113
بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ
سو دل بھی بیٹھتا جاتا ہے اب غبار کے ساتھ
پٹخ چکی ہے مری ناؤ کو چٹان مگر
میں گر رہا ہوں ابھی تک اس آبشار کے ساتھ
شجر کا راج نہ تھا ابر کا رواج نہ تھا
پھر ایک پھول ملا باد ریگ زار کے ساتھ
کسے خبر کہ نوالہ ہے کس اندھیرے کا
جو خواب دیکھتا ہوں چشم آب دار کے ساتھ
سفر کیا تھا کسی اور زندگی کے لیے
مگر پلٹنا پڑا شام انتظار کے ساتھ
کسی مدار کے دھوکے میں بے خبر شارقؔ
الجھ رہے ہیں ستارے مرے حصار کے ساتھ
سعید شارق
