں دیسی طریقہِ علاج سے ٹھیک کرنا ہے۔۔۔ آج دنیا بھر میں تھائی مساج کے ذریعے لوگ اپنا علاج کر واتے ہیں۔۔۔ اور ہمارے اسپشل جڑی بوٹیوں سے بنے ہوئے مختلف تیلوں کی نیا بھر میں مانگ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔۔۔ ہم نے اپنی محنت۔۔۔ اور لگن سے نہ صرف اپنے ملک و قوم کو سنوارا ہے بلکہ دنیا پر یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ ہم ایک محنتی اور جفاکش قوم ہے ہم نے اپنی صنعتوں کو ترقی دی اور سیاحت کو فروغ دیا ہے اور اب ہمیں اطمینان ہے کہ ہم نے اپنے مستقبل کو محفوظ کر لیا ہے۔۔۔ ہم نے اپنے ملک کی ترقی کے لیے جو کچھ بھی کیا ہمیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں بلکہ فخر ہے اور اب امید ہے کہ ہمارا ملک تھائی لینڈ بھی بہت جلد ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں شامل ہو جائےگا۔۔۔ اگر عقل کی آنکھوں سے پرکھو گی تو جان پاؤگی کہ اس وقت جب ہمارے پاس کچھ نہیں تھا جب ہماری عورتوں نے دن رات مساج سے علاج کے پرانے طریقوں کو کیسے نئے انداز میں ڈھالا۔۔۔ ان کی رات دن کی قربانیوں نے ہماری پوری قوم کو اس دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے کا ہنر سیکھا دیا ہے۔۔۔آپ کے لیے وہ طو ائفیں ہو سکتی ہیں مگر ہمارے لیے وہ عظیم خواتین ہیں‘۔۔۔
شدت جذبات سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔۔۔ اس نے سامنے رکھا ہوا پانی کا گلاس اٹھایا اورایک ہی سانس میں سارا پانی پی گئی۔۔۔ میں نے طنز یہ لہجے میں کہا۔۔۔

’یعنی تمھارا مطلب ہے کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن کی عورتوں اپنے آپ کو بیچ دیں؟‘۔۔۔
(۵)

اس نے ملامت بھری نظر وں سے مجھے دیکھا اور بولی۔۔۔
’غلط!۔ بالکل غلط۔۔۔ معاف کیجئےگا۔۔۔ آپ کی سوچ بہت معمولی اور سطحی ہے۔۔۔ آپ نہیں جانتی کہ پوری دنیا میں شاید ہی کوئی جگہ ایسی ہو جہاں عورتوں کی جسم فروشی کی گنجائش نہ ہو۔۔۔ مگر قوموں کی ترقی کا راز عورتوں کی جسم فروشی پر نہیں بلکہ اپنے ملک سے محبت۔۔۔ اپنے لوگوں سے محبت اور سب سے زیادہ۔۔۔ اپنے آپ سے مخلص ہونے اور محبت کرنے سے ہے۔۔۔کیوں کہ جس قوم میں یہ تینوں صفت ہوگی وہی ملک ترقی کرےگا‘۔۔۔

ایک لمبا سانس لینے کے بعد وہ پھر سے بولی۔۔۔
’برا نہ مانیں تو آپ سے ایک بات کہوں‘۔۔۔

میں جو گم صم بیٹھی اُس کی باتوں پر غور کر رہی تھی چونک گئی کہ جس کو مَیں جاہل اور عام سے عورت سمجھ رہی تھی اس نے مجھے اور میری سوچ کو ایک نیا زاویہ دیا۔۔۔ اس کے لب و لہجے نے مجھے اندر تک سہما سا دیا تھا مَیں نے آہستہ سے سر کے اشارے سے اُس کو اپنی بات کہنے کی اجازت دی۔۔ وہ دھیرے دھیرے بولی۔۔۔
’اگر آپ کے پاس کچھ وقت ہو تو اِن باتوں پر ضرور غور کیجئےگا کہ آپ کے ملک میں لاتعداد وسائل ہونے کے باوجود آپ کے ملک کا ہر شہری بین الاقوامی قرضوں کے بوجھ تلے کیوں دبا ہوا ہے؟۔۔۔ ملک میں جمہوری حکومت کے ہوتے ہوئے بھی امن و امان کیوں نہیں؟۔ عورتوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ دینے والے ہی ان کو زندہ جلا کر کیوں مار ڈالتے ہیں؟۔۔۔ ایک ہی مذہب کے پیرو کار ہونے کے باجودہ آپ لوگوں کی عبادت گاہیں کیوں محفوظ نہیں؟۔۔۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود بھی آپ کا کسان بھوک اور غربت کی سب سے نچلی سطح پر کیوں ہے؟۔۔۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی اور قدرتی مناظر سے مالا مال ہونے کے باجود سیاح آپ کے ملک کا رُخ کیوں نہیں کرتے؟۔۔۔ یہ تو بس چند موٹی موٹی با تیں ہیں اگر غور کریں گی تو اندازہ ہوگا کہ آپ کے ملک کے نام نہاد عزت دار سیاسی رہنماؤں۔۔۔ مذہبی پیشواؤں۔۔۔ افسرِشاہی۔۔۔ اور تمام صاحبِ اختیار نے عوام کو قومیتوں۔۔۔

صوبوں۔۔۔ زبانوں۔۔۔ اور فرقوں میں بانٹ دیا۔۔۔ اور آپ کی پوری قوم اور ملک کو ترقی کی جانب گامزن کرنے کے بجائے بیچ کھایا ہے اور کھا رہے ہیں۔۔۔ طوائف کے بارے میں عمومی طور پر یہی رائے پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی اداؤں سے نخروں سے اور جسمانی نشیب و فراز سے تماش بین کو لوٹتی ہے اسی تعریف کے پس منظر میں اگر آپ غورکریں تو آپ کو اس بات کا احساس ہوگا کہ اصلی ‘۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتی جہاز کے پہیوں نے زمین کو چھوا۔۔۔ اور ایک جھٹکا سا محسوس ہوا مگر جہاز کا یہ جھٹکا اس لڑکی کی باتوں

(۶)
کے جھٹکوں کے آگے مجھے بہت معمولی سا محسوس ہوا۔۔۔ جہاز کے رکتے ہی ایک افراتفری سی مچ گئی وہ بھی کھڑی ہوئی اور اپنا سامان نکالنے لگی اس سے پہلے کے وہ باہر کی جانب بڑھتی مَیں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔وہ میرا سوال سمجھ نہ پائی۔۔۔ میں نے ہلکے سے کہا۔۔۔ ’اپنا جملہ مکمل کرو‘۔۔۔

وہ سوچتے ہوئی بولی۔۔۔ ’کون سا جملہ‘۔۔۔
میں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔۔۔ ’اصلی ۔۔۔کے آگے تم کیا کہنا چاہتی تھیں‘۔۔۔

وہ طنزیہ انداز میں ہنسی اپنے کاندھوں پر بیگ لٹکایا اور مڑ کر بولی۔۔۔
’اصلی طوائف کون ہے‘؟؟؟۔۔۔

رومانہ رومی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ذوق کی قصیدہ نگاری
  • ولی دکنی اُردو غزل کا باوا آدم ؟
  • عورت گھوڑا اور مرد
  • جذبات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
رومانہ رومی

اگلی پوسٹ
ایران کے حالات
پچھلی پوسٹ
آدھی عورت آدھا خواب

متعلقہ پوسٹس

ایک بند کمرہ

جنوری 16, 2026

دلکش لگیں جناب، بلوچی لباس میں

دسمبر 8, 2025

شک کا بیج

جولائی 31, 2022

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

احساس محرومی

جنوری 12, 2026

ضرورتاں دے پیالیاں وچ

اپریل 3, 2026

ایک قبر کی فریاد

جنوری 20, 2020

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

بہروپیا

جنوری 12, 2020

ناراض جیالوں کا مقدمہ

نومبر 27, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ژالہ باری کی رات اور پِرجا...

فروری 19, 2020

ان صحبتوں میں آخر

مئی 21, 2024

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں